Daily Roshni News

پاکستان کی تاریخ کا پہلا سیاسی قتل

پاکستان کی تاریخ کا پہلا سیاسی قتل

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )16 اکتوبر 1951ء کی وہ نحس  سہ پہر، راولپنڈی کے کمپنی باغ کا میدان اور ایک لاکھ سے زائد کا مجمع! جیسے ہی قائدِ ملت خان لیاقت علی خان نے مائیک پر پہنچ کر اپنے دلنشیں انداز میں “برادرانِ ملت!” کے الفاظ ادا کیے، فضا اچانک دو گولیوں کے دھماکوں سے تھرا اٹھی۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے سینے سے خون کے فوارے چھوٹ پڑے اور وہ زمین پر آ رہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسٹیج کے سامنے افراتفری مچ گئی اور چند ہی لمحوں میں ملک کا پہلا وزیراعظم اور قائدِ اعظم کا سب سے بھروسے مند ساتھی ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا۔ لیکن یہ صرف ایک لیڈر کا قتل نہیں تھا، یہ پاکستان کی جمہوریت، تاریخ اور مستقبل پر چلنے والا پہلا تیر تھا جس کی گونج آج بھی ہماری فضاؤں میں سنائی دیتی ہے۔

​قاتل کون تھا اور اس وقت اسٹیج کے قریب کیا ہوا؟ فائرنگ کرنے والا شخص “سید اکبر” نامی ایک افغانی باشندہ تھا، جو حیرت انگیز طور پر سی آئی ڈی (CID) کے لیے مخصوص جگہ پر اگلی قطار میں بیٹھا ہوا تھا! ایک غیر ملکی باشندہ، جس پر خفیہ ایجنسیوں کی نظر ہونی چاہیے تھی، وہ وزیراعظم کے اتنے قریب کیسے پہنچ گیا؟ اس سے بھی بڑا پراسرار موڑ تب آیا جب پولیس افسر محمد شاہ نے موقع پر ہی سید اکبر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور مشتعل ہجوم نے اس کی لاش کے ٹکڑے کر دیے۔ اس کے ساتھ ہی وہ واحد زبانی گواہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا جو اس سازش کے اصلی چہروں سے نقاب اٹھا سکتا تھا۔

​کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ سنسنی خیز اور پراسرار موڑ تو اس کے بعد شروع ہوتے ہیں۔ اس ہائی پروفائل قتل کی تحقیقات کے لیے خصوصی پولیس کے انسپکٹر جنرل نواب زادہ اعتزاز الدین کو مقرر کیا گیا۔ اعتزاز الدین نے رات دن ایک کر کے اہم ترین حساس دستاویزات، بیانات اور شواہد پر مشتمل ایک خفیہ فائل تیار کی۔ وہ اس کیس کی فائنل رپورٹ لے کر کراچی سے پشاور جا رہے تھے کہ ان کا طیارہ ہوائی حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا! طیارے میں موجود تمام افراد کے ساتھ وہ تمام راز، اہم دستاویزات اور تحقیقاتی فائلیں بھی جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔ اس حادثے نے اس شک کو یقین میں بدل دیا کہ یہ محض ایک فرد کا اقدام نہیں، بلکہ ایک انتہائی طاقتور بین الاقوامی یا داخلی سازش تھی جس کے نشانات بڑی صفائی سے مٹائے جا رہے تھے۔

​لیکن لیاقت علی خان کا قتل کیوں کیا گیا؟ اس کے پیچھے سرد جنگ کی کون سی بین الاقوامی سیاست کام کر رہی تھی؟ 1950ء کی دہائی میں دنیا دو بلاکس یعنی امریکہ اور سوویت یونین (روس) میں تقسیم ہو چکی تھی۔ وزیراعظم لیاقت علی خان کو سوویت یونین کی طرف سے دورے کی دعوت ملی تھی، لیکن کچھ سفارتی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر انہوں نے امریکہ کا دورہ منتخب کیا۔ کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ وہ پاکستان کو کسی ایک بلاک کی کٹھ پتلی بنانے کے بجائے آزادانہ خارجہ پالیسی اور پاکستان کے اپنے قومی مفادات (خاص طور پر تیل کے ذخائر اور فوج کی خود مختاری) پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ امریکہ چاہتا تھا کہ پاکستان خطے میں اس کا مکمل حلیف بنے، جبکہ روس اس بڑھتے ہوئے امریکی اثر و رسوخ سے نالاں تھا۔ یوں طاقتور عالمی قوتوں اور داخلی اقتدار کی جنگ کے درمیان خان لیاقت علی خان ایک ایسی دیوار بن گئے تھے جسے راستے سے ہٹانا کئی طاقتوں کے مفاد میں تھا۔

​سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم بلائی گئی، تحقیقاتی کمیشن بنے، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات! سید اکبر کا قتل، تحقیقاتی افسر کی پراسرار طیارہ حادثے میں موت، اور فائل کا غائب ہو جانا آج بھی پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا غیر حل شدہ راز ہے۔ راولپنڈی کا وہی کمپنی باغ جو بعد میں “لیاقت باغ” کہلایا، پاکستان کے پہلے سیاسی قتل کا گواہ بنا اور پھر دہائیوں بعد اسی زمین نے محترمہ بے نظیر بھٹو کا خون بھی اپنے اندر جذب کیا۔ لیاقت علی خان کے آخری الفاظ “خدا پاکستان کی حفاظت کرے” آج بھی ہمارے نظام اور ضمیر پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن کر لٹک رہے ہیں!

#لیاقت_علی_خان

​#پاکستان_کی_تاریخ

​#سیاسی_قتل

​#قائد_ملت

​#راولپنڈی_حادثہ

​#LiaquatAliKhan

​#PakistanHistory

​#FirstPrimeMinister

​#CompanyBagh

​#RawalpindiIncident

Loading