پولیس کا دائرہ کار
تحریر۔۔۔حمیراعلیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ پولیس کا دائرہ کار۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم )چند دن پہلے سوات کے ایک ایس ایچ او عبد العلی کو اس وجہ سے معطل کیا گیا کہ انہوں نے کھلی کچہری میں اپنے علاقے کی خواتین کو یہ مشورہ دیا کہ وہ بنا محرم کے بازار نہ جائیں اور شادی میں ناچ گانے پر پابندی عائد کی جائے۔شاید ان کا نقطہ نظر یہ ہو کہ اس طرح ہراسگی اور قتل کے واقعات پر قابو پایا جا سکے۔کیونکہ ایسے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں کہ کسی مرد نے اپنے گھر کی خواتین کی کسی شادی پر ناچنے کی ویڈیو دیکھی اور غصے میں آ کر انہیں قتل کر دیا۔لیکن پاکستان ایک آئینی و قانونی مملکت ہے جس میں صرف عدالتیں ہی ایسے فیصلے صادر کر سکتی ہیں جو لوگوں کی ذاتی آزادیوں، سماجی طرزِ زندگی، یا ثقافتی رسومات پر اثر انداز ہوں۔ پولیس افسران کا کام جرم کی روک تھام، امن و امان قائم رکھنا، تفتیش اور عدالتوں میں چالان جمع کرنا ہے نہ کہ وہ کسی مذہبی یا سماجی طرزِ عمل پر ذاتی فیصلے یا احکامات جاری کریں۔
گوجرانوالہ بار کے صدر ایڈوکیٹ سید طاہر شاہ کے مطابق پاکستان کے آئین کےآرٹیکل 4 کے مطابق ہر شہری کو قانون کے مطابق سلوک کا حق ہے۔
آرٹیکل 8 کہتا ہے کہ کوئی بھی اقدام بنیادی حقوق کے منافی ہو تو کالعدم ہوگا۔15 اور 25 کے مطابق شہری آزادی جیسے کہ عورتوں کا بازار جانا یا اپنی روزمرہ زندگی گزارنا ان کا حق ہے۔پولیس آرڈر 2002 صوبائی پولیس ایکٹس پولیس کو قانون کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کا اختیار دیتے ہیں؛ انہیں سماجی/اخلاقی ضابطے ازخود بنانے کا اختیار نہیں دیتے۔پولیس افسران کاکام رائے دینا یا اخلاقی احکامات صادر کرنا نہیں وہ ریاست کے نمائندے ہیں جو قانون نافذ کرتے ہیں نہ کہ ذاتی یا مذہبی نتائج بیان کرتے ہیں۔”
اعلیٰ عدالتیں بارہا قرار دے چکی ہیں کہ انتظامیہ بنیادی حقوق سلب نہیں کر سکتی جب تک واضح قانونی اختیار موجود نہ ہو۔پاکستانی قانون واضح طور پر پولیس کا کردار و دائرہ کار بتاتا ہے۔
پولیس کا کام ہے کہ وہ امن و امان قائم رکھے، مجرم گرفتار کرے، عدالتوں میں چالان پیش کرے، شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔
نہ کہ کسی شخص کے طرزِ زندگی یا سماجی رویے پر احکامات صادر کرے، ذاتی رائے کو سرکاری موقف کے طور پر عوام پر تھوپے۔
یہ پہلا واقعہ نہیں کہ کسی پولیس آفیسر نے ایسا کیا ہے۔بلکہ
پچھلے سال پنجاب میں ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے جہاں پولیس نے شادی بیاہ کی تقریب میں موسیقی اور ناچ گانے کے خلاف کارروائی کی۔ بعض کیسیز میں چھاپے بھی مارے اور مقدمات درج کیے گئے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پولیس نے نصیبو لال کے گانے چلنے اور ڈانس پر مقدمہ درج کیا۔ جھنگ میں پولیس نے اونچی آواز، ناچ، گانا اور شراب نوشی کی شکایات پر شادی کی تقریب پر چھاپہ بھی مارا۔لیکن ان معاملات میں جب پولیس نے کارروائی کی تو شور اور سپیکر ایکٹ/ ساؤنڈ سسٹمز ریگولیشن/ عمومی ضوابط کی خلاف ورزی کے تحت کی گئی نہ کہ مذہبی احکامات کے طور پر۔
مانا کہ اسلام نے ہر مسلمان پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فرض عائد کیا ہے۔لیکن بدقسمتی سے ممکت اسلامیہ پاکستان کے اندر انفرادی یا اجتماعی طور پر یہ ممکن نہیں صرف عدالت ہی یہ کام کر سکتی ہے کہ مذہبی احکام پر عمل درآمد کروائے۔اس لیے اگر تو عبدالعلی کو قانون کی خلاف ورزی یا ان کی افغان تنظیم کی حمایت کی وجہ سے معطل کیا گیا ہے تو بالکل درست اقدام ہے کیونکہ کسی سرکاری اہلکار کے لیے یہ بالکل درست نہیں کہ وہ حکومت کے خلاف بیان دے۔کیونکہ یہ ملکی سلامتی، غیر جانبداری یا آئینی معاملات سے متصادم کام ہیں۔
پولیس افسران کا بیانیہ ہمیشہ قانون، آئین اور ریاستی پالیسی کے مطابق ہونا چاہیے۔
لیکن اگر معطلی اسلامی اقدار یا فقہی تعلیمات کے نفاذ کی کوشش کے لیے ہوئی تو لمحہ فکریہ ہے کہ کیا کوئی شخص یا سرکاری عہدیدار بحیثیت مسلمان اپنے علاقے میں امن و امان بحال کرنے کے لیے علاقے کے معززین کے مشورے اور تعاون سے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتا جو ضروری ہو۔
اس کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ اگر پولیس اپنا فرض پوری ذمے داری اور مستعدی سے نبھائے تو ایسی کچہریاں لگانے ایسے بیانات دینے کی نوبت ہی نہ آئے۔اگر کسی مجرم کو فورا پکڑ کر سزا دی جائے تو کوئی مجرمانہ ذہنیت والا شخص جرم کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔سزا کے ڈر سے جرائم کی شرح میں کمی واقعہ ہو گی۔
جرم کو ختم کرنے کی بجائے لوگوں پر پابندیاں عائد کرنا اور یہ توقع رکھنا کہ لوگ خاموشی سے ان پابندیوں کی پاسداری کریں گے بچکانہ سوچ اور نا ممکن عمل ہے۔فرض کیجئے کسی خاتون کے گھر میں باپ، بھائی، بیٹا یا کوئی محرم مرد موجود نہیں تو کیا وہ باہر ہی نہیں نکل سکتی؟ اس کے گھر کا خرچہ ، سودا سلف ، دیگر کام کون کرے گا؟؟؟کیا اسلام اس صورت میں خواتین کو جاب ، بزنس، گھر کے کاموں کے لیے باہر جانے سے منع کرتا ہے؟؟؟ نہیں۔ہرگز نہیں کیونکہ اسلام دین فطرت ہے یہ لوگوں پر ایسی پابندیاں عائد نہیں کرتا جوان کے لیے مشکلات پیدا کریں۔پھر کوئی پولیس آفیسر کیسے ایسی پابندی عائد کر سکتا ہے؟
اس لیے بہتر ہو گا لوگ اپنے فرائض پر توجہ دیں اور اپنی ڈیوٹی نبھائیں۔اگر جرائم کی روک تھام کے لیے کوئی قدم اٹھانا اشد ضروری ہو تو پھر تھرو پراپر چینل کام کیا جائے۔پولیس عدالت سے رجوع کرے اور قانون کے تحت کاروائی کرے۔لوگ خود ایسے کاموں سے پرہیز کریں جو فتنے یا فساد کا باعث بنیں۔
![]()

