Daily Roshni News

پہلے اپنا خیال رکھیں۔۔۔ انتخاب  ۔۔۔۔  میاں عمران

پہلے اپنا خیال رکھیں

انتخاب  ۔۔۔۔۔۔۔  میاں عمران

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ پہلے اپنا خیال رکھیں۔۔۔ انتخاب  ۔۔۔۔  میاں عمران)کبھی کبھی زندگی میں سب سے بڑا نقصان کسی انسان کا چلے جانا نہیں ہوتا۔ اس سے بھی زیادہ خاموش اور گہرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کوئی انسان آپ کی زندگی میں موجود رہتا ہے، آپ کے ساتھ رہتا ہے، آپ سے بات کرتا ہے، آپ کے ساتھ کھانا کھاتا ہے، آپ کے ساتھ تصویریں بنواتا ہے، لوگ آپ دونوں کو خوش جوڑا سمجھتے ہیں، مگر اسی رشتے کے اندر رہتے رہتے آپ خود سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ اتنے دور کہ ایک دن آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر آپ کو اپنا ہی عکس اجنبی لگنے لگتا ہے۔ آپ سوچتے ہیں، میرا میں وہ کہاں گیا جو کبھی اتنی بے فکری سے ہنستا تھا؟ جو اپنی پسند کا لباس پہنتا تھا؟ جو کسی بات پر اختلاف کرنے سے نہیں ڈرتا تھا؟ جو اپنے خوابوں کے بارے میں گھنٹوں بات کرتا تھا؟ جو جانتا تھا کہ اسے کیا پسند ہے اور کیا نہیں پسند؟ وہ کہاں چلا گیا؟ اور پھر شاید پہلی مرتبہ آپ کو احساس ہوتا ہے کہ وہ کہیں گیا نہیں تھا، آپ نے اسے راستے میں چھوڑ دیا تھا۔

کیا کسی کو بچاتے بچاتے آپ نے خود کو تو نہیں کھو دیا؟

سو دن سو سوال سیریز — دن نمبر 81

محمد شاہد سید مائنڈ ٹرانسفارمیشن ماسٹر

زیب جب میرے پاس آئی تو اس نے اپنی کہانی کسی کی شکایت سے شروع نہیں کی۔ اس نے یہ بھی نہیں کہا کہ اس کا شوہر برا آدمی ہے۔ اس نے صرف اتنا کہا کہ سر ، مجھے لگتا ہے میں پہلے جیسی نہیں رہی۔ میں نے پوچھا، کس طرح؟ وہ کچھ دیر خاموش رہی، پھر بولی، پہلے میں بہت ہنستی تھی۔ میں اپنی دوستوں کے ساتھ گھنٹوں بات کرتی تھی۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ مجھے سفر کرنا پسند تھا۔ میں اپنے کپڑے خود پسند کرتی تھی۔ مجھے گانا سننا اچھا لگتا تھا۔ میں ہر چیز کے بارے میں اپنی رائے رکھتی تھی۔ پھر شادی ہوئی۔ شروع میں میں نے سوچا کہ محبت میں کچھ چیزیں چھوڑنی پڑتی ہیں، کوئی مسئلہ نہیں۔ پھر میں نے اس کی پسند کو اپنی پسند سمجھنا شروع کیا۔ جہاں اسے جانا پسند نہیں تھا، میں نے جانا چھوڑ دیا۔ جس دوست سے اسے مسئلہ تھا، میں نے اس سے ملنا چھوڑ دیا۔ اسے میری کچھ باتیں پسند نہیں تھیں، میں نے وہ باتیں کہنا چھوڑ دیں۔ اسے میرا کسی سے زیادہ ہنس کر بات کرنا اچھا نہیں لگتا تھا، میں نے ہنسنا کم کر دیا۔ اسے میرے دیر تک جاگنے سے مسئلہ تھا، میں جلدی سونے لگی۔کتابیں چھٹ گئیں۔ اسے میرے کچھ خواب غیر ضروری لگے، میں نے ان کے بارے میں بات کرنا چھوڑ دی۔ پھر ایک دن مجھے احساس ہوا کہ میں ہر فیصلہ اس بنیاد پر کر رہی ہوں کہ اسے کیا پسند آئے گا، مگر مجھے یہ یاد ہی نہیں رہا کہ مجھے کیا پسند ہے۔

وہ رکی اور آہستہ سے بولی، سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اس نے مجھ سے کبھی یہ نہیں کہا کہ تم اپنی زندگی چھوڑ دو۔ یہ تو میں خود ہی چھوڑتی گئی۔

یہ جملہ بہت اہم تھا۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ خود کو کھونا ہمیشہ کسی کے زبردستی چھین لینے سے ہوتا ہے۔ ایسا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی محبت کے نام پر ہم خود اپنی حدود پیچھے کرتے جاتے ہیں۔ پہلے ایک چھوٹی سی رعایت دیتے ہیں، پھر دوسری، پھر تیسری۔ ہم سوچتے ہیں، اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے۔ پھر کسی ایک دن ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رعایتیں جمع ہو کر ہماری شخصیت کا نقشہ بدل چکی ہیں۔ ہم نے ایک ایک کر کے اپنی پسندیں، اپنی ترجیحات، اپنی دوستیاں، اپنے خواب، اپنی آواز اور اپنے فیصلے کسی اور کے آرام کے حوالے کر دیے ہیں۔ اور پھر بھی ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے صرف محبت نبھائی ہے۔

محبت اور خود فراموشی میں یہی فرق ہے۔

محبت میں انسان دوسرے کے لیے جگہ بناتا ہے۔ خود فراموشی میں انسان اپنے اندر سے جگہ ختم کر دیتا ہے۔ محبت کہتی ہے کہ تم اہم ہو اور میں بھی اہم ہوں۔ خود فراموشی کہتی ہے کہ تم اہم ہو، اس لیے میں اہم نہیں رہا۔ محبت میں قربانی کبھی کبھی آتی ہے، مگر قربانی مستقل شناخت نہیں بنتی۔ اگر ہر بار صرف ایک ہی شخص جھکتا رہے، ہر بار ایک ہی شخص معافی مانگے، ہر بار ایک ہی شخص اپنی خواہش دبائے، ہر بار ایک ہی شخص اپنے دوست چھوڑے، ہر بار ایک ہی شخص خاموش ہو، تو اسے صرف محبت کہنا حقیقت سے آنکھیں چرانا ہے۔

زیب نے بتایا کہ کچھ سال بعد اس کا شوہر اس کی خاموشی کا عادی ہو گیا۔ اب وہ خود بھی نہیں پوچھتا تھا کہ تم کیا چاہتی ہو۔ شاید اس لیے کہ اسے معلوم تھا، زیبو آخر میں وہی کہے گی جو گھر میں سب چاہتے ہیں۔

 ایک دن خاندان میں کسی تقریب پر جانے کا فیصلہ ہوا۔ زیب جانا نہیں چاہتی تھی۔ وہ تھکی ہوئی تھی اور کئی دن سے ذہنی طور پر بوجھل محسوس کر رہی تھی۔ شوہر نے پوچھا، ہم ساتھ چلیں گے؟ زیب نے حسبِ معمول کہا، جیسا آپ مناسب سمجھیں۔ شوہر نے کہا، ٹھیک ہے پھر چلتے ہیں۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے وہ اچانک رو پڑی۔

شوہر حیران ہوا۔ اس نے پوچھا، کیا ہوا؟

زیب نے کہا، مجھے نہیں معلوم۔ مگر شاید اسے معلوم تھا۔

اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا تھا کہ اب تو یہ حالت ہوچکی کہ اس کے اپنے فیصلے کی آواز اس کے اندر سے نکلنا تقریباً بند ہو چکی ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں رشتہ باہر سے قائم رہتا ہے، مگر اندر سے انسان کمزور ہونے لگتا ہے۔

 اور یہ صرف عورتوں کی کہانی نہیں۔ مرد بھی اسی طرح خود کو کھو دیتے ہیں۔ کوئی مرد اپنے خاندان کی خاطر اپنے شوق دفن کر دیتا ہے، اپنے دوست چھوڑ دیتا ہے، ہر وقت مضبوط بننے کی کوشش میں اپنی کمزوری چھپا لیتا ہے، اپنی پسند ناپسند کو غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے۔

کوئی بیٹا اپنے والدین کو خوش رکھنے کے لیے وہ زندگی اختیار کر لیتا ہے جو اس کی اپنی نہیں تھی۔ کوئی بیٹی خاندان کی عزت کے نام پر اپنی آواز دبا دیتی ہے۔ کوئی دوست ہر تعلق بچانے کے لیے ہر بار خود ہی معافی مانگتا ہے۔ کوئی شخص اپنے شریکِ حیات کو کھونے کے خوف سے اتنا بدل جاتا ہے کہ آخرکار وہ خود ہی اپنے لیے اجنبی بن جاتا ہے۔

اور پھر ایک خطرناک مرحلہ آتا ہے۔آپ کو اپنی قربانی پر فخر ہونے لگتا ہے۔آپ کہتے ہیں، میں نے سب کچھ اس کے لیے کیا۔

میں نے اپنی زندگی اس کے لیے وقف کر دی۔

میں نے اپنی خواہشیں چھوڑ دیں۔

میں نے اپنے خواب قربان کیے۔

مگر ایک دن اندر سے ایک سوال اٹھتا ہےکہ جس انسان کے لیے میں نے خود کو اتنا بدل دیا، اگر وہ مجھے چھوڑ بھی دے تو میرے پاس میرے سوا کیا بچے گا؟

یہ سوال انسان کو اندر تک ہلا دیتا ہے۔

زیب سے میں نے ایک دن کہا، فرض کرو کل تمہیں اپنی پرانی زندگی کا ایک دروازہ مل جائے اور اس دروازے کے پیچھے وہ زیبو کھڑی ہو جو شادی سے پہلے تھی۔ وہ تمہیں دیکھ کر پوچھے کہ تم نے میرے ساتھ کیا کیا؟ تو تم اسے کیا جواب دو گی؟

وہ کافی دیر تک خاموش رہی۔پھر اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

اس نے کہا، میں اسے کہوں گی کہ مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہیں کسی کے کہنے پر نہیں چھوڑا تھا۔ میں نے تمہیں اس خوف سے چھوڑا تھا کہ کہیں کوئی مجھے چھوڑ نہ دے۔

یہ جملہ شاید پوری کہانی کا مرکز تھا۔ ہم میں سے کتنے لوگ کسی کو کھونے کے خوف میں خود کو کھو دیتے ہیں؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم تھوڑا اور بدل جائیں، تھوڑا اور برداشت کر لیں، تھوڑا اور خاموش ہو جائیں، تھوڑا اور سمجھوتہ کر لیں تو رشتہ بچ جائے گا۔ مگر ایک رشتہ جسے بچانے کے لیے آپ کو مسلسل اپنی شناخت مٹانی پڑے، وہ پہلے ہی صحت مند شکل میں موجود نہیں۔ رشتہ دوانسانوں کا ملنا ہے، ایک انسان کا دوسرے میں تحلیل ہو جانا نہیں۔ ٹھیک ہے یہ محبت کے نام پر فنا ہونے کی پھکی شاعروں ادیبوں نے فلموں اور ناولوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے بنائی ہے۔ لیکن یہ چورن حقیقت میں بھی کارامد ہو یہ ضروری نہیں۔

یہاں ایک ضروری بات بھی سمجھنی چاہیے۔ ہر سمجھوتہ خود کو کھونا نہیں ہوتا۔ ہر قربانی ظلم نہیں ہوتی۔ ہر اختلاف رشتے کی خرابی نہیں ہوتا۔ زندگی میں ہمیں دوسروں کے لیے بدلنا بھی پڑتا ہے۔ شادی، خاندان، دوستی اور ذمہ داریوں میں ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہے۔ مسئلہ تبدیلی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ تبدیلی یک طرفہ ہو جائے اور آپ کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ اپنی اصل شخصیت دکھانے کی اجازت ہی نہیں۔

اگر آپ کو اپنے رشتے میں اپنی رائے دینے سے پہلے خوف محسوس ہوتا ہے، اگر آپ مسلسل اپنے الفاظ ناپتے ہیں کہ سامنے والا ناراض نہ ہو، اگر آپ اپنے دوستوں سے ملنے پر قصوروار محسوس کرتے ہیں، اگر آپ اپنی پسندیں چھپانے لگے ہیں، اگر آپ ہر اختلاف کو رشتہ ٹوٹنے کا خطرہ سمجھتے ہیں، اگر آپ کو یاد نہیں کہ آخری مرتبہ آپ نے اپنی مرضی سے کیا فیصلہ کیا تھا، تو شاید مسئلہ صرف یہ نہیں کہ رشتہ کیسا ہے۔ شاید سوال یہ بھی ہے کہ اس رشتے کے اندر آپ خود کہاں ہیں۔

زیب النساء نے اپنے شوہر سے لڑائی نہیں کی۔ اس نے اسے چھوڑنے کا فیصلہ بھی نہیں کیا۔ اس نے پہلے ایک اور کام کیا۔ اس نے خود سے دوبارہ ملاقات شروع کی۔ اس نے ایک پرانی دوست کو فون کیا۔ کئی سال بعد اپنی پسند کی کتاب خریدی۔ ہفتے میں ایک شام صرف اپنے لیے رکھی۔ دوبارہ لکھنا شروع کیا۔ اپنے شوہر سے پہلی مرتبہ ایک معمولی سی بات پر اپنی حقیقی رائے دی اور اس رائے کو صرف اس لیے واپس نہیں لیا کہ سامنے والا ناراض ہو سکتا ہے۔ ابتدا میں اسے عجیب محسوس ہوا۔ اسے اپنے ہی فیصلوں پر جرم سا محسوس ہوتا تھا۔ جیسے اپنے لیے کچھ کرنا خود غرضی ہو۔

پھر آہستہ آہستہ اسے سمجھ آیا کہ خود کا خیال رکھنا کسی دوسرے سے محبت کم کرنا نہیں ہوتا۔

بلکہ کبھی کبھی یہی وہ چیز ہوتی ہے جو محبت کو صحت مند بناتی ہے۔

چند ماہ بعد جب اس کی کال آئی۔ میں نے پوچھا، اب آپ  کیسی ہیں؟ وہ مسکرائی اور بولی، اب میں جانتی ہوں کہ مجھے کیا پسند ہے۔

میں نے پوچھا، بس اتنا ہی؟

وہ بولی، نہیں۔ اب مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ مجھے کیا پسند نہیں۔

میں نے کہا، اور سب سے اہم؟

وہ تھوڑی دیر خاموش رہی اور بولی، اب مجھے یہ معلوم ہے کہ اگر کوئی مجھے چھوڑ بھی دے تو میں خود کو نہیں چھوڑوں گی۔

یہ جملہ سننے کے بعد میں نے کچھ نہیں کہا۔

کیونکہ بعض جملے جواب نہیں مانگتے۔

وہ انسان کے اندر ایک دروازہ کھول دیتے ہیں۔

ہم زندگی میں بہت سے لوگوں کو کھونے سے ڈرتے ہیں۔ والدین، شریکِ حیات، دوست، اولاد، خاندان، معاشرہ۔ مگر ایک نقصان ایسا ہے جس کا خوف ہمیں سب سے زیادہ ہونا چاہیے اور جس کے بارے میں ہم سب سے کم سوچتے ہیں۔

اپنا آپ کھو دینا۔

کیونکہ جب کوئی دوسرا آپ کو چھوڑتا ہے تو آپ کے پاس خود آپ باقی رہتے ہیں۔ مگر جب آپ کسی کو بچاتے بچاتے خود کو چھوڑ دیں تو پھر آپ کو واپس آنے کے لیے بہت لمبا سفر کرنا پڑتا ہے۔

اس لیے آج اپنے کسی رشتے کو توڑنے یا بچانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے ایک اور سوال پوچھیں۔

اس رشتے میں آپ خود کہاں کھڑے ہیں؟

کیا آپ وہاں محبت کر رہے ہیں یا صرف قبول کیے جانے کی قیمت ادا کر رہے ہیں؟

کیا آپ کسی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں یا کسی کو ناراض نہ کرنے کے لیے اپنی زندگی چھوٹی کر رہے ہیں؟

اور اگر آج رات آپ کو اپنے ماضی کا وہ انسان مل جائے جو کبھی بہت ہنستا تھا، بڑے خواب دیکھتا تھا، اپنی رائے رکھتا تھا، چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خوش ہو جاتا تھا، تو کیا وہ آپ کو پہچان لے گا؟

یہی آج کا اصل سوال ہے۔

آپ نے زندگی میں کس کو کھونے کے خوف میں خود کو اتنا بدل دیا کہ ایک دن آپ کا اپنا ہی دل آپ کو پہچاننے سے انکار کر گیا؟

یاد رکھیے، ایک صحت مند رشتہ آپ سے آپ کی شناخت نہیں مانگتا۔ وہ آپ کو اپنی ذات مٹانے پر مجبور نہیں کرتا۔ وہ آپ کے اندر کے انسان کے لیے جگہ بناتا ہے۔ محبت وہ نہیں جس میں آپ آہستہ آہستہ غائب ہوتے جائیں۔ محبت وہ ہے جس میں آپ کسی کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اپنے آپ سے دور نہ ہوں۔

کیونکہ کسی کو پانا خوبصورت ہو سکتا ہے، کسی کو نبھانا عظیم ہو سکتا ہے، کسی کے لیے قربانی دینا محبت ہو سکتی ہے، مگر خود کو کھو دینا محبت کی آخری منزل نہیں۔

کسی کو کھونے کا غم شاید کچھ وقت کے بعد کم ہو جائے، مگر خود کو کھو دینے کا غم انسان ساری عمر اپنے اندر اٹھائے پھر سکتا ہے۔

اور شاید زندگی کا سب سے ضروری رشتہ وہی ہے جسے ہم سب سے آخر میں یاد کرتے ہیں۔اپنے آپ سے رشتہ۔شاہد سید

Loading