Daily Roshni News

وزارت خارجہ ترکیے کی جانب سے ایک سخت بیان جاری کیا گیا ہے، جو اسرائیلی وزیرِاعظم نتن یاہو کے سوشل میڈیا بیان کے ردِعمل میں سامنے آیا ہے۔

وزارت خارجہ ترکیے کی جانب سے ایک سخت بیان جاری کیا گیا ہے، جو اسرائیلی وزیرِاعظم نتن یاہو کے سوشل میڈیا بیان کے ردِعمل میں سامنے آیا ہے۔

انقرہ، ترکیے(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔نمائندہ خصوصی،  سید رضوان حیدر بخاری )11 اپریل 2026 کو جاری کیے گئے اس بیان میں نیتن یاہو کو انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ International Criminal Court نے جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات پر ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں، اور ان کی حکومت کو بین الاقوامی قانون کے تحت جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

بیان کے مطابق نیتن یاہو خطے میں جاری امن کوششوں کو نقصان پہنچانے اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یہ رویہ جاری رہا تو مزید قانونی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ترکیے نے صدر رجب طیب اردوان کے خلاف دیے گئے بیانات کو بھی گمراہ کن اور توہین آمیز قرار دیا ہے، اور اسے اسرائیلی حکام کی بڑھتی ہوئی بے چینی کا اظہار کہا ہے۔

ترکیے اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ اُس وقت دیکھنے میں آیا جب نتن یاہو نے سوشل میڈیا پر صدر ایردوان کے خلاف سخت بیانات جاری کیے۔

ایک پوسٹ میں نیتن یاہو نے کہا:

“میری قیادت میں اسرائیل ایران کے دہشت گرد نظام اور اس کے اتحادیوں کے خلاف لڑتا رہے گا، جبکہ اردوان ان کی مدد کرتا ہے اور اپنے کرد شہریوں کو قتل کرتا ہے۔”

ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا:

“اسرائیل ایران کے دہشت گرد نظام کے خلاف لڑتا رہے گا، جبکہ اردوان ان کو سہولت فراہم کرتا ہے اور اپنے ہی کرد شہریوں کا قتل عام کر چکا ہے۔”

ترکیے نے مزید کہا کہ اس قسم کی بیان بازی خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کرتی ہے۔

انقرہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مظلوم شہریوں کی حمایت جاری رکھے گا اور بین الاقوامی قانون کے تحت انصاف کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

Loading