پانی پت کی پہلی جنگ (1526ء) – بابر کی فیصلہ کن فتح
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)پانی پت کی پہلی جنگ 21 اپریل 1526ء کو لڑی گئی، جس نے برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا دھارا یکسر بدل کر رکھ دیا۔ یہ جنگ ظہیر الدین محمد بابر اور سلطان ابراہیم لودھی کے درمیان ہوئی، جس کے نتیجے میں نہ صرف دہلی کی تخت و تاج کا مالک بدلا بلکہ برصغیر میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد پڑی، جو تقریباً تین سو سال تک قائم رہی۔
اس جنگ کا پس منظر بابر کی تمناؤں سے جڑا ہوا تھا۔ بابر نے اپنے باپ دادا امیر تیمور کی طرح ہندوستان فتح کرنے کا خواب دیکھا تھا۔ وہ پہلے ہی کابل اور قندھار پر قابض ہو چکا تھا اور اس کی نگاہیں ہندوستان کی دولت سے لبریز زمینوں پر تھیں۔ اس نے 1519ء اور 1524ء میں چھاپہ مار کارروائیاں بھی کی تھیں، مگر فیصلہ کن جنگ کے لیے مناسب وقت اور موقع کا انتظار تھا۔
پنجاب کے گورنر دولت خان لودھی اور دہلی کے سلطان ابراہیم لودھی کے درمیان اختلافات نے بابر کے لیے راہ ہموار کی۔ دولت خان نے خود بابر کو ہندوستان آنے کی دعوت دی تاکہ ابراہیم لودھی کی کمزور حکومت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ دعوت بابر کے لیے سنہری موقع ثابت ہوئی۔ 1525ء کے آخر میں بابر نے اپنی فوج کے ساتھ کابل سے ہندوستان کا رخ کیا اور سخت سردی اور برفباری کے باوجود دریائے سندھ کو عبور کیا۔
دونوں فوجوں کی آمنے سامنے آمد ہوئی تو بابر کی فوج تعداد میں بہت کم تھی۔ بابر کے پاس تقریباً بارہ ہزار سپاہی تھے، جبکہ ابراہیم لودھی کی فوج میں ایک لاکھ کے قریب سپاہی اور ایک ہزار ہاتھی شامل تھے۔ اس بظاہر نابرابری کے باوجود بابر کے پاس دو اہم ہتھیار تھے: ایک اس کی جنگی حکمت عملی اور دوسرا توپ خانہ، جو اس زمانے میں ہندوستان میں بالکل نیا ہتھیار تھا۔
بابر نے میدان جنگ میں اپنی فوج کو ایک نئے انداز میں ترتیب دیا۔ اس نے عثمانی ترکوں سے سیکھی ہوئی “تولغما” یا “آرڈو” حکمت عملی اپنائی۔ اس میں مرکزی فوج کو مضبوط کیا جاتا اور دستے اس طرح ترتیب دیے جاتے کہ دشمن کو گھیرے میں لیا جا سکے۔ اس نے اپنی فوج کے سامنے بیل گاڑیاں کھڑی کر دیں، جنہیں زنجیروں سے باندھ دیا گیا تاکہ ایک مضبوط دیوار کا کام دیں۔ ان گاڑیوں کے پیچھے اس نے توپیں رکھ دیں اور تیر اندازوں کو مخصوص جگہوں پر تعینات کیا۔ یہ حکمت عملی ابراہیم لودھی کی بھاری اور بے ڈھنگی فوج کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی۔
جنگ کا آغاز لودھی فوج کے حملے سے ہوا۔ ابراہیم لودھی کے ہاتھی اور گھڑسوار فوج بے جگری سے لڑے، مگر بابر کی توپوں کی آواز نے ہاتھیوں کو بدحواس کر دیا۔ بارود کی آوازیں سن کر ہاتھی پیچھے کو بھاگے اور انہوں نے اپنی ہی فوج کو روند ڈالا۔ بابر کی فوج نے اپنی پوزیشن مضبوط رکھی اور دشمن کے حملوں کو پسپا کیا۔ دوپہر تک لڑائی جاری رہی اور بالآخر بابر نے اپنی پسپا فوج کو پیش قدمی کا حکم دیا۔ ابراہیم لودھی کی فوج گھبرا کر منتشر ہونے لگی۔ سلطان خود بہادری سے لڑتا ہوا مارا گیا۔ اس کی لاش میدان جنگ میں ہزاروں سپاہیوں کی لاشوں کے درمیان پائی گئی۔
یہ جنگ نہ صرف ایک فوجی معرکہ تھی بلکہ تہذیبوں اور جنگی طریقوں کا تصادم بھی تھی۔ بابر کی فتح نے ہندوستان میں بارود کے ہتھیاروں کی اہمیت کو ثابت کر دیا اور قرون وسطیٰ کی جنگوں کا خاتمہ کر کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ بابر نے دہلی اور آگرہ پر قبضہ کر لیا اور اس طرح مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی گئی۔
فتح کے بعد بابر نے اپنے سپاہیوں کو انعامات دیے اور خود آگرہ میں سکونت اختیار کی۔ اس نے لودھی سلطنت کے خزانے پر قبضہ کیا اور اپنے بیٹے ہمایوں کو سامانِ جنگ کا حصہ دیا۔ تاہم، اسے ابھی بھی ہندوستان میں اپنی حکومت کو مضبوط کرنا تھا، کیونکہ راجپوت اور افغان سردار اس کے خلاف متحد ہو رہے تھے۔ اس جنگ نے بابر کو ایک مضبوط بنیاد دی، جس پر وہ آگے چل کر اپنی سلطنت تعمیر کر سکا۔
پانی پت کی پہلی جنگ نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اس نے برصغیر میں اسلامی تہذیب کی ایک نئی لہر کو جنم دیا جو فن تعمیر، زبان اور ثقافت میں اپنے نقوش چھوڑ گئی۔ بابر کی فتح نے دراصل مغلوں کو ہندوستان میں داخل ہونے کا راستہ دیا، اور آنے والی صدیوں میں ان کی حکمرانی نے اس خطے کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔
![]()

