🌙💔 وہ بلی، وہ گاڑی، اور وہ راز
تحریر: حقیقت اور فسانہ 💫
شہر کی گرمی میں سانس لینا بھی مشکل تھا۔ آسمان پر بادلوں کا نام نہ تھا۔ صرف دھوپ تھی — تیز، بےرحم، اور انتہائی تپش لیے ہوئے۔ ظہیر نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تو صرف ایک سو بیس روپے نکلے۔ اتنی میں ٹیکسی بھی نہ آتی۔ وہ سسرال کے دروازے پر کھڑا تھا۔ ایک ماہ قبل بیوی ناراض ہو کر میکے چلی گئی تھی۔ اب وہ اسے لینے آیا تھا۔ لیکن جیب میں کرایہ تک نہ تھا۔ اس نے سوچا — پیدل چلیں گے۔ بس پانچ کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ اتنی بھی کیا بڑی بات؟ لیکن وہ بھول گیا تھا کہ شہر کی گرمی میں پانچ کلومیٹر بھی پچاس لگتے ہیں۔ اور وہ بھول گیا تھا کہ اس کی بیوی ثناء کو ذرا سی دھوپ میں چکر آنے لگتے ہیں۔
ثناء باہر آئی تو اس نے ایک نظر ظہیر کی طرف دیکھا۔ پھر گاڑی کی طرف دیکھا۔ کوئی گاڑی نہ تھی۔ پوچھا — “گاڑی کہاں ہے؟” ظہیر نے ہلکا سا مونہہ بنا کر کہا — “چلیں، پیدل چلتے ہیں۔ بہت دور نہیں۔” ثناء کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ “کیا؟ پیدل؟ اس دھوپ میں؟” ظہیر نے کندھے اچکائے۔ ثناء کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ لیکن وہ چل پڑی۔ شاید اسے لگا — چلتی ہوں، دیکھتی ہوں یہ کیا کرتا ہے۔
وہ دونوں سڑک پر چل رہے تھے۔ ظہیر آگے تھا، ثناء پیچھے۔ دھوپ اتنی تیز تھی کہ سایہ بھی پگھل رہا تھا۔ ثناء کے جوتوں میں پسینہ بھر گیا۔ اس کا دوپٹہ سر سے بار بار گرتا۔ اس کے ہونٹ خشک ہو چکے تھے۔ پھر اچانک وہ رک گئی۔ “ظہیر!” ظہیر نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ثناء کی آنکھوں میں آنسو تھے — لیکن وہ غصے کے آنسو تھے۔ “تین سال سے بیروزگار ہے۔ ایم فل کر رکھی ہے۔ کیا فائدہ اس ڈگری کا؟ میرا میٹرک فیل کزن کپڑوں کی فیکٹری چلا رہا ہے۔ تین مہینے میں دو گاڑیاں خرید لیں۔ اور تم؟ تمہارے پاس میرے لیے ٹیکسی کا کرایہ بھی نہیں!”
ظہیر خاموش رہا۔ ثناء نے آگے کہا — “اور سن لو۔ اگلے تین ماہ تک مجھے چھونا مت۔ گھر جا کر تیری ڈگری کو آگ لگا دوں گی جس نے تجھے تین سال سے بیروزگار رکھا ہوا ہے۔” وہ چپ ہو گئی۔ سانس لینے لگی۔ ظہیر نے کچھ نہ کہا۔ وہ بس چلتا رہا۔ ثناء بھی چل پڑی۔ لیکن اب دونوں کے درمیان خاموشی تھی — وہ خاموشی جو کبھی لفظوں سے بھی زیادہ بولتی ہے۔
ⓕ ⓞ ⓛ ⓛ ⓞ ⓦ
Ⓗ Ⓐ ⓠ Ⓔ Ⓔ ⓠ Ⓐ Ⓣ
Ⓐ Ⓤ Ⓡ Ⓕ Ⓐ Ⓢ Ⓐ Ⓝ Ⓐ
وہ ایک چوک پر پہنچے۔ سامنے سے ایک تیز رفتار گاڑی آ رہی تھی۔ سفید، چمکدار، مہنگی۔ ظہیر نے اسے دیکھا تو اس کے دل میں ایک عجیب سی بےچانی ہوئی۔ ایسے لگا جیسے وہ گاڑی کہیں دیکھی ہو۔ لیکن وہ سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک گاڑی نے ایک زوردار بریک لگائی۔ لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ سڑک کے بیچ میں ایک چھوٹی سی بلی آ گئی تھی۔ گاڑی کا پہیہ اس پر چڑھ گیا۔ ایک دبے ہوئے دھچکے کی آواز آئی۔ پھر سب خاموش۔ بلی وہیں پڑی رہی۔ گاڑی رک گئی۔ تھوڑی دیر بعد دوبارہ چل پڑی — جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ثناء نے ہاتھ منہ پر رکھ لیا۔ ظہیر کی آنکھیں گاڑی پر جم گئیں۔ گاڑی کے اندر کیا تھا؟ وہ آگے بڑھا۔ گاڑی کی پچھلی کھڑکی میں جھانک کر دیکھا۔ اور پھر وہ سن ہو گیا۔
گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ایک چھوٹی سی بچی بیٹھی تھی۔ چار یا پانچ سال کی۔ اس کے ہاتھ میں ایک کٹی ہوئی گڑیا تھی۔ وہ گاڑی کے شیشے سے باہر دیکھ رہی تھی — سیدھے اس بلی کی طرف جہاں اس کا جسم پڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ لیکن وہ رو نہیں رہی تھی۔ وہ بس دیکھ رہی تھی۔ خاموش۔ بے آواز۔ جیسے وہ سمجھ گئی ہو کہ یہ دنیا ایسی ہی ہے۔ ظہیر نے اس بچی کی آنکھوں میں دیکھا۔ اسے اپنی بیٹی یاد آ گئی۔ دو سال پہلے مر گئی تھی۔ بیماری تھی۔ کوئی علاج نہ تھا۔ ظہیر کے پاس پیسے نہ تھے۔ اس کی ڈگری نے اسے ڈاکٹر تو بنا دیا تھا — لیکن اپنی بیٹی کا علاج نہ کرا سکا۔ وہی ڈگری جس پر ثناء غصہ کرتی تھی۔ وہی ڈگری جس نے اسے بیروزگار رکھا۔ لیکن حقیقت یہ تھی — وہ ڈاکٹر تھا۔ ایم فل تھا۔ لیکن شہر کے بڑے ہسپتالوں میں سفارش کے بغیر نوکری نہ ملتی تھی۔ وہ چھوٹی سی کلینک چلاتا تھا۔ مہینے میں بیس ہزار کماتا تھا۔ اس میں کرایہ، بجلی، پانی — سب نکل جاتا۔ بچتا کچھ نہ تھا۔ بیوی کے لیے ٹیکسی کا کرایہ بھی نہ تھا۔
گاڑی چلی گئی۔ ظہیر اب بھی وہیں کھڑا تھا۔ ثناء نے آ کر اس کا ہاتھ پکڑا۔ “کیا دیکھا؟” اس نے پوچھا۔ ظہیر نے کچھ نہ کہا۔ وہ بلی کی طرف چلا گیا۔ جھکا۔ بلی کے جسم کو اٹھایا۔ اسے سڑک کے کنارے لے گیا۔ ایک درخت کے نیچے — جہاں سایہ تھا — وہاں اسے رکھا۔ پھر اپنی قمیض کی جیب سے ایک سفید کپڑا نکالا — وہ اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھتا تھا، اپنی بیٹی کی یاد میں — اور اس بلی کو ڈھانپ دیا۔ ثناء نے یہ سب دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ لیکن وہ کچھ نہ بولی۔ ظہیر نے کہا — “چلو۔” اور وہ چل پڑے۔ اب کوئی گالی نہ تھی۔ کوئی شکایت نہ تھی۔ صرف دھوپ تھی۔ اور ان دونوں کے درمیان ایک خاموشی — لیکن اب یہ خاموشی پہلے جیسی نہ تھی۔ یہ سمجھ کی خاموشی تھی۔
گھر پہنچ کر ظہیر نے چائے بنائی۔ ثناء نے وہی پرانی سی کرسی پر بیٹھ کر پوچھا — “گاڑی میں کیا تھا؟” ظہیر نے چائے کا کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا — “ایک بچی۔ چھوٹی سی۔ میری بیٹی جیسی۔” ثناء کے ہاتھ سے کپ گر گیا۔ چائے فرش پر بکھر گئی۔ اس نے اپنا منہ دونوں ہاتھوں میں دبایا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ یہ اس بیٹی کا روتھا ہوا غم تھا جو دو سال سے اس کے سینے میں دب کر پتھر بن چکا تھا۔ ظہیر نے اس کے قریب جا کر اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا۔ دونوں رو رہے تھے۔ کمرے میں صرف رونے کی آواز تھی اور چائے کی خوشبو جو فرش سے اٹھ رہی تھی۔
🌙
خلاصہ یہ کہ: ہم جس چیز پر غصہ کرتے ہیں، وہی چیز کبھی ہمارے زخم کو چھو کر رلا دیتی ہے۔ غربت نے ظہیر کی ڈگری کو بےکار کر دیا تھا، لیکن اس ڈگری نے اسے انسان رکھا تھا۔ اور وہ بچی جس نے گاڑی میں سے بلی کو مرتے دیکھا — وہ شیشے کے اس پار ہم سب کی خاموشی تھی۔
اس کہانی نے آپ کے دل کو چھوا تو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔
ایسی اور سچی کہانیوں کے لیے، ہمارے پیج حقیقت اور فسانہ کو ضرور فالو کریں۔
اگر آپ نے کبھی کسی بےبسی کو قریب سے دیکھا ہے تو تبصرے میں ضرور بتائیں۔
.
![]()

