پاکستان کے مایہ ناز سائنس ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کی سائنس میں کیا خدمات ہیں اور اُنہیں کونسے ایوارڈ ملے ہیں۔۔۔۔۔۔!!!؟
تحریر۔۔۔ غلام نبی سولنگی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحریر۔۔۔ غلام نبی سولنگی )اس سے پہلے بھی میں نے ہود بھائی پر ایک آرٹیکل لکھا تھا۔جس پر کئی لوگوں نے تنقید کی اور کہا کہ پرویز ہودبھائی کی سائنسی خدمات کیا ہے ؟انہوں نے کون سی خدمات کی ہے سائنس کی؟آج اس تحریر میں ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کی سائنسی خدمات اور جو انہیں ایوارڈ ملے ہیں ان کا ذکر کرے گے،افسوس ہے کہ ہم وہ قوم ہیں جو اپنے ژندہ ہیروز کی قدر نہیں کرتے اور مرنے کے بعد ان کی اہمیت سمجھ آتی ہیں۔اس دوغلے پن کو کیا نام دیں۔۔۔؟بھرحال بات کو آگے بڑھانے سے پہلے اپنے موضوع پر آتے ہیں۔۔۔!!
پاکستان کے مایہ ناز سائنسدان ڈاکٹر پرویز ہودبھائی 11 جولائی 1950 کو کراچی میں پیدا ہوئے،کراچی گرامر اسکول میں انہوں نے او لیول اور اے لیول مکمل کیے،جس کے بعد وہ اسکالرشپ پر دنیا کی نمبر ون یونیورسٹی امریکا کی MIT یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے چلے گئے۔وہاں انہوں نے 1971 میں الیکٹریکل انجینئرنگ اور میتھس میں ڈبل بی ایس سی کی،وہیں انہوں نے ایم ایس سی فزکس کی ڈگری بھی لی،اور اسی برس انہوں نے قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں بطور لیکچرار جوائن کرلیا۔اس کے بعد وہ پی ایچ ڈی کرنے دوبارا امریکہ چلے گئے جہاں دوبارا MIT سے انہوں نے 1978 میں نیوکلیئر فزکس میں پی ایچ ڈی کی۔ہود بھائی نے امریکہ میں اپنی تحقیق کے دوران کئی مایہ ناز سائنسدانوں کے ساتھ کام کیا۔ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کا سائنسی کیرئیر 40 سال سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔۔۔۔!!!
ہودبھائی کی تحقیقات کا مرکز جدید پارٹیکل فزکس میں،کوانٹم فیلڈ تھیوری،پارٹیکل فینو مینولاجی،اور سبر سمٹری ہے۔اس حوالے سے ان کے 67 سے زیادہ ریسرچ مقالہ جات فزکس کی دنیا کے معتبر جرائد میں شائع ہوچکے ہیں،اس کے بعد ہودبھائی کے سائنس اور پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے کئی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ہودبھائی کا فزکس کے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام سے گہرا تعلق تھا ڈکٹر سلام کے شہر ٹرامیسیٹا میں بنائی گئی انٹرنیشنل فار تھیوریٹیکل فزکس ITP میں ہودبھائی نے کچھ عرصہ دیگر پاکستانی اور بین الاقوامی سائنسدانوں کے ساتھ بھی تحقیق کی ہے۔اٹلی سے واپسی پر ہودبھائی نے پاکستان میں دو بارہ سے تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔۔۔!!
ڈاکٹر پروفیسر پرویز ہودبھائی نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں 30 سال تک پڑھایا اور وہاں پر فزکس ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین بھی رہے،جس کے بعد وہ کچھ عرصے لمز اور ایف سی کالج لاہور میں بھی خدمات سر انجام دی۔ہودبھائی نے دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹیوں،
جیسے کہ Carnegie MIT Mellan میں بھی لیکچرز دیتے رہی ہیں،پاکستان میں سائنسی تحقیق اور سائنس کو فروغ کے حوالے سے ان کی طویل خدمات ہیں۔ہودبھائی نے مایہ ناز پاکستانی نیوکلیئر سائنسدان اشفاق احمد اور رضی الدیں کے ساتھ مل کر پاکستان میں نیشنل سینٹر فار فزکس کو قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کا مقصد پاکستانی سائنسدانوں کو انٹرنیشنل سائنسدانوں اور انڈسٹری سے جوڑنا تھا۔۔!!!
ڈاکٹر پروفیسر پرویز ہودبھائی کی پاکستان میں سائنس کی ترویج کے حوالے سے کئی خدمات ہیں،جیسے کہ پاکستان ٹیلی ویژن پر ان کے مختلف سائنسی پروگرامز کئی ادوار میں نشر یوئے۔ان پروگرامز میں راستے علم کے (1988) بزم کائنات (1994) اور اسرار جھاں (2001) شامل ہیں۔اور اس کے علاؤہ اس نے کتابیں بھی لکھیں ہیں۔۔۔!!
پرویز ہودبھائی کو ان کے طویل و بھرپور سائنسی کیریئر میں کئی قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔جس میں سر فہرست ہے عبدالسلام ایوارڈ،جو فزکس میں نمایاں کام کرنے پر دیا جاتا یے،ستارائے امتیاز،یہ پاکستان کا بڑا سول ایوارڈ ہے جو انہیں سائنس اور تعلیم میں خدمات پر دیا گیا،اس کے بعد فیض احمد فیض ایوارڈ،اور یونیسکو کا کالینگا ایوارڈ شامل ہیں۔بلاشبہ ڈاکٹر پرویز ہودبھائی پاکستان کا قیمتی اثاثہ اور صحیح معنوں میں نیشنل ہیرو ہیں۔۔۔!!!
پاکستان میں سائنسی سوچ،اور پرویز ہودبھائی پر تنقید کیوں کہ جارہی ہے،اور کیسے وہ ہر بات کو منطقی اور ثبوت کے ساتھ کہتے ہیں ان کو سمجھنے کیلئے ہمارے اس آرٹیکل کو پڑہیں۔۔۔۔!!
https://www.facebook.com/share/p/1FTtiN8PtA/
خوش رہیں سلامت رہیں اور سائنس سیکھتے رہیں
غلام نبی سولنگی
#سائنس_اور_سماج
![]()

