ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)1991 کی ایک رات، امریکہ کے صحرا میں ایک خاموش سا آلہ آسمان کی طرف تکتا رہا۔ اچانک اس نے کچھ ایسا ریکارڈ کیا جسے دیکھ کر سائنسدان اپنی کرسیوں سے اُچھل پڑے۔ ایک ایسی توانائی زمین سے ٹکرائی جو ناممکن سمجھی جاتی تھی۔ اتنی زیادہ کہ سائنسدانوں نے بے ساختہ اسے نام دیا — “Oh-My-God Particle”۔یہ کہانی شروع ہوتی ہے یوٹاہ کی ایک آبزرویٹری سے، جہاں “Fly’s Eye” نامی ایک کاسمک رے ڈیٹیکٹر رات دن آسمان سے آنے والے ذرّات کو ریکارڈ کرتا رہتا تھا۔ کاسمک رے دراصل خلاء سے آنے والے چھوٹے ذرّات ہوتے ہیں — عام طور پر ان کی توانائی معمولی ہوتی ہے، کچھ بجلی کی چنگاری جتنی۔ لیکن اُس رات جو ذرّہ ریکارڈ ہوا، اس کی توانائی 3 کروڑ الیکٹران وولٹ کی 10 ارب گنا زیادہ تھی۔
سادہ الفاظ میں سمجھیں تو یہ ایک ایسی توانائی تھی جیسے کوئی بیس بال کی گیند 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھینکی جائے — مگر وہ گیند ایک ذیلی ایٹمی ذرّے جتنی چھوٹی ہو۔ ایک پروٹون، جو خود آنکھ سے نظر بھی نہیں آتا، اتنی طاقت لیے سفر کر رہا تھا کہ سائنسدان حیران رہ گئے۔
اب اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ فزکس کا ایک اصول ہے جسے GZK Limit کہتے ہیں — یہ کہتا ہے کہ کائنات میں کاسمک ذرّات کی توانائی کی ایک حد ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ توانائی والا ذرّہ، خلاء میں سفر کرتے ہوئے کائناتی پس منظر کی تابکاری (cosmic microwave background) سے ٹکرا کر اپنی توانائی کھو دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ اتنی طاقتور چیز لمبے فاصلے تک سفر ہی نہیں کر سکتی۔
مگر یہ ذرّہ اس حد سے کہیں آگے تھا۔ اور جب سائنسدانوں نے اس کے راستے کا حساب لگایا تو ایک اور خوفناک بات سامنے آئی — اس کے راستے میں کوئی معلوم کہکشاں، کوئی بلیک ہول، کوئی سُپرنووا، کچھ بھی نہیں تھا۔ خالی خلاء۔ کوئی ایسا ذریعہ نہیں ملا جو اتنی زبردست توانائی پیدا کر سکے۔
سوال یہ تھا: یہ ذرّہ آیا کہاں سے؟
کچھ سائنسدانوں نے قیاس کیا کہ شاید یہ کسی نامعلوم، انتہائی طاقتور کائناتی واقعے کا نتیجہ ہے — شاید کسی بلیک ہول کے قریب کوئی ایسا دھماکہ جو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ کچھ نے کہا شاید یہ کسی نیوٹران ستارے کے تصادم سے پیدا ہوا۔ اور کچھ زیادہ تخیلاتی ذہنوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ شاید یہ کسی exotic فزکس کا اشارہ ہے — کوئی ایسی چیز جسے ہم ابھی سمجھتے ہی نہیں۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں تھا۔ 1991 کے بعد بھی کئی بار ایسے انتہائی طاقتور ذرّات ریکارڈ ہو چکے ہیں، جن میں سے کچھ کی توانائی کا کوئی مصدقہ ذریعہ آج تک نہیں ملا۔ Telescope Array اور Pierre Auger Observatory جیسے جدید مراکز اب بھی ایسے ذرّات کا پیچھا کر رہے ہیں، اس امید پر کہ شاید یہی ذرّات ہمیں کائنات کے سب سے پرتشدد اور پراسرار مقامات تک لے جائیں۔
سوچیں — ایک ایسا ذرّہ جو ایٹم سے بھی چھوٹا ہے، لیکن اس میں اتنی توانائی قید ہے جتنی ایک تیز رفتار گیند میں ہوتی ہے۔ یہ کائنات سے آیا، لاکھوں نوری سال کا سفر طے کیا، اور زمین کے ایک چھوٹے سے آلے سے ٹکرا کر انسانیت کو ایک ایسا سوال دے گیا جس کا جواب آج تک نہیں ملا۔
شاید کائنات ہمیں یہی بتانا چاہتی ہے — کہ ہم نے جتنا سمجھ لیا ہے، اس سے کہیں زیادہ ابھی باقی ہے۔
اگر آپ کو خلاء کی ایسی کہانیاں پسند ہیں جو کہیں اور نہیں ملتیں — تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔
ہر روز ایک نئی حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔
![]()

