حضرت عائشہ صدیقہؓ کی جانب مبارک کے چار واقعات بے حد اہم ہیں۔ افک، ایلاء،تحریم و تخییر
(۱) افک کا واقعہ یوں پیش آیا کہ غزوہ بنو مصطلق کے سفر میں حضرت عائشہ صدیقہؓ حضور
کے ہمراہ تھیں۔ راستے میں ایک جگہ رات کو قافلے نے قیام کیا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ رفع حاجت کے
لیے پڑاؤ سے دور نکل گئیں، وہاں ان کے گلے کا ہار جو وہ اپنی بہن حضرت اسماءؓ سے مانگ کر لائی
تھیں، بے خبری کے عالم میں گر گیا، واپسی پر پتہ چلا تو بہت مضطرب ہوئیں، پھر اسی سمت واپس
لوٹیں، خیال کیا کہ قافلے کے جانے سے پہلے ہار ڈھونڈ کر واپس پہنچ جائیں گی۔ جب ہار ڈھونڈ کر
واپس پہنچیں تو قافلہ روانہ ہو چکا تھا۔ بہت گھبرائیں، نا تجربہ کاری کی عمر تھی ۔ چادر اوڑھ کر وہیں
لیٹ گئیں، حضرت صفوان بن معطلؓ کی انتظامی ضرورت کے سلسلے میں قافلے سے پیچھے رہ گئے
تھے، انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو پہچان لیا کیونکہ بچپن میں (نزولِ حجاب سے پہلے)
انہیں دیکھا ہوا تھا، ان سے پیچھے رہ جانے کا سبب پوچھا۔ جب واقعہ معلوم ہوا تو بہت ہمدردی کی
پھر ام المؤمنین کو اونٹ پر بٹھا کر عجلت سے قافلے کی طرف روانہ ہوئے اور دوپہر کے وقت قافلے
میں جا ملے ۔ مشہور منافق عبداللہ بن ابی کو جب اس واقعہ پتہ چلا تو اس نے حضرت صدیقہؓ کے
متعلق مشہور کر دیا کہ وہ اب با عصمت نہیں رہیں۔ چند سادہ لوح مسلمان بھی غلطی میں مبتلا
ہو ئی جناب رسالت مآب کو بھی قدرتا شدید تشویش پیدا ہوئی اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کی ماں کی
بدنامی کے صدمے سے بیمار ہو گئیں۔ اس وقت غیرتِ الٰہی جوش میں آئی اور آیتِ براءت
نازل ہوئی:
لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ
خَيْرًا وَقَالُوا هَٰذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ ہ (النور: ۱۲)
“جب تم نے یہ سنا تھا تو مومن مردوں اور عورتوں کی نسبت نیک گمان کیوں نہیں کیا اور
کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح تہمت ہے۔”
آیتِ براءت کے نزول سے دشمنوں کے منہ سیاہ ہو گئے اور سادہ لوح مسلمان جو
غلط فہمی کا شکار تھے سخت شرمندہ ہوئے۔ انہوں نے نہایت عاجزی سے اللہ اور اللہ کے رسول سے
معافی مانگی۔ حضرت عائشہؓ اور ان کے والدین کو شدید رنج کے بعد مسرت ہوئی، عائشہ صدیقہؓ کا مرتبہ
بلند ہو گیا۔ انہوں نے فرمایا میں صرف اپنے اللہ کی شکر گزار ہوں اور کسی کی ممنون نہیں۔
کتاب : #تذکار صحابیات
طالب #ہاشمی
#اللهم صل و سلم و بارك على سيدنا و حبيبنا محمد و على آله وصحبه اجمعين
#share
#page
#alfalahstudycentre
#followers
![]()

