Daily Roshni News

وقت کا بہاؤ: کیا ایک سیکنڈ سب کے لیے برابر ہے؟ آئن سٹائن کی اضافیت اور قرآن کے اشارے

وقت کا بہاؤ: کیا ایک سیکنڈ سب کے لیے برابر ہے؟ آئن سٹائن کی اضافیت اور قرآن کے اشارے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مقدمہ: وقت کا پرانا تصور:صدیوں تک انسان یہی سمجھتا رہا کہ “وقت” (Time) ایک سیدھی لکیر کی طرح ہے، جو پوری کائنات میں ہر جگہ ایک ہی رفتار سے گزر رہا ہے۔ یعنی زمین پر ایک گھنٹہ اور کروڑوں میل دور کسی کہکشاں میں ایک گھنٹہ بالکل برابر ہے۔ لیکن پھر بیسویں صدی میں البرٹ آئن سٹائن آیا اور اس نے ہمارے اس تصور کو چکنا چور کر دیا۔

سائنسی حقیقت: وقت رُک بھی سکتا ہے!

آئن سٹائن کے “نظریہ اضافیت” (Theory of Relativity) نے ثابت کیا کہ وقت مطلق (Absolute) نہیں ہے، بلکہ یہ “اضافی” (Relative) ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟

اس کا مطلب ہے کہ وقت کی رفتار دو چیزوں سے بدل جاتی ہے:

  1. 1. رفتار (Speed): آپ جتنی تیز سفر کریں گے، آپ کے لیے وقت اتنا ہی آہستہ گزرے گا۔

  2. 2. کششِ ثقل (Gravity): جہاں گریویٹی بہت زیادہ ہوگی (مثلاً بلیک ہول کے پاس)، وہاں بھی وقت سست پڑ جائے گا۔

سائنس اب مانتی ہے کہ کائنات میں مختلف جگہوں پر وقت مختلف رفتار سے گزر رہا ہے۔

قرآن کا تناظر: وقت کے مختلف پیمانے

آج سائنس ہمیں بتا رہی ہے کہ وقت ہر مشاہدہ کرنے والے کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ اب ذرا چودہ سو سال پیچھے مڑ کر دیکھیں اور قرآنِ مجید کی ان آیات پر غور کریں جو وقت کے “مختلف پیمانوں” کی طرف اشارہ کرتی ہیں:

آیت نمبر 1 (ایک دن بمقابلہ ہزار سال):

وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ (سورۃ الحج: 47)

“اور یقیناً تمہارے رب کے ہاں ایک دن ایسا ہے جیسے ایک ہزار سال، تمہاری گنتی کے مطابق۔”

آیت نمبر 2 (ایک دن بمقابلہ پچاس ہزار سال):

تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ (سورۃ المعارج: 4)

“فرشتے اور روح (جبریلؑ) اس کی طرف چڑھتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔”

واقعہ معراج: عملی ثبوت

نبی کریم ﷺ کا واقعہ معراج بھی “ٹائم ڈائلیشن” (وقت کے پھیلاؤ) کی ایک عظیم ترین عملی مثال نظر آتا ہے، جہاں زمین کے وقت کے مطابق ایک بہت مختصر وقفے میں آپ ﷺ نے زمان و مکان کی ایسی وسعتوں کا سفر کیا جن کے لیے عام حالات میں شاید صدیاں درکار ہوں۔

نتیجہ: خالقِ زماں

یہ سائنسی نظریات اور قرآنی آیات ہمیں ایک ہی نتیجے پر پہنچاتی ہیں کہ “وقت” بھی اللہ کی ایک مخلوق ہے۔ وہ خود زمان و مکان کی قید سے پاک ہے۔ اس کے لیے ماضی، حال اور مستقبل سب یکساں ہیں۔ سائنس آج جس “اضافیتِ وقت” کو دریافت کر کے حیران ہو رہی ہے، قرآن صدیوں پہلے بتا چکا ہے کہ اللہ کے نظام میں وقت کے پیمانے ہمارے زمینی پیمانوں سے بہت مختلف ہیں۔

——————-

#TimeDilation #TheoryOfRelativity #EinsteinAndQuran #CosmicTime #QuranMiracles #FaithAndScience #IslamAndModernScience #وقت_اور_اضافیت #نظریہ_اضافیت #قرآن_اور_سائنس #واقعہ_معراج #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #وقت_کی_حقیقت

Loading