پاکستانی ذہن کیسے بنا؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم کچھ باتیں سوچنے سے پہلے ہی مان لیتے ہیں؟
بچے سے پوچھیں: “بڑے ہوکر کیا بنو گے؟”
وہ شاید ڈاکٹر کہے گا، انجینئر کہے گا، سرکاری افسر کہے گا۔
لیکن بہت کم بچے کہیں گے:
“میں کوئی ایسا کام کرنا چاہتا ہوں جو ابھی دنیا میں موجود ہی نہیں۔”
سوال یہ نہیں کہ ہمارے بچے کم خواب دیکھتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے:
ہم نے انہیں خواب دیکھنا کس حد تک سکھایا ہے؟
—
ہم اکثر کہتے ہیں:
“پاکستانی لوگ ایسے ہی ہیں۔”
“ہم risk نہیں لیتے۔”
“ہم تبدیلی پسند نہیں کرتے۔”
“ہمیں سرکاری نوکری چاہیے۔”
“ہم لوگوں کی باتوں سے بہت ڈرتے ہیں۔”
“ہم اپنے بچوں کو محفوظ راستہ دکھاتے ہیں۔”
لیکن ذرا رک کر سوچیں۔
کیا یہ واقعی ہماری فطرت ہے؟
یا پھر یہ وہ ذہنی عادات ہیں جو نسلوں کے تجربات سے آہستہ آہستہ پیدا ہوئی ہیں؟
—
ایک بچے کا ذہن خالی کاغذ نہیں
بچہ دنیا میں آتے ہی یہ نہیں جانتا کہ کامیابی کیا ہے۔
اسے سکھایا جاتا ہے۔
وہ گھر میں سنتا ہے:
“اچھے نمبر لاؤ۔”
اسکول میں سنتا ہے:
“اچھی نوکری حاصل کرو۔”
معاشرے میں سنتا ہے:
“لوگ کیا کہیں گے؟”
رشتہ داروں سے سنتا ہے:
“دوسرے کا بیٹا کہاں پہنچ گیا؟”
اور پھر ایک دن وہ خود سے کہتا ہے:
“مجھے کامیاب ہونا ہے۔”
لیکن اسے یہ خیال نہیں آتا کہ:
“مجھے کامیابی کی یہ تعریف ملی کہاں سے؟”
یہی Socialization ہے۔
یعنی وہ عمل جس کے ذریعے معاشرہ اپنے اقدار، اصول، توقعات اور رویے نئی نسل تک منتقل کرتا ہے۔
—
پاکستانی ذہن صرف گھر نے نہیں بنایا
ہماری سوچ پر خاندان کا اثر ہے۔
تعلیم کا اثر ہے۔
معاشی حالات کا اثر ہے۔
مذہبی اور ثقافتی ماحول کا اثر ہے۔
میڈیا کا اثر ہے۔
تاریخ کا اثر ہے۔
اور ریاستی و معاشی تجربات کا بھی اثر ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جو طویل عرصے تک عدم تحفظ، سیاسی تبدیلی، معاشی دباؤ اور محدود مواقع کا سامنا کرے، وہاں لوگوں کے لیے Security زیادہ اہم ہوسکتی ہے۔
اور جب تحفظ بنیادی ترجیح بن جائے تو risk لینا غیر ضروری خطرہ محسوس ہوسکتا ہے۔
اسی لیے ممکن ہے کہ ایک والد اپنے بچے سے کہے:
“بس کوئی اچھی سرکاری نوکری مل جائے، زندگی بن جائے گی۔”
وہ شاید بچے کی آزادی محدود نہیں کررہا۔
وہ اپنی زندگی کے تجربے سے اسے تحفظ دے رہا ہے۔
—
پھر “لوگ کیا کہیں گے” اتنا طاقتور کیوں ہے؟
یہ جملہ صرف ایک محاورہ نہیں۔
یہ ایک سماجی mechanism بھی ہوسکتا ہے۔
انسان سماجی مخلوق ہے۔
اسے تعلق چاہیے۔
قبولیت چاہیے۔
اپنائیت چاہیے۔
اور معاشرے سے خارج ہوجانے کا خوف بھی انسان کے فیصلوں پر اثر ڈالتا ہے۔
اسی لیے بعض اوقات ہم وہ کام نہیں کرتے جو ہمیں درست لگتا ہے۔
ہم یہ سوچتے ہیں:
“لوگ کیا کہیں گے؟”
پھر ہم اپنی خواہش بدل دیتے ہیں۔
اپنا لباس بدل دیتے ہیں۔
اپنا career بدل دیتے ہیں۔
اپنی شادی کے فیصلے بدل دیتے ہیں۔
اپنے بچوں کے خواب بدل دیتے ہیں۔
اور کبھی کبھی پوری زندگی صرف اس لیے ایک ایسے راستے پر گزار دیتے ہیں جو ہمیں پسند ہی نہیں تھا۔
—
عدم تحفظ انسان کو محتاط بناتا ہے
یہاں ایک بہت اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ہر محتاط انسان بزدل نہیں ہوتا۔
کبھی احتیاط تاریخ کا نتیجہ ہوتی ہے۔
اگر ایک خاندان نے کئی نسلوں تک معاشی غیر یقینی دیکھی ہو تو اس کے لیے “محفوظ نوکری” صرف نوکری نہیں رہتی۔
وہ زندگی کا حفاظتی نظام بن جاتی ہے۔
اگر ایک شخص نے دیکھا ہو کہ کاروبار میں نقصان ہوا تو پورا خاندان بحران میں چلا گیا، تو وہ اپنے بچے کو کہے گا:
“کاروبار مت کرنا، نوکری کرنا۔”
اس کے بچے کو شاید یہ مشورہ قدامت پسند لگے۔
لیکن والد کے لیے یہ تجربے سے نکلا ہوا اصول ہے۔
یہاں نسلوں کے تجربات ایک نسل سے دوسری نسل کے ذہن میں منتقل ہوتے ہیں۔
—
یہی وجہ ہے کہ تاریخ ذہن کے اندر رہ جاتی ہے
ہم سمجھتے ہیں کہ تاریخ کتابوں میں ہوتی ہے۔
لیکن تاریخ صرف کتابوں میں نہیں رہتی۔
کبھی وہ خاندان کے خوف میں رہتی ہے۔
کبھی معاشرتی رویوں میں۔
کبھی اداروں میں۔
کبھی زبان میں۔
اور کبھی ان خوابوں میں جو ہم دیکھنے سے بھی ڈرتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں تقسیم، ہجرت، سیاسی عدم استحکام، جنگیں، معاشی بحران اور سماجی تبدیلیاں صرف تاریخ کے واقعات نہیں رہے۔
ان کے اثرات لوگوں کے تجربات اور اگلی نسلوں کی تربیت میں بھی منتقل ہوئے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ ہر پاکستانی کا ذہن صرف انہی عوامل سے بنا ہے۔
لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ تاریخی تجربات اجتماعی ذہنی ماحول تشکیل دے سکتے ہیں۔
—
غربت صرف آمدنی نہیں، توقعات بھی بدل سکتی ہے
ایک بچے کو بار بار کہا جائے:
“یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔”
تو ایک وقت کے بعد ممکن ہے وہ کوشش سے پہلے ہی امکانات کم سمجھنے لگے۔
یہاں Learned Helplessness کا تصور مدد دیتا ہے۔
بار بار بے بسی کے تجربات بعض حالات میں انسان کو یہ سیکھا سکتے ہیں کہ اس کی کوشش سے نتیجہ نہیں بدلے گا۔
لیکن اسے ہر غریب یا محروم شخص پر لاگو کرنا غلط ہوگا۔
کیونکہ انسان صرف حالات کا شکار نہیں۔
وہ حالات کے خلاف مزاحمت بھی کرسکتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے:
ہم ایک ایسا معاشرہ کیوں نہ بنائیں جہاں لوگوں کو بے بسی سیکھنے کے بجائے اختیار سیکھنے کے زیادہ مواقع ملیں؟
—
پاکستانی ذہن کی ایک عجیب دوڑ
ہم اپنے بچوں سے کہتے ہیں:
“محنت کرو۔”
پھر کہتے ہیں:
“رسک مت لینا۔”
ہم کہتے ہیں:
“آگے بڑھو۔”
پھر کہتے ہیں:
“لوگ کیا کہیں گے؟”
ہم کہتے ہیں:
“اپنے فیصلے خود کرو۔”
پھر کہتے ہیں:
“پہلے خاندان سے پوچھو۔”
ہم کہتے ہیں:
“اپنا کاروبار کرو۔”
پھر کہتے ہیں:
“نوکری سب سے محفوظ ہے۔”
یہ تضادات اتفاق نہیں۔
یہ ایک ایسے معاشرے کی علامت ہوسکتے ہیں جو ترقی بھی چاہتا ہے اور تحفظ بھی۔
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب تحفظ کی ضرورت اتنی بڑھ جائے کہ وہ امکانات کو ہی محدود کردے۔
—
لیکن یہاں ایک اور راز چھپا ہے
اگر معاشرہ ہماری سوچ بناتا ہے تو پھر ہماری خواہشیں بھی مکمل طور پر ہماری اپنی نہیں رہتیں۔
ہم کس چیز کو خوبصورت سمجھتے ہیں؟
کیا خریدنا چاہتے ہیں؟
کس profession کو عزت دیتے ہیں؟
کس شخص کو کامیاب سمجھتے ہیں؟
کس lifestyle کو “اچھی زندگی” کہتے ہیں؟
ان سوالات کے جواب صرف ہمارے اندر سے نہیں آتے۔
یہ سوال ہمیں اگلی قسط کی طرف لے جاتا ہے۔
کیونکہ شاید ہم نے اب تک سب سے خطرناک سوال نہیں پوچھا:
اگر معاشرہ ہماری سوچ بناتا ہے، تو ہماری خواہشیں کون بناتا ہے؟
اور جب ہمیں یہ سمجھ آنا شروع ہوگا کہ ہماری خواہشیں کیسے بنتی ہیں، تو شاید ہمیں پہلی بار یہ بھی سمجھ آئے گا کہ…
ہم اپنی زندگی میں بہت سی چیزیں چاہتے کیوں ہیں، جبکہ ہمیں یاد بھی نہیں کہ ہم نے انہیں چاہنا کب شروع کیا تھا۔
— پروفیسر اسامہ رضا | Psychoremedy
![]()

