Daily Roshni News

ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرو — ایک نبوی ہدایت جس کی حکمت جدید صحتِ عامہ نے واضح کردی۔۔​تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرو — ایک نبوی ہدایت جس کی حکمت جدید صحتِ عامہ نے واضح کردی

​تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

​ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔۔تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)پانی زندگی کی سب سے بڑی اور بنیادی ضرورت ہے۔ مگر یہی پانی اگر انسانی فضلے، جراثیم یا بیماری پھیلانے والے طفیلی جانداروں سے آلودہ ہو جائے تو زندگی بچانے کے بجائے بیماری اور موت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

​آج دنیا بھر میں صاف پانی اور صحتِ عامہ کے منصوبوں کا ایک بنیادی اصول یہی ہے کہ پانی کے قدرتی اور استعمال کے ذخائر کو انسانی نجاست سے ہر قیمت پر محفوظ رکھا جائے۔

​لیکن ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے، ایک نہایت مختصر، جامع اور روشن ہدایت فرمائی تھی:

​”تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں، جو بہتا نہ ہو، پیشاب نہ کرے۔” (کتاب صحیح مسلم)

​صحیح بخاری کی روایت میں اس ہدایت کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ایسے پانی میں پیشاب کر کے پھر اسی میں غسل نہ کیا جائے۔

​آج جب ہم جراثیم، طفیلی کیڑوں، آلودہ پانی اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا سائنسی مطالعہ کرتے ہیں، تو اس نبوی فرمان کی عملی حکمت اور طبی اہمیت اتنی شفاف ہو کر سامنے آتی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

​ٹھہرا ہوا پانی اتنا حساس کیوں ہے؟

​بہتے ہوئے دریا، نہر یا چشمے میں پانی مسلسل حرکت میں رہتا ہے، جس سے آلودگی بہہ جاتی ہے۔ اس کے برعکس کسی تالاب، جوہڑ یا باؤلی کا پانی جو ایک ہی جگہ رکا ہوا ہو، اس میں آلودگی ایک ہی محدود جگہ میں جمع رہتی ہے اور وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔

​اگر لوگ اسی پانی کو غسل، وضو، برتن دھونے یا پینے کے لیے استعمال کریں تو ایک بھی شخص کی نادانی یا لاپرواہی پورے قبیلے یا آبادی کو بیمار کر سکتی ہے۔

​یہاں حدیثِ مبارکہ ہمیں کسی پیچیدہ سائنسی کتاب کی طرح بیکٹیریا کی اقسام نہیں گنواتی، بلکہ انسان کو وہ سادہ اور عملی ہدایت دیتی ہے جس پر ہر عام و خاص باآسانی عمل کر سکے: یعنی مشترکہ اور ٹھہرے ہوئے پانی کو آلودہ مت کرو۔

​کیا پیشاب واقعی بیماری پھیلا سکتا ہے؟

​علمی اور طبی دیانت کا تقاضا ہے کہ ہم بات کو اس کے صحیح تناظر میں سمجھیں۔ ہر انسان کا پیشاب لازمی طور پر خطرناک جراثیم سے بھرا ہوا نہیں ہوتا، اور ہیضہ یا ٹائیفائڈ جیسی اکثر بیماریاں زیادہ تر پاخانے کی آلودگی سے پھیلتی ہیں۔

​اس لیے یہ کہنا تو درست نہیں ہوگا کہ ٹھہرے پانی میں پیشاب کرنے سے تمام بیماریاں پھیل جاتی ہیں، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پیشاب سے پانی آلودہ ہونے کا کوئی طبی خطرہ موجود نہیں۔ جدید طب اور صحتِ عامہ میں اس کی ایک انتہائی دل دہلا دینے والی اور واضح مثال موجود ہے۔

​ایک موذی بیماری جو براہِ راست پیشاب سے پھیلتی ہے

​دنیا کے کئی گرم اور نیم گرم علاقوں میں بلہارزیا (Schistosomiasis) نامی ایک خطرناک طفیلی بیماری پائی جاتی ہے۔

​اس بیماری کا سبب بننے والے کیڑے متاثرہ انسان کے پیشاب کے نظام میں اپنے گھر بناتے ہیں۔ ان کیڑوں کے مائکروسکوپک انڈے انسان کے پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکلتے ہیں۔

​اگر وہ متاثرہ شخص کسی تالاب یا ٹھہرے ہوئے میٹھے پانی میں پیشاب کر دے، تو یہ انڈے پانی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ وہاں پانی میں موجود ایک مخصوص قسم کے گھونگھے (Snails) ان انڈوں کے لیے نرسری کا کام دیتے ہیں۔ گھونگھوں کے اندر یہ کیڑے پروان چڑھتے ہیں اور پھر ان کی نئی نسل پانی میں آزادانہ تیرنے لگتی ہے۔

​جب کوئی دوسرا صحت مند انسان غسل کرنے یا کپڑے دھونے کے لیے اس پانی میں اترتا ہے، تو یہ ننھے طفیلی کیڑے اس کی جلد کو چھید کر جسم کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور اسے بھی اس خطرناک بیماری کا مریض بنا دیتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) اپنی رپورٹس میں واضح طور پر بتاتا ہے کہ اس بیماری کی منتقلی کا اصل سبب ہی یہ ہے کہ متاثرہ انسان اپنے پیشاب کے ذریعے میٹھے پانی کو طفیلی انڈوں سے آلودہ کرتا ہے۔

یعنی یہ صرف ایک عمومی صفائی یا نفاست کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ایک واقعی اور عالمی سطح پر پھیلی ہوئی بیماری کا باقاعدہ چکر ہے جو ٹھہرے پانی میں پیشاب کرنے سے چلتا ہے۔

کروڑوں انسان آج بھی اس خطرے کی زد میں ہیں

یہ بیماری کوئی معمولی یا نایاب چیز نہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بھی دنیا میں 25 کروڑ سے زیادہ افراد ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں انہیں اس بیماری سے بچاؤ اور علاج کی شدید ضرورت ہے۔

افریقہ اور ایشیا کے کئی علاقوں میں اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صرف دوائیں کافی نہیں ہوتیں۔ سب سے بنیادی قدم یہی ہے کہ لوگوں کو بیت الخلا کی سہولت دی جائے اور انہیں پانی کے ذخائر میں رفعِ حاجت اور پیشاب کرنے سے روکا جائے۔

آج کی جدید صحتِ عامہ میں اس پورے طریقہ کار کو واش (WASH – Water, Sanitation and Hygiene) کہا جاتا ہے۔

چودہ سو سال پہلے دی گئی ہدایت کی عظمت

ذرا اس دور کے عرب معاشرے اور ماحول کا تصور کیجیے۔ وہ ایک ایسا زمانہ تھا جب دنیا کے پاس نہ مائکروسکوپ تھی، نہ جراثیم کا کوئی تصور تھا، اور نہ ہی کسی کو ان طفیلی کیڑوں کے پیچیدہ لائف سائیکل کا علم تھا۔

لیکن اس کے باوجود انسانیت کے محسن، حضرت محمد ﷺ نے امت کو وہ سنہری اور عملی اصول عطا فرما دیا جس کی اہمیت کو آج کی سپر کمپیوٹرز اور لیبارٹریوں والی سائنس مان رہی ہے: “جس پانی کو لوگ استعمال کرتے ہیں، اسے اپنی نجاست سے دور رکھو۔”

ایک مسلمان کے لیے نبی کریم ﷺ کا فرمان مبارک خود اپنے اندر مکمل سچائی رکھتا ہے اور ہمیں کسی سائنس کی تصدیق کی محتاجی نہیں۔ لیکن جب جدید علم ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ پانی کی یہ آلودگی کتنی بھیانک بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، تو ہمارے دل اپنے نبی ﷺ کی حکمت اور بصیرت کے سامنے مزید عقیدت سے جھک جاتے ہیں۔

اسلام میں صفائی: ایک اجتماعی ذمہ داری

اس نبوی ہدایت کا ایک اور خوبصورت اور روح پرور پہلو بھی ہے۔ اسلام میں صفائی صرف اپنے کپڑے اور جسم دھونے تک محدود نہیں۔ اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ دوسروں کے استعمال کی جگہ، عام راستے، سایہ دار درخت اور پانی کے ذخائر ہماری امانت ہیں۔

اگر کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی کو آلودہ کرتا ہے تو وہ صرف اپنی ذات کا نقصان نہیں کرتا، بلکہ اس پانی کو استعمال کرنے والے ہر بے گناہ انسان کی صحت اور زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ یہی وہ اعلیٰ اخلاقی سوچ ہے جو آج کے جدید معاشرے کی بنیاد ہونی چاہیے۔

حاصلِ کلام

رسول اللہ ﷺ نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے سخت منع فرمایا۔ چودہ سو سال پہلے جب طب اور سائنس ابھی ابتدائی مراحل میں تھے، تب بھی یہ ہدایت اتنی ہی کامل اور جامع تھی جتنی کہ آج ہے۔

آج کی سائنس اور عالمی ادارے ہمیں بتا رہے ہیں کہ پانی کو انسان کی منتقلی والی نجاستوں سے پاک رکھنا ہی صحت مند زندگی کی پہلی شرط ہے۔

ایک مسلمان کا دل اس بات پر پوری طرح مطمئن ہے کہ ہمارے دین کا ہر حکم حکمت، رحمت اور انسانیت کی بھلائی پر مبنی ہے۔ آپ ﷺ نے اس دور کے لوگوں کو کوئی لیبارٹری یا مائکروسکوپ تو نہیں دی تھی، مگر انسانی زندگی اور پانی کو محفوظ رکھنے کا وہ کامل طریقہ ضرور سکھا دیا تھا جو قیامت تک ان کے کام آتا رہے گا۔

#اسلام_اور_سائنس #احادیث_مبارکہ #صفائی_نصف_ایمان #سنت_نبوی #صحت_عامہ

رپورٹ: کتاب صحیح بخاری — حدیث 239

رپورٹ: کتاب صحیح مسلم — حدیث 281

رپورٹ: عالمی ادارہ صحت (WHO) — Schistosomiasis Fact Sheet

رپورٹ: عالمی ادارہ صحت (WHO) — Drinking Water and Health

رپورٹ: یونیسیف و عالمی ادارہ صحت — WASH Report

Loading