Daily Roshni News

پیسہ آخر ہے کیا؟

پیسہ آخر ہے کیا؟
گلاسگو ویسٹ اینڈ کی ایک کافی شاپ میں استاد سے ہوئی وہ گفتگو جس نے میری آنکھیں کھول دیں
گلاسگو کے ویسٹ اینڈ کی ایک پرسکون سی کافی شاپ میں ہم دونوں بیٹھے تھے۔ باہر ہلکی بارش ہو رہی تھی، لوگ آ جا رہے تھے، اور اندر کافی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
میں نے اپنے استاد محترم کی طرف دیکھا اور ایک سوال پوچھ لیا جو شاید ہم سب کے ذہن میں کبھی نہ کبھی آتا ہے۔
میں نے کہا،
“سر، ایک بات سمجھ نہیں آتی۔ دنیا میں اتنی دولت ہے، اتنی ٹیکنالوجی ہے، اتنی پیداوار ہے… پھر بھی غربت کیوں ختم نہیں ہوتی؟ آخر پیسہ ہے کیا؟”
میرے استاد مسکرائے۔ انہوں نے کافی کا کپ میز پر رکھا اور بولے:
” اگر تم واقعی یہ سمجھ گئے کہ پیسہ کیا ہے، تو تم دنیا کو بالکل مختلف نظر سے دیکھنے لگو گے۔”
میں تھوڑا سا آگے جھک گیا۔
انہوں نے کہنا شروع کیا:
“شروع میں بینک نہیں تھے۔ بینکنگ دراصل تاجروں نے شروع کی تھی۔ اس زمانے میں پیسہ سونے کی شکل میں ہوتا تھا۔ تاجر اپنا سونا کسی محفوظ جگہ پر رکھواتے اور بدلے میں ایک رسید لے لیتے۔”
میں نے پوچھا،
“رسید؟”
وہ بولے،
“ہاں، ایک وعدہ۔ اس میں لکھا ہوتا تھا کہ تم جب چاہو اپنا سونا واپس لے سکتے ہو۔”
میں نے سر ہلایا۔
وہ بولے،
“پھر لوگوں نے ایک عجیب چیز دریافت کی۔ انہوں نے دیکھا کہ سونا ساتھ لے کر گھومنے کے بجائے وہی رسید استعمال کی جا سکتی ہے۔”
“یعنی؟” میں نے پوچھا۔
وہ مسکرائے۔
“فرض کرو ایک اطالوی تاجر انگلینڈ جا کر کپاس خریدنا چاہتا ہے۔ وہ سونا لے جانے کے بجائے وہ رسید دے دیتا ہے۔ کیونکہ سب کو یقین ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے اصل سونا موجود ہے۔”
میں نے کہا،
“اچھا… یعنی رسید ہی پیسہ بن گئی۔”
“بالکل۔”
پھر وہ تھوڑا سا رکے اور بولے:
“لیکن اصل کھیل یہاں شروع ہوا۔”
میں نے دلچسپی سے پوچھا،
“کیا مطلب؟”
انہوں نے کہا:
“فرض کرو بینک کے پاس پانچ ملین ڈالر کے برابر سونا ہے۔ اب ایک اور تاجر آتا ہے اور کہتا ہے مجھے قرض چاہیے۔”
میں نے کہا،
“تو بینک اسے سونا دے دیتا ہوگا۔”
وہ ہنسے۔
“نہیں ۔ بینک اسے سونا نہیں دیتا… وہ اسے ایک نئی رسید دے دیتا ہے۔”
میں چند لمحے خاموش رہا۔
انہوں نے میز پر انگلی سے دو دائرے بنائے۔
“دیکھو… سونا اب بھی پانچ ملین ہے۔ لیکن رسیدیں اب دس ملین کی ہو چکی ہیں۔”
میں نے حیرت سے کہا:
“یعنی… پیسہ ہوا سے بن گیا؟”
وہ بولے:
“بالکل۔ یہی جدید مالیاتی نظام کی بنیاد ہے۔”
میں نے کافی کا گھونٹ لیا اور پھر پوچھا:
“لیکن سر، اگر سب لوگ ایک ساتھ اپنا سونا مانگ لیں تو؟”
وہ سنجیدہ ہو گئے۔
“تو بینک دیوالیہ ہو جائے گا۔ اسے بینک رن کہتے ہیں۔”
میں نے سر ہلایا۔
پھر میں نے پوچھا:
“اور بینک قرض کس کو دیتے تھے؟”
وہ بولے:
“آج کل تو کاروباری لوگوں کو دیتے ہیں، لیکن پہلے زیادہ تر قرض بادشاہوں کو دیا جاتا تھا۔”
“بادشاہوں کو؟”
“ہاں… جنگیں لڑنے کے لیے۔”
میں چونک گیا۔
انہوں نے کہا:
“اور اکثر بادشاہ قرض واپس نہیں کرتے تھے۔ کبھی مر جاتے تھے، کبھی انکار کر دیتے تھے۔”
میں نے پوچھا:
“پھر بینک کیا کرتے تھے؟”
وہ بولے:
“انہوں نے ایک نیا نظام بنایا۔ بینک آپس میں جڑ گئے۔ خاندانوں میں شادیاں ہوئیں، اتحاد بنے، اور ایک ایسا نیٹ ورک بنا جسے آج ہم سنٹرل بینکنگ کہتے ہیں۔”
میں کچھ دیر سوچتا رہا۔
پھر میں نے وہ سوال پوچھا جو میرے ذہن میں گھوم رہا تھا۔
“سر… اگر بینک پیسہ بنا سکتے ہیں تو دنیا میں غربت کیوں ہے؟”
وہ خاموش ہو گئے۔
پھر آہستہ سے بولے:
“کیونکہ مسئلہ پیسے کی کمی نہیں، طاقت کی تقسیم ہے۔”
میں نے کہا،
“میں سمجھا نہیں۔”
وہ بولے:
“ پیسہ اصل میں صرف ایک نمبر ہے۔ اسے بڑھایا یا کم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ہر انسان کے پاس بہت زیادہ پیسہ ہو جائے تو لوگ شاید اس طرح کام نہ کریں جیسے آج کرتے ہیں۔”
میں نے حیرت سے پوچھا:
“تو کیا غربت… ضروری ہے؟”
وہ بولے:
“غربت اکثر ایک نفسیاتی نظام بھی ہوتی ہے۔ یہ لوگوں کو یہ احساس دلاتی ہے کہ پیسہ قیمتی ہے، اور اس کے لیے محنت کرنا ضروری ہے۔”
پھر وہ تھوڑا سا آگے جھکے اور آہستہ آواز میں بولے:
“اور اسی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے کبھی کبھی بڑی بڑی جنگیں بھی ہوتی ہیں۔”
میں چونک کر ان کی طرف دیکھنے لگا۔
انہوں نے کہا:
“جنگیں صرف زمین کے ٹکڑے حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتیں۔ جنگیں اکثر دولت، نظام اور طاقت کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے بھی ہوتی ہیں۔ جنگوں میں شہر تباہ ہوتے ہیں، معیشتیں گرتی ہیں، اور بے شمار دولت ختم ہو جاتی ہے۔”
وہ رکے اور بولے:
“جب بہت زیادہ پیسہ نظام میں جمع ہو جاتا ہے تو اسے کسی نہ کسی طریقے سے ختم کرنا پڑتا ہے تاکہ دوبارہ کمی کا احساس پیدا ہو۔ جنگیں اور معاشی بحران اکثر یہی کام کرتے ہیں — وہ دولت کو تباہ کرتے ہیں اور لوگوں کو دوبارہ یہ یقین دلاتے ہیں کہ پیسہ کم ہے اور اس کے لیے سخت محنت ضروری ہے۔”
کافی شاپ کے باہر بارش تیز ہو گئی تھی۔
میں کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔
پھر میں نے آہستہ سے کہا:
“تو اصل دولت پیسہ نہیں؟”
میرے استاد مسکرائے۔
“نہیں ۔ اصل دولت انسان کی محنت، اس کی تخلیقی صلاحیت اور اس کا وقت ہے۔”
انہوں نے کپ اٹھایا اور کہا:
“پیسہ صرف ایک علامت ہے۔”
میں اس دن کافی شاپ سے نکلا تو میرے ذہن میں ایک ہی خیال گونج رہا تھا۔
ہم ساری زندگی پیسے کو سمجھنے کے بجائے اس کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔
اور شاید اصل آزادی اس دن شروع ہوتی ہے
جب انسان پہلی بار یہ سوال پوچھتا ہے:
“پیسہ اصل میں ہے کیا؟”

Loading