Daily Roshni News

وہ دن جب تمام روحوں نے اپنے رب کو پہچان لیا

وہ دن جب تمام روحوں نے اپنے رب کو پہچان لیا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ اس وقت کی بات ہے جب ابھی دنیا وجود میں نہیں آئی تھی۔ نہ سورج تھا، نہ چاند نہ زمین تھی، نہ آسمان کی آبادیاں۔ نہ کوئی انسان پیدا ہوا تھا اور نہ ہی کوئی قوم وجود میں آئی تھی۔

الله تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ پھر ایک ایسا عظیم واقعہ پیش آیا جس کا تعلق قیامت تک آنے والے ہر انسان سے ہے۔

الله تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی تمام اولاد کی روحوں کو نکال لیا۔ وہ سب روحیں جو قیامت تک دنیا میں آنے والی تھیں، ایک ہی جگہ جمع کر دی گئیں۔ اس اجتماع کو عالم ارواح کا عظیم اجتماع کہا جاتا ہے۔

اس وقت نہ کوئی بادشاہ تھا اور نہ فقیر۔ نہ کوئی امیر تھا اور نہ غریب نہ کوئی طاقتور تھا اور نہ کمزور۔ سب روحیں اپنے رب کے سامنے کھڑی تھیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب سے ایک سوال فرمایا

کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟

یہ ایسا سوال تھا جس کے جواب میں کسی روح نے انکار نہیں کیا۔ سب نے ایک آواز ہو کر جواب دیا

کیوں نہیں! بے شک آپ ہی ہمارے رب ہیں۔” یہی وہ عہد اور میثاق تھا جس کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے۔

تمام روحوں نے اپنے رب کی ربوبیت کا اقرار کیا۔ سب نے گواہی دی کہ عبادت کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ اسی لیے قیامت کے دن کوئی شخص یہ عذر پیش نہیں کر سکے گا کہ ہمیں اپنے رب کے بارے میں علم نہیں تھا۔

حضرت ضحاک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت کو مس فرمایا تو قیامت تک پیدا ہونے والی تمام روحیں ظاہر ہو گئیں۔ پھر ان سب سے یہ وعدہ لیا گیا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔

یہ عہد اتنا عظیم تھا کہ فرشتوں کو بھی اس پر گواہ بنایا گیا۔ آسمان اور زمین بھی اس میثاق کے گواہ بنے تاکہ قیامت کے دن کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔

رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی ذریت کو اس طرح نکالا جیسے کنگھی میں بال آ جاتے ہیں۔ یعنی بے شمار انسان ایک ہی لمحے میں ظاہر کر دیے گئے۔

حضرت آدم علیہ السلام اپنی اولاد کو دیکھ رہے تھے۔ ان کے سامنے قیامت تک آنے والے انسانوں کے نمونے پیش کیے گئے انہوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ خوبصورت ہیں اور کچھ کم خوبصورت۔ کچھ امیر ہیں اور کچھ غریب۔ کچھ صحت مند ہیں اور کچھ بیمار۔ بعض نابینا ہیں، بعض آزمائشوں میں مبتلا ہیں۔

پھر حضرت آدم علیہ السلام نے انبیاء کرام علیہم السلام کو دیکھا۔ ان کے چہروں پر خاص نور تھا۔ ان کے وجود سے عظمت اور برگزیدگی جھلک رہی تھی۔

اسی دوران ایک شخصیت ایسی نظر آئی جس کے چہرے کا نور سب سے نمایاں تھا۔

حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا

اے میرے رب! یہ کون ہیں؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا

یہ تمہارے بیٹے داؤد ہیں۔”

حضرت آدم علیہ السلام نے پوچھا

ان کی عمر کتنی ہوگی؟”

فرمایا گیا

“ساٹھ سال۔”

حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا ۔  اے اللہ! میری عمر میں سے چالیس سال انہیں عطا فرما دیجیے۔

اللہ تعالیٰ نے یہ عطیہ قبول فرمالیا

وقت گزرتا رہا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی مقررہ عمر مکمل ہوئی تو فرشتہ موت حاضر ہوا۔

حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا

ابھی تو میری عمر کے چالیس سال باقی ہیں۔

جواب دیا گیا

وہ چالیس سال آپ اپنے بیٹے داؤد علیہ السلام کو دے” چکے ہیں۔

روایات میں آتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اس بات کو بھول گئے تھے۔ اسی لیے انسانوں میں بھول جانے کی صفت بھی منتقل ہوئی۔

اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان دنیا میں آنے سے پہلے اپنے رب کو پہچان چکا ہے۔ اس کی فطرت میں الله کی معرفت رکھی گئی ہے۔

جب کوئی انسان حق کو قبول کرتا ہے تو گویا وہ اسی قدیم عہد کو یاد کر رہا ہوتا ہے جو اس نے عالم ارواحمیں اپنے رب سے کیا تھا۔

اور جب کوئی شخص اللہ سے منہ موڑتا ہے تو دراصل وہ اس وعدے کو بھول جاتا ہے جو اس نے روزِ اول اپنے رب کے سامنے کیا تھا۔

لہٰذا ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے اس عہد کو یاد رکھے اللہ کی عبادت کرے، اسی پر بھروسہ کرے اور اسی کے سامنے جھکے، کیونکہ ہم سب نے ایک دن اس کے رب ہونے کی گواہی خود اپنے اوپر دی تھی۔

Loading