ویلنٹائن ڈے
تحریر۔۔۔حمیراعلیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیو زانٹرنیشنل ۔۔۔ویلنٹائن ڈے۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم )ویلنٹائن ڈے محض ایک دن یا تہوار نہیں بلکہ یہ اسلام اور ہماری اقدار کے خلاف رسم ہےجسے خود عیسائی بھی برا جانتے ہیں۔اور اسے تجارتی استحصال سمجھتے ہیں۔اگر اس دن کی تاریخ دیکھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ محبت کے نام پر اخلاقی و مذہبی حدود کو پامال کرنے اور بری روایت کے فروغ کا سبب ہے۔
پاکستان جیسے مقروض اور ترقی پذیر ملک میں جہاں عام آدمی دو وقت کی روٹی، بجلی کے بھاری بلوں اور مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ وہاں ایسی فضول رسومات پر لاکھوں کروڑوں روپے اڑانا کسی صورت عقلمندی نہیں۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ جس ملک کی عوام بنیادی ضروریاتِ زندگی کے لیے ترس رہی ہو، عام شہری آٹے کے تھیلے اور بجلی کے بلوں کے لیے پریشان ہے۔وہاں پھولوں، غباروں اور تحائف کی درآمد اور خرید و فروخت پر خطیر رقم خرچ کر دی جاتی ہے۔ یہ بے حسی نہیں تو کیا ہے کہ بجائے اپنے مستحق بھائیوں کی مدد کے ایک دن منانے پر لاکھوں اڑا دئیے جائیں۔
گزشتہ سال چیمبر آف کامرس کے مختلف تخمینوں اور معاشی تجزیہ نگاروں کی رپورٹس کے مطابق صرف ویلنٹائن ڈے کے ہفتے میں پاکستان کے بڑے شہروں میں 70 سے 90 کروڑ روپے کے پھول فروخت ہوئے۔مقامی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے کینیا اور دیگر ممالک سے قیمتی زرمبادلہ خرچ کر کے پھول درآمد بھی کیے گئے۔
ای کامرس پلیٹ فارمز جیسے Daraz اور بڑے ریٹیل برینڈز نے “Valentine’s Deals” کے نام سے مہم چلائی۔ ڈیٹا بتاتا ہے کہ اس دوران کاسمیٹکس، پرفیومز اور الیکٹرانک گیجٹس کی فروخت میں 35% تک اضافہ دیکھا گیا۔لگژری ہوٹلز اور کیفے میں “کینڈل لائٹ ڈنر” کے نام پر کروڑوں روپے اڑائے گئے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق اس ایک دن کی فضول خرچی سے ملک کے ہزاروں مستحق خاندانوں کے ماہانہ واجبات ادا کیے جا سکتے تھے۔
پاکستان میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل اور مقامی کمپنیوں نے اس دن کو تجارتی رنگ دے کر خوب منافع کمایا۔Foodpanda نے مخصوص ڈسکاؤنٹ کوڈز کے ذریعے غیر ضروری باہر کے کھانے کو فروغ دیا۔ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیز ایس ایم ایس اور ڈیٹا پیکجز کے ذریعے نوجوان نسل کو اس طرف راغب کیا۔کپڑوں کے برینڈز نےسیلز لگا کر صارفین کو خریداری پر اکسایا۔
اور سال 2026کے فروری کے پہلے 10 دنوں میں صرف لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی بڑی منڈیوں میں پھولوں کے پیشگی آرڈر کا حجم 40 سے 50 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس سال گلاب کے ایک پھول کی قیمت 300 سے 800 روپے تک جا پہنچی ہے۔آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز (جیسے دراز، فوڈ پانڈا اور دیگر) پر فروری کے آغاز سے ہی “ویلنٹائن ڈے ڈیلز” شروع ہو چکی ہیں۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق اب تک تحائف، چاکلیٹس اور کاسمیٹکس کی مد میں 1.5 سے 2 ارب روپے کی خریداری کی جا چکی ہے جو کہ ایک مقروض ملک کے لیے خطیر رقم ہے۔بڑی کمپنیز اور برینڈز نے اس دن کی تشہیر کے لیے سوشل میڈیا، بل بورڈز اور ایس ایم ایس مارکیٹنگ پر اب تک اندازاً 20 سے 30 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ جس کا مقصد عوام کو اس غیر ضروری فضول خرچی پر آمادہ کرنا ہے۔
یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف حکومت پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھا کر عوام سے قربانی مانگ رہی ہے اور دوسری طرف اسی معاشرے کا ایک حصہ محض ایک دن کی نمائش کے لیے اربوں روپے ہوا میں اڑا رہا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ محبت کے اظہار کے لیے کسی مخصوص غیر اسلامی دن یا مہنگے تحائف کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہئیں اور اپنی نوجوان نسل کو ان فضول روایات کے بجائے اپنی دینی و قومی اقدار کی طرف راغب کرنا چاہیے۔
ویلنٹائن ڈے جیسی لایعنی رسم پر ضائع ہونے والے اربوں روپے اگر تعمیری اور فلاحی کاموں میں لگائے جائیں تو اس سے پاکستان کے ہزاروں خاندانوں کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ ایک محتاط تخمینے کے مطابق اس ایک دن میں اڑائے جانے والے کروڑوں روپے سے کئی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کے بھاری بل ہیں۔ اگر وہ 80 کروڑ روپے جو صرف پھولوں اور کارڈز پر ضائع ہوتے ہیں کسی فلاحی سکیم میں ڈالے جائیں تو اس سے تقریباً 2 لاکھ سے زائد انتہائی غریب خاندانوں کے ماہانہ بجلی کے بل ادا کیے جا سکتے ہیں۔
جو لاکھوں روپے تحائف اور لگژری ڈنرز پر خرچ ہوتے ہیں ان سے ملک بھر کے 50,000 سے زائد یتیم بچوں کے پورے سال کے تعلیمی اخراجات یونیفارم، کتابیں اور فیس اٹھائے جا سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جو صدقہ جاریہ بھی ہے اور ملک کا مستقبل بھی سنوار سکتی ہے۔
ہمارا ملک مقروض ہے اور عام آدمی بھی سود اور قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اگر اس رقم سے ایک قرضِ حسنہ فنڈ قائم کیا جائے تو ہزاروں چھوٹے دکانداروں اور سفید پوش افراد کو سود سے پاک قرضے دے کر ان کے کاروبار دوبارہ کھڑے کیے جا سکتے ہیں۔
ویلنٹائن ڈے کے ایک دن کے اسراف کے برابر رقم سے 5 لاکھ سے زائد مستحق خاندانوں کو ایک ماہ کا مکمل راشن مہیا کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ان ماؤں کی پریشانی ختم ہو سکتی ہے جو اپنے بچوں کو بھوکا سوتے دیکھتی ہیں۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت کے دن ہم سے مال کے بارے میں دو سوال ہوں گے: کیسے کمایا؟ اور کہاں خرچ کیا؟۔ غیر مسلموں کی نقالی میں اپنی محنت کی کمائی اڑانے کے بجائے اسے اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا ہی اصل عقلمندی ہے۔
اگر آپ اس سال کسی کو خوش کرنا ہی چاہتے ہیں تو اس رقم سے کسی غریب کی دوا خرید دیں یا کسی محنت کش کا بجلی کا بل بھر دیں۔ یقین جانیے اس سے جو سکون اور دعا ملے گی وہ کسی مصنوعی گلاب یا قیمتی تحفےسے کہیں زیادہ قیمتی ہوگی۔
![]()

