Daily Roshni News

ٹرمپ کا سالانہ خطاب: ایپسٹین متاثرین اور خلابازوں سمیت کئی ٹرمپ پالیسی مخالفین کی شرکت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سالانہ خطاب یعنی اسٹیٹ آف دی یونین کے لیے مہمانوں کی فہرست سامنے آگئی ہے جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا۔

گزشتہ چالیس سالوں سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ صدر اور ارکان پارلیمنٹ ایسے افراد کو مدعو کرتے ہیں جن کی زندگی یا جدوجہد کسی بڑے قومی مسئلے کی عکاسی کرتی ہو۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، اس بار مہمانوں کی گیلری میں جہاں حال ہی میں گولڈ میڈل جیتنے والے اولمپک ہیروز نظر آئے وہیں ایپسٹین کی درندگی کا کا نشانہ بننے والے متاثرین اور خلا بازوں کو بھی جگہ دی گئی۔

صدر ٹرمپ کے اس اہم خطاب میں امریکی اولمپک مینز ہاکی ٹیم کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا جس نے اتوار کے روز اٹلی میں کینیڈا کو ہرا کر سونے کا تمغہ جیتا تھا۔

دوسری جانب خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کے وہ چار خلا باز بھی مہمانوں میں شامل تھے جو پچاس سال بعد چاند کے گرد چکر لگانے والے پہلے انسانی مشن کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔

ان کے علاوہ زراعت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کسانوں کو بھی بلایا گیا جو صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور درآمدی ٹیکسوں کی وجہ سے اپنی فصلوں کی قیمتوں اور مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں۔

سیاسی لحاظ سے بھی یہ فہرست کافی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے جیفری ایپسٹین کیس کے متاثرین اور ان کے لواحقین کو مدعو کیا تاکہ انصاف کی فراہمی پر زور دیا جا سکے۔

اسی طرح سرحدوں اور امیگریشن کے معاملے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک ایسے طالب علم کی والدہ کو بھی دعوت دی گئی جسے قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے کے باوجود حراست میں لیا گیا تھا۔

بین الاقوامی سیاست کے حوالے سے یوکرین کی سفیر، چین میں قید صحافی کی بیٹی اور دہشت گردی کا شکار ہونے والے سفارت کاروں کے لواحقین بھی اس تقریب کا حصہ تھے۔

اس متنوع فہرست کا مقصد صدر کے خطاب کے دوران ملک کو درپیش مختلف سماجی، معاشی اور خارجہ پالیسی کے مسائل کو عوام کے سامنے لانا تھا۔

Loading