Daily Roshni News

ٹرمپ نے سعودی عرب کیساتھ سول جوہری معاہدے کی منظوری دیدی: امریکی اخبار

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول ایٹمی توانائی کے شعبے میں طویل المدتی شراکت داری قائم کرنا ہے، تاکہ سعودی عرب اپنے توانائی کے ذرائع کو مزید متنوع بنا سکے اور مستقبل کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے جدید ایٹمی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں سول جوہری منصوبوں کی تعمیر، تکنیکی معاونت، تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی میں کردار ادا کریں گی، اس تعاون کا مقصد بجلی کی پیداوار میں اضافہ، توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا اور اقتصادی ترقی کے منصوبوں کو تقویت دینا بھی ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ معاہدہ امریکی قانون کے تحت کانگریس کے سامنے منظوری اور جائزے کیلئے پیش کیا جائے گا، کانگریس کو معاہدے کا تفصیلی جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہوگا، جس کے بعد اس کی حتمی منظوری یا اس پر اعتراضات کا فیصلہ کیا جائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کئی برسوں سے پرامن مقاصد کیلئے سول جوہری پروگرام کے قیام کا خواہاں ہے اور وہ اپنی ویژن 2030 حکمت عملی کے تحت توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، اس منصوبے کا مقصد خام تیل پر انحصار کم کرنا اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہے۔

دوسری جانب امریکا اس تعاون کو مشرق وسطیٰ میں اپنے سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ قرار دیتا ہے۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں بین الاقوامی ایٹمی ضوابط، حفاظتی اقدامات اور عدم پھیلاؤ کے اصولوں کو مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ سول جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد تک محدود رہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی کانگریس اس معاہدے کی منظوری دے دیتی ہے تو یہ نہ صرف امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہوگا بلکہ خطے میں توانائی، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

Loading