Daily Roshni News

پانی کی کہانی۔ پانی سنتا ہے. پانی غصہ بھی کرتا ہے پانی خوش بھی ہوتا ہے..

پانی کی کہانی۔ پانی سنتا ہے. پانی غصہ بھی کرتا ہے پانی خوش بھی ہوتا ہے..

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک جاپانی سائنس دان نے جب کچھ قرآنی آیات کا ترجمہ اپنی جاپانی زبان میں سنا تو اس کا زھن ایک اسی نکتے پر رک گیا۔ وہ سائنس دان تھا۔ ھر معمولی چیز پر تحقیق کرنا اس کی فطرت میں شامل تھا۔

وہ سوچنے لگا کہ جب ھر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ھے تو پھر یہی پانی بے جان کیسے ھوسکتا ھے؟ اس سے پیدا ھونے والا انسان اور جانور محسوسات اور جذبات رکھتے ہیں تو پانی کیوں نہیں جذبات رکھتا؟۔ ایک دن اس نے ایک گلاس پانی لیا اور اسے انتہائی طاقتور خوردبین کے نیچے رکھا ۔ اس نے دیکھا کہ پانی کے اندر مختلف کرسٹل بن رھے ہیں۔ اس نے اپنے دل میں نہایت ہی اچھے جذبات پیدا کئے اور پانی کا شکریہ ادا کرنا شروع کیا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اے پانی تو زندگی کے لئے بہت ضروری ھے اس کرہ ارض پر ھر جاندار صرف تمہاری وجہ سے سانس لے رھا ھے اور زندہ ھے مجھے تم سے محبت ھے تو سمندروں اور جھیلوں میں کتنا خوبصورت دکھائی دیتا ھے ۔ ۔۔۔۔۔۔ اس نے نوٹ کیا کہ پانی اس کی بات سن رھا ھے اور اسے جواب بھی دے رھا ھے ۔ بلکہ اس کے محبت بھرے الفاظ سے پانی بے حد خوشی محسوس کر رھا ھے ۔ پانی میں بننے والے کرسٹلز انتہائی خوبصورت بننے لگے تھے ۔ ان میں ایک ترتیب خوبصورتی اور خوش رنگت بن رھی تھی ۔ پانی کے اندر جیسے خوبصورت رنگوں کی کہکشاں اتر آئی تھی ۔

یہ انتہائی حیران کن تھا۔  اس نے کچھ دیر خاموش رہ کر اپنے دل میں نفرت انگیز جذبات پیدا کئے پانی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ اس کے لہجے میں نفرت تھی اور پانی پر غصے کا اظہار کر رھا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے خوربین کے نیچے پڑے گلاس میں موجود پانی کے کرسٹلز نے اپنی شکل بدلنا شروع کر دی ۔ اب کی بار پانی کے کرسٹلز نے کانٹوں جیسی نوکیلی اور بھدی شکل اور خراب رنگت اختیار کرنا شروع کر دی ۔ وہ نفرت کا اظہار کرتا جا رھا تھا اور پانی جواب میں اسی کی طرح نفرت کی شکل بنا کر جواب دے رھا تھا۔

یہ جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو تھا اس کے سامنے عام سا پانی کسی زندہ جاندار کی طرح جذبات کا اظہار کر رھا تھا۔سائنس بار بار تجربات کرنے اور اس کا مشاھدہ کرنے کا نام ھے چنانچہ اس نے درجنوں بار یہی تجربہ دہرایا اور درجنوں بار ایک ہی نتیجہ پایا۔ ثابت ھوچکا تھا کہ پانی جس سے تمام جاندار پیدا کئے گئے ہین خود بھی ایک جاندار کی طرح ہی جذبات رکھتا تھا۔

ڈاکٹر ایموٹو یہی تک نہیں رکا۔ اس نے تین گلاس لئے ان میں مٹر کے دانے ڈالے اور الگ الگ جگہ پر رکھ دیا۔ وہ ھر روز ان کے پاس جاتا ایک گلاس کے سامنے محبت اور شکریہ کے الفاط کہتا دوسرے کے سامنے نفرت اور غصے کا اظہار کیا۔ جبکہ تیسرے کے سامنے کسی بھی جذبے کا اظہار نہ کیا۔ کچھ دن کے بعد نتائج سامنے آنے لگے ۔ جس ے نفرت اور غصے کا اظہار کیا گیا تھا اس کے مٹر کے دانے گل سڑ چکے تھے جس کے سامنے کسی جذبے کا اظہار نہیں کیا تھا اس کے دانے سڑنا شروع ھو گئے تھے لیکن ابھی تک درست تھے جبکہ جس کے سامنے محبت کا اظہار کیا گیا تھا اس گلاس کے اندر مٹر کے دانے باکل تندرست اور تازہ حالت میں تھے۔

اس کے بعد اس نے کچھ اور سوچا۔ اس نے پانی کے مختلف گلاسوں کے سامنے مختلف مذاھب کی الہامی کتابوں جن میں قران پاک بھی شامل تھا کی ریکارڈنگ سنوانا شروع کر دی۔ اور کچھ کے سامنے گانوں او میوزک کی ریکارڈنگ سنوانا شروع کی ۔

کچھ روز بعد اس نے پانی کا خوردبینی جائزہ لیا تو معلوم ھوا کہ الہامی کتابوں کی ریکارڈنگ سننے والے پانی کے گلاسوں میں خوبصورتیوں کی ایک دنیا آباد تھی جبکہ میوزک والے گلاسوں کے کرسٹلز کراھت آمیز شکل اختیار کر چکے تھے ۔ میوزک والے گلاسوں کا پانی گندا بھی ھوچکا تھا جبکہ تلاوت والے گلاسوں کا پانی بالکل تازہ اور صاف تھا۔

خیال یا جذبات کے پانی پر پڑنے والے اثر کو سمجھنے کے لئے یا پھر ان کی وجہ سے پانی کی سالماتی ساخت میں آنے والے تبدیلی کا ثبوت حاصل کرنے کے لئے پانی کی بوندوں کے مالیکیولز سے کرسٹل بنا کر اسے ‘‘ڈارک فیلڈ خوردبین’’ کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس آلہ میں تصاویر لینے کی صلاحیت ہے۔

اور ہر جاندار چیز کو پانی سے زندگی بخشی ،(الانیباء : 30)

اللہ نے ہر چلنے والے جاندار کوپانی سے پیداکیا ۔ (نور۔45)

ھمارا جسم 75 فیصد پانی پر مبنی ھوتا ھے ۔  جب دن رات ھمارے جسم میں سے نفرت انگیز جذبات غصہ حسد جلن ، منفی سوچیں لالچ انتقام وغیرہ پیدا ھونگے تو اس جسم میں موجود پانی کا جو حال ھوتا ھوگا اس کا تصور کرنا مشکل نہیں۔ ھماری بہت سی تکلیفیں اور بیماریاں ھماری اپنی منفی سوچوں کی وجہ جنم لیتی ہیں ۔ جب ھمیں ھمارادین برے کاموں سے روکتا ھے تو اس کے پیچھے سب سے بڑا مقصد یہی ھوتا ھے کہ ان برے کاموں کے منفی اثرات خود ھمارے لئے ہی مہلک ثابت ھوتے ہیں۔ جبکہ کسی سے دو میٹھے بول بولنے سے ، شکریہ ادا کرنے سے تسلی حوصلہ دینے سے بے غرض محبت کا اظہار کرنے سے آپ کے اردگرد انسان اور خود آپ کے جسم میں موجودپانی کے کرسٹلز صحتمند ردعمل ظاھر کرتے ہیئں۔ آپ صبح اٹھ کر اپنی بیوی یا اپنے بچے یا اپنے شوھر یا پھر اپنے ملازم  کی کسی ایک بات ، خوبی یا خوبصورتی  کی تعریف کرکے دیکھئیے اآپ کے مثبت اور خوبصورت الفاظ اسے سارا دن ھواؤں میں اڑاتے پھریں گے۔ دنیا کی ہر چیز چاہے وہ درخت ہو پتھر ہو گھاس ہو ہوا ہو یا پانی ہو محسوس بھی کرتی ہے سنتی بھی ہے اپنے خالق کی تسبیح بھی کرتی ہے اور ہم انسانوں کے جذبات سے متاثر بھی ہوتی ہے.. اب تو فزکس بھی یہ چیز مانتی کہ جب ہم کسی بھی چیز کو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو تب اس کا رویہ کچھ اور ہوتا ہے اور جب نہیں دیکھ رہے ہوتے تو اس کا رویہ دوسرا ہو جاتا ہے.. اگر فزکس کے اس تجربے پر سادہ اور آسان سی تحریر چاہتے ہیں تو ان شا اللہ تعالیٰ ضرور شیئر کروں گا..

تصویر میں بنے کرسٹلز مختلف الفاظ اور جذبات کے نتیجے میں پانی نے بنائے تھے…

مجنوں

Loading