وقت سائنس ، کوانٹم فزکس اوور روحانی علوم کی روشنی میں
قسط نمبر3
ہالینڈ(دیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ وقت سائنس ، کوانٹم فزکس اوور روحانی علوم کی روشنی میں )اہل روحانیت ان ٹائم زون کو درج ذیل تین حصوں میں متعارف کراتے ہیں۔1- زمان حقیقی Real Time2 زمان غیر متواتر Non Serial Time 3 زمان متواتر Serial Timeشاہ ولی اللہ ان تین زمانوں کو زمان سرمدی، زمان و ہری اور زمان لیل و نہار کا نام دیتے ہیں۔ مشرق کے ممتاز فلسفی اور شاعر علامہ اقبال نے بھی وقت کے اسرار ورموز پر غور کیا۔ اقبال کے کلام جاوید نامہ میں کئی فارسی اشعار وقت کے بارے میں غور فکر کی شہادت دے رہے ہیں۔ اقبال نے اسرار خودی میں یہ بھی کہا کہ وقت گردش خورشید سے پیدا نہیں ہوتا کیونکہ خورشید فانی ہے اور وقت جاویدانی ہے۔ وقت کے بارے میں اپنے ایک تصور کو علامہ اقبال نے ان اشعار میں پیش کیا ہے فریب نظر ہے سکون و ثباتترپتا ہے ہر ذرہ کائناتشہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظہ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیپیائی وقت Serial Time اور غیرپیاسی وقت Non Serial Time) علامہ اقبال کی سوچ کا اظہار ان اشعار میں ہو رہا ہے۔ تیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیا ایک زمانے کی رو، جس میں نہ دن ہے نہ رات اس طرف اقبال کا یہ شعر بھی ایک اشارہ ہے زمانہ ایک حیات ایک کائنات بھی ایک دلیل کم نظری قصه جدید و قدیم
اپنے تحقیقی مقالے میں اقبال نے اس موضوع پر ان الفاظ میں اظہار خیال کیا ہے۔”
To exist in real time is not to be bound by the fetters of serial time, but to create it from moment to moment and to be absolutely free and original in creation, in fact all Creative activity as Free Activity”(The Reconstruction of Reli- gious Thought in Islam)”
خالص وقت میں رہنے کے معنی ہیں پیچانتی وقت کی زنجیروں سے آزاد ہونا اور لمحہ بہ لمحہ تخلیق میں مصروف رہنا اور اپنی تخلیق میں آزاد اور تازہ کار ہونا۔ در حقیقت تمام تخلیقی عمل آزاد عمل ہے۔“ عصر حاضر کے صوفی بزرگ اور روحانی مفکر حضرت محمد عظیم بر خیالمعروف قلندر بابا اولیا نے اس موضوع پر آسان پیرائے میں اظہار خیال کیا ہے۔ قلندر بابا کے مطابق زمان اور مکان حرکت کے دورخ ہیں۔ جس رخ میں تغیر نہ ہو وہ زمان Time ہے اور جو رخ متغیر ہو وہ مکان Space ہے۔آپ تحریر کرتے ہیں: “وہ تمام صفات جو کسی بستی کردار یا زندگی کی اصلیں ہیں ان کا قیام زمان کے اندر ہے۔ اُن اصلوں میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا کیوں کہ اس کا مستقر یا مرکز زمان ہے جو غیر متغیر ہے۔ حرکت کا وہ رخ جو زمان کے بر عکس ہے مکان کہلاتا ہے۔ ہر قسم کا تعیر اس ہی رخ میں ہوتا ہے۔ [ لوح و قلم : صفحه 180]
قلندر بابا اولیاء نے اپنی کتاب لوح و قلم ” میں وقت کی حقیقت پر روشنی ڈالی ہے انہوں نے زمان کی تین اقسام بیان کی ہیں۔
1- زمان حقیقی (غیب الغیب Timelessness نور غیر متغیر) جس کا تعلق کا سناتی شعور سے ہے۔
2۔ زمان غیر متواتر غیب Non-Serial Timeنور متغیر) ہم اس کا مشاہدہ عالم خواب میںکرتے ہیں۔
3- زمان متواتر ( عالم شہادت Serial Time نسمہ) یہ عالم ناسوت یعنی مادی دنیا میں جاری رہتا ہے۔ قلندر بابا اولیا” فرماتے ہیں: ” زمان حقیقی اللہ تعالی کا علم علم حضوری) ہے۔ یہ وہ شعور ہے جو ( یہ کائنات کے ہر ذرہ میں کار فرما ہے۔ جب یہ شعور کائنات میں کام کرتا ہے تو کائنات اس کو اپنا ذاتی شعور جانتی ہے اور جب یہ شعور ذرہ میں کام کرتا ہے تو ذرہ اس کو اپنا انفرادی شعور سمجھتا ہے۔ جب تک یہ شعور کائنات سے ماوراء ہے، زمان حقیقی ہے۔ جب کائنات میں سما جاتا ہے تو زمان غیر متواتر کہلاتا ہے اور جب ذرہ کے اندر حرکت کرتا ہے تو زمان متواترین جاتا ہے“۔ در اصل زمان حقیقی اور زمان غیر متواتر دونوں ہمارے لاشعور میں موجود ہوتے ہیں۔قلندر با با اولیاء فرماتے ہیں: ” زمان اور مکان کی بہت واضح مثال راستہ اور مسافر سے دی جاسکتی ہے۔ راستہ زمان اور مسافر مکان۔ اگرچہ مسافر کا انتہاک خود میں یعنی اپنے آثار واحوال میں ہوتا ہے تاہم مسافر بغیر راستہ کے اپنی ہستی قائم نہیں رکھ سکتا ۔ وہ راستہ سے کتنا ہی غافل رہے لیکن یہ ناممکن ہے کہ وہ راستہ سے لا تعلق ہو جائے۔ مسافر کی تمام حرکات و سکنات ، سارا کر دار زندگی کی طرزیں اور فکریں راستہ کی حدود سے باہر نہیں جاسکتیں۔ انسانی زندگی میں راستہ لا شعور دگی میں استدلا شعورہے اور مسافر شعور ہے“۔لا شعور سے ملنے والی اطلاعات ایک دم مکمل طور پر شعور میں منتقل نہیں ہو تیں بلکہ ٹکڑوں میں لمحہ لمحہ کر کے منتقل ہوتی ہیں۔ظاہری حواس میں انسان ایک لمحہ میں ایک شے یافعل کی جانب متوجہ ہو سکتا ہے۔ حواس کی یہ پابندی زمان متواتر یا Serial Time کی تخلیق کرتی ہے۔ زمان متواتر میں تمام واقعات ایک تسلسل یعنی سیکنڈ، منٹ ، گھنٹہ ، دن وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ پیر کے بعد جمعرات کا دن اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک منگل اور بدھ نہ گزر جائیں۔ ظاہری حواس میں زمان متواتر کا لمحہ ہمارے شعور میں ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی زمان غیر متواتر میں انسان ترتیب کا پابند نہیں ہوتا مثلاً اگر ہم دس سال پرانا کوئی واقعہ یاد کرنا چاہیں تو اس کے لئے ہمیں پورے دس سال کے ترتیب وار واقعات یاد کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ فورا ہی اس واقعہ کا لمحہ ہمارے ذہن میں آجاتا ہے۔ زمان غیر متواتر کی ایک مثال خواب دیکھنا بھی ہے۔اگر انسان خواب یا نیند کے حواس کو بیداری میں منتقل کرنا سیکھ لے تو وہ زمان متواتر کی قید سے آزاد ہو کر اپنی خواہش کے مطابق زمان و مکان میں سفر کر سکے گا۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری 2026
![]()

