وتر کی غیرت اور انسان کی لغزش
آدم، درخت اور عدد کی رمز
تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم )کیا ہوا تھا جنت میں؟ ایسی کیا لغزش تھی کہ آسمانی سکون سے زمین کی مشقت تک سفر طے ہوا؟
آدم اور حوا جنت میں تھے اور جنت، جیسا کہ قرآن مجید بیان کرتا ہے، محض ایک باغ نہیں بلکہ ایک حالت ہے؛ ایک ایسا مقام جہاں حکم اور اطاعت کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ”
اس درخت کے قریب بھی نہ جانا۔
یہاں سوال درخت کا کم، حکم کا زیادہ ہے۔
مسئلہ پھل کا کم، اختیار کا زیادہ ہے۔
درخت کون سا تھا؟
کچھ مفسرین نے کہا: انجیر۔
کچھ نے کہا: گندم۔
اگر گندم تھی، تو وہ کھیت کی فصل ہے، باغ کا درخت نہیں۔
گندم کو اگانے، پیسنے، گوندھنے اور پکانے میں محنت ہے۔
اور جنت تو راحت کا مقام ہے، مشقت کا نہیں۔
اگر انجیر تھی تو اس کے اندر بے شمار بیج ہوتے ہیں۔
ہر بیج ایک امکان، ایک نسل، ایک شجرۂ نسب کی ابتدا۔
یہاں تدبر رک کر سوچنے کو کہتا ہے:
کیا وہ درخت “کثرت” کی علامت تھا؟
کیا وہ وحدت سے کثرت کی طرف پہلا قدم تھا؟
جنت: مقام یا مزاج؟
جنت صرف باغ نہیں۔
جنت وہ کیفیت ہے جہاں انسان حکم کے اندر رہتا ہے۔
جیسے ہی حکم ٹوٹا،کیفیت بدل گئی۔
جنت زمین میں تبدیل ہو گئی۔
زمین کیا ہے؟
سبب اور نتیجہ کی دنیا۔
جہاں بیج بوؤ گے تو فصل اگے گی۔
جہاں آگ جلاؤ گے تو روٹی پکے گی۔
جہاں محنت کرو گے تو رزق ملے گا۔
جنت میں یہ سب “کن” سے تھا۔
زمین میں “کوشش” سے ہے۔
عدد کی رمز: ایک، دو، اور تین…….
اللہ وتر ہے۔
وہ ایک ہے۔
وہ یکتا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ اس کے سوا ہر چیز جوڑے میں ہو:
آسمان و زمین۔
دن و رات۔
نر و مادہ۔
آدم اور حوا دو تھے….. یعنی جفت۔
لیکن جب ممنوعہ درخت کا ذائقہ چکھا، تو گویا “تیسرا امکان” پیدا ہوا: نسل۔
“تین” ہمیشہ کثرت کی ابتدا ہے۔
ایک وحدت ہے۔
دو توازن ہے۔
تین پھیلاؤ ہے۔
اور پھیلاؤ زمین کی صفت ہے، جنت کی نہیں۔
قرآن کہتا ہے کہ انہوں نے اپنے اوپر جنت کے پتے ڈالنے شروع کیے۔
یہ محض جسم ڈھانپنا نہیں تھا۔ یہ شعور کا بیدار ہونا تھا۔
یہ معصومیت سے ذمہ داری تک کا سفر تھا۔
انجیر کے پتے بڑے ہوتے ہیں، ڈھانپ سکتے ہیں۔
گندم کے نہیں۔
لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ پتا کس کا تھا۔
اصل سوال یہ ہے کہ پردہ کیوں آیا؟
گناہ انسان کو خود سے بھی چھپا دیتا ہے۔
وہ خود کو بھی ڈھانپنے لگتا ہے۔
وتر کی غیرت
اللہ وتر ہے۔
وہ یکتا ہے۔
حدیث میں آتا ہے:
“اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔”
وہ اپنی وحدانیت میں شریک برداشت نہیں کرتا۔
تکبر اس کی چادر ہے. جو اس چادر کو اوڑھنے کی کوشش کرے، وہ گرایا جاتا ہے۔
یہاں ایک لطیف نکتہ ہے:
آدمؑ کا گناہ تکبر نہیں تھا، وہ بھول تھی۔ اسی لیے توبہ قبول ہوئی۔
زمین سزا بھی ہے اور موقع بھی۔
یہ جلاوطنی بھی ہے اور خلافت بھی۔
زیتون کی رمز…….
زیتون کو قرآن میں مبارک کہا گیا ہے.
اس کے اندر ایک گٹھلی ہے۔
ایک مرکز۔
ایک سخت بیج جو اندر چھپا ہوتا ہے۔
انجیر کثرت کی علامت ہو سکتی ہے،
زیتون مرکزیت کی۔
انسان انجیر کی طرح پھیل گیا،
مگر اسے زیتون کی طرح اپنے مرکز کی طرف لوٹنا ہے.
اصل مسئلہ کیا تھا؟
درخت نہیں۔
پھل نہیں۔
عدد نہیں۔
اصل مسئلہ “قربِ ممنوع” تھا۔
حد کے قریب جانا۔
اللہ نے کہا: قریب بھی نہ جانا۔
انسان قریب گیا۔
اور یہی انسان کی فطرت ہے:
حد کو چھونا۔
اور پھر زمین پر اترنا……
یہ محض اتار دینا نہیں تھا۔ یہ ذمہ داری سونپنا تھا۔
جنت میں اطاعت آسان تھی۔ زمین پر اطاعت اختیار سے ہوگی۔
وہاں پھل خود جھک جاتے تھے۔ یہاں بیج بوئے جائیں گے۔
وہاں شرم شعور سے پہلے تھی۔ یہاں شعور شرم کو پیدا کرے گا۔
اللہ وتر ہے۔
وہ ایک ہے۔
اس کے سوا سب کو جوڑے میں رکھا گیا ہے۔
انسان جب خود کو “ایک” سمجھنے لگے ، جب وہ اپنی انا کو خدا کے مقابل کھڑا کرے تو اسے زمین کی مشقت میں بھیجا جاتا ہے۔
جنت سے زمین کا سفر دراصل انا سے بندگی کا سفر ہے۔
اور شاید اسی لیے ہم سب ابھی تک اپنے اندر کے درخت کے گرد گھوم رہے ہیں۔
#مقیتہ وسیم
#مقیتہ_وسیم
#تدبر_قرآن
#آدم_و_حوا
#شجرہ_ممنوعہ
#وتر
#وحدت_اور_کثرت
#روحانی_تحقیق
#قرآنی_رموز
![]()

