Daily Roshni News

چاند کے نیچے

چاند کے نیچے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )گلگت کی بلند پہاڑیوں کے درمیان ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں راتیں غیرمعمولی طور پر خاموش ہوتی تھیں۔ وہاں کے لوگ جلدی سو جاتے، کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ آدھی رات کے بعد پہاڑ جاگنے لگتے ہیں۔

اسی گاؤں میں بائیس سالہ دانیال رہتا تھا۔ وہ ایک خاموش اور تنہا مزاج لڑکا تھا جسے ستاروں اور آسمان سے عجیب محبت تھی۔ گاؤں کے باقی نوجوان شکار یا کھیلوں میں دلچسپی رکھتے تھے، مگر دانیال اکثر رات کو چھت پر بیٹھ کر چاند کو دیکھا کرتا۔

اس کے والد کا انتقال بچپن میں ہوگیا تھا اور اس کی ماں بیمار رہتی تھی۔ دانیال نے جلد ہی زندگی کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں، مگر اس کے دل میں ہمیشہ ایک ادھورا خواب موجود تھا۔ وہ دنیا دیکھنا چاہتا تھا، پہاڑوں سے آگے جانا چاہتا تھا، مگر ماں کو چھوڑ کر جانے کا خیال اسے روک دیتا۔

ایک رات مکمل چاند نکلا ہوا تھا۔ آسمان اتنا صاف تھا کہ ہر ستارہ چمکتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ دانیال ہمیشہ کی طرح گھر سے دور پہاڑی راستے پر چلا گیا۔

ہوا ٹھنڈی تھی اور دور کہیں پانی بہنے کی آواز آرہی تھی۔

چلتے چلتے وہ ایک ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں وہ پہلے کبھی نہیں گیا تھا۔ وہاں ایک چھوٹی سی جھیل تھی جس کا پانی چاندنی میں چمک رہا تھا۔

اور جھیل کے کنارے…

ایک لڑکی بیٹھی تھی۔

وہ سفید شال میں لپٹی ہوئی تھی اور خاموشی سے پانی میں چاند کا عکس دیکھ رہی تھی۔

دانیال کے قدم رک گئے۔

“کون ہو تم؟”

لڑکی نے آہستہ سے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں غیرمعمولی طور پر روشن تھیں۔

“یہ سوال تو میں بھی تم سے پوچھ سکتی ہوں۔”

اس کی آواز نرم تھی، جیسے ہوا میں گھلی ہوئی کوئی دھن۔

“میں دانیال ہوں۔ تم یہاں اکیلی کیا کر رہی ہو؟”

لڑکی نے جھیل کی طرف دیکھا۔

“میں چاند کا انتظار کرتی ہوں۔”

“چاند تو ہر رات نکلتا ہے۔”

وہ ہلکا سا مسکرائی۔

“مگر ہر رات انسان اسے محسوس نہیں کر پاتا۔”

دانیال اس کی بات نہ سمجھ سکا، مگر اس میں کچھ ایسا تھا جو عجیب سکون دیتا تھا۔

“تمہارا نام؟”

“مہرو۔”

اس رات دونوں کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ مہرو کی باتیں عام لوگوں سے مختلف تھیں۔ وہ وقت، خوابوں اور قسمت کے بارے میں ایسے بات کرتی جیسے ان سب کو قریب سے جانتی ہو۔

جب جانے کا وقت آیا تو مہرو نے کہا:

“اگر دوبارہ ملنا چاہتے ہو تو اگلی چاند رات کو یہاں آنا۔”

اور پھر وہ دھند میں غائب ہوگئی۔

دانیال کافی دیر وہیں کھڑا رہا۔

گھر واپس آکر بھی اس کے ذہن میں صرف مہرو تھی۔

اگلے کئی دن اس نے بےچینی میں گزارے۔

آخر اگلی چاند رات آگئی۔

وہ فوراً جھیل کے پاس پہنچا۔

مہرو پہلے سے وہاں موجود تھی۔

آہستہ آہستہ دونوں کی ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔ ہر مکمل چاند کی رات وہ جھیل کے کنارے ملتے، باتیں کرتے اور خاموشی میں آسمان کو دیکھتے رہتے۔

دانیال نے محسوس کیا کہ مہرو کے ساتھ وقت بہت تیزی سے گزرتا ہے۔

ایک رات دانیال نے پوچھا:

“تم گاؤں میں کیوں نہیں آتیں؟”

مہرو خاموش ہوگئی۔

“مجھے لوگوں کے درمیان رہنے کی اجازت نہیں۔”

“کیوں؟”

“کیونکہ کچھ لوگ صرف مخصوص وقتوں میں ہی اس دنیا کا حصہ ہوتے ہیں۔”

دانیال کو اس کی بات عجیب لگی۔

مگر اس نے مزید سوال نہ کیا۔

ایک دن گاؤں کے ایک بوڑھے شخص نے دانیال کو جھیل کے قریب جاتے دیکھ لیا۔

اس نے فوراً اسے روک لیا۔

“تم وہاں کیوں جاتے ہو؟”

“بس ایسے ہی…”

بوڑھے کے چہرے پر خوف نمودار ہوگیا۔

“اس جھیل کے پاس رات کو مت جایا کرو۔ وہاں ایک لڑکی نظر آتی ہے۔”

دانیال کے دل کی دھڑکن رک گئی۔

“کون لڑکی؟”

بوڑھے نے دھیمی آواز میں کہا:

“بہت سال پہلے ایک لڑکی پہاڑوں میں راستہ بھٹک کر مر گئی تھی۔ کہتے ہیں وہ ہر چاند رات کو جھیل کے کنارے دکھائی دیتی ہے…”

دانیال خاموش ہوگیا۔

اس رات وہ بےحد پریشان تھا۔

مگر پھر بھی اگلی چاند رات کو جھیل پہنچ گیا۔

مہرو ہمیشہ کی طرح وہاں موجود تھی۔

“تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو؟” دانیال نے پوچھا۔

مہرو کی آنکھوں میں اداسی اتر آئی۔

“اگر میں سچ بتاؤں تو شاید تم دوبارہ نہ آؤ۔”

“پھر بھی سننا چاہتا ہوں۔”

کافی دیر خاموش رہنے کے بعد مہرو بولی:

“میں اس دنیا میں مکمل طور پر موجود نہیں ہوں۔”

ہوا اچانک سرد ہوگئی۔

“کئی سال پہلے میں ان پہاڑوں میں کھو گئی تھی۔ لوگ مجھے ڈھونڈ نہ سکے۔ تب سے شاید میرا ایک حصہ اس جھیل کے ساتھ رہ گیا ہے۔”

دانیال کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔

“تو تم…”

“ہاں۔ شاید صرف ایک یاد ہوں۔”

دانیال کے دل میں خوف کے بجائے درد پیدا ہوا۔

“تم اب تک یہاں کیوں ہو؟”

مہرو نے چاند کی طرف دیکھا۔

“کیونکہ میں کسی ایسے انسان کا انتظار کر رہی تھی جو مجھے دیکھ سکے… محسوس کرسکے۔”

دانیال کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

اس رات دونوں خاموش بیٹھے رہے۔

چاند جھیل پر چمکتا رہا۔

اچانک مہرو بولی:

“میرا وقت ختم ہورہا ہے۔”

“کیا مطلب؟”

“ہر چاند رات کے ساتھ میں کمزور ہورہی ہوں۔ جلد میں مکمل طور پر ختم ہوجاؤں گی۔”

“نہیں…”

مہرو نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

“ہر چیز ہمیشہ نہیں رہتی، دانیال۔”

دانیال بےبس تھا۔

اگلے کئی دن وہ جھیل کے بارے میں پرانی کہانیاں تلاش کرتا رہا۔

آخر اسے ایک پرانی ڈائری ملی جس میں لکھا تھا:

“جو روح کسی خواہش کی وجہ سے رکی ہو، وہ خواہش پوری ہونے پر آزاد ہوجاتی ہے۔”

دانیال سمجھ گیا۔

اگلی چاند رات وہ جھیل پر گیا۔

مہرو بہت کمزور دکھائی دے رہی تھی۔

“تم ٹھیک ہو؟”

مہرو مسکرائی۔

“شاید آج آخری رات ہے۔”

دانیال نے کانپتی آواز میں کہا:

“تمہاری خواہش کیا تھی؟”

مہرو نے خاموشی سے جواب دیا:

“میں صرف یہ چاہتی تھی کہ کوئی مجھے بھول نہ جائے۔”

دانیال کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

“میں تمہیں کبھی نہیں بھولوں گا۔”

یہ سنتے ہی جھیل کا پانی چمکنے لگا۔

ہوا میں عجیب روشنی پھیل گئی۔

مہرو کے چہرے پر سکون آگیا۔

“شکریہ…”

اس کا وجود آہستہ آہستہ چاندنی میں گھلنے لگا۔

دانیال بےاختیار آگے بڑھا۔

“مہرو!”

مہرو کی آواز ہوا میں گونجی:

“کچھ محبتیں ساتھ رہنے کے لیے نہیں…

صرف دل میں زندہ رہنے کے لیے ہوتی ہیں…”

اور پھر وہ غائب ہوگئی۔

جھیل خاموش ہوگئی۔

صرف چاند کا عکس پانی پر باقی تھا۔

اس رات کے بعد دانیال بدل گیا۔

وہ اب بھی ہر مکمل چاند کی رات جھیل کے پاس جاتا، مگر اب وہاں کوئی نہیں ہوتا تھا۔

بس کبھی کبھی پانی میں ایک لمحے کے لیے سفید شال کی جھلک دکھائی دیتی…

اور پھر چاندنی خاموشی سے لہروں میں بکھر جاتی۔

Loading