چشمِ باطن جس سے کھُل جائے وہ جلوہ
چاہیے !
سقراط ان اولین دانشوروں میں شامل ہے کہ جنہوں نےاخلاقیات پہ بہت کام کیا اوراب تک زمانہ ان کا معترف ہے .
ایک دن اپنے شاگردوں میں گھرا بحث مباحثہ میں مشغول تھا کہ ایک شاگرد نے استاد محترم سے اجازت طلب کی اور کلاس سے باہر آ گیا ۔
یونانی حکماء ان دنوں کسی کھلی جگہ پہ کھڑے ہوکر مکالمے اور بحث کے سے اندازمیں گفتگو کیا کرتے تھے ۔
اس نوجوان کو ایک اجنبی شخص دکھائی دیا۔ نوجوان کےاستفسار پراس نے تصدیق کی کہ وہ ایتھنز کارہنے والا نہیں ہے ۔ مشاغل کاپتہ چلا تو نوجوان بہت متاثر ہوا کہ حضرت چہرہ شناس ہیں اور اپنی اس مہارت میں انہیں ملکہ حاصل ہے ۔
نوجوان نے استاد محترم کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ طلباء میں گھرے اس شخص کے بارے بتاؤ کہ وہ کیسی شخصیت کا مالک ہے ۔
چہرہ شناس نے اپنی ماہرانہ نگاہ سے سقراط کا بھرپور جائزہ لیا اور گویا ہوا کہ یہ انتہائی خبیث اور مکروہ شخص ہے اور پرلےدرجے کا بدمعاش ہے , وغیرہ وغیرہ ۔
شاگرد کا پارہ چڑھ گیا اور انتہائی غصے کے عالم میں چلا اٹھا ،
اپنی بکواس بند کرو ، تمہیں شائید علم نہیں کہ اس وقت روئے زمین پہ ایک عظیم ترین ہستی کے بارے کیا کہہ رہے ہو ؟
مجھے فخر ہے کہ میں ان کےجوتے سیدھے کرتا ہوں ۔
وہ شخص اپنی بات پہ بضد رہا اور باربار اپنے علم کی سچائی کی گواہی دیتا رہا ۔
بالآخر شاگرد نے کہا کہ میں تمہیں استاد محترم کے پاس لیے چلتا ہوں ۔ وہاں بھی یہی کچھ کہنا جو یہاں کہا ہے .
شاگرد نےسقراط سے کہا کہ یہ اجنبی ہے اور بقول اس کے , چہرہ شناس ہے , آپ کے بارے کچھ کہنا چاہتا ہے ۔
اس چہرہ شناس نے وہی جملے استاد محترم کے سامنے بھی دھرا دیے جو وہ کچھ دیر پہلے کہہ چکا تھا ۔
سقراط اس کی گفتگو کے دوران بالکل پرسکون رہا ۔
جب اس نے بات مکمل کر لی توسقراط نے اسے گلے لگا لیا اور غصے میں بپھرے اپنے شاگردوں سے مخاطب ہوا ،
کہ آفرین ہے اس شخص پر کہ جس نے میری ان برائیوں کو بے نقاب کیا ہے , جومیرے وجود کی اتھاہ گہرائیوں میں کہیں دفن ہیں ۔ اس کی نظر ان گندگیوں پہ پڑی ہے جوایک مدت پہلے میں نے چن چن کر ، ذرہ ذرہ سمیٹ کر انہیں ایک پوٹلی میں باندھا ۔ اسے خوب گرہیں لگا کر باطن کے آہنی صندوق میں بند کیا اور ایک بڑا سا قفل لگا کر وجود کے کسی خفیہ تہہ خانے میں دفن کر دیا اور چابی ایسی جگہ پھینکی جہاں سے اس کا دوبارہ ملنا ممکن نہیں ہے ۔
اس بندے کا کمال یہ ہے کہ اس نے وہ گم شدہ صندوق ڈھونڈھ نکالا ہے ۔
پھر وہ شاگردوں سے مخاطب ہوا ؛
یاد رکھیں کہ انسان نہ تو فرشتہ ہے اور نہ ہی شیطان ۔
ہمارے نفس میں قدرت نے یہ سارے متضاد جوہر برابر رکھ دئیے ہیں ۔
اب رذائل کو ایک ایک کرکےچننا ، وجود سے نکال باہر کرنا اور پھر محاسن کواس گھر کا مکین بنانا ، ان کو فعال بنانا ، انسان کا اصل کام ہے ۔ یہی وہ کشمکش ہے جو انسان کے وجود میں جاری وساری رہتی ہے اور رہنی بھی چاہیے ۔
ایمان روکتا ہے تو کفر اپنی طرف کھینچتا ہے ۔ اسی کھینچا تانی میں ثابت قدمی سے زندگی کی تنی ہوئی رسی پہ چلنا ہی مردانگی ہے ۔
ضبط نفس ہی انسان کو تباہی و بربادی سے بچانے کا محفوظ حصار ہے ۔ زندگی کی ریت کو بند مٹھی میں مضبوطی سے تھامے رکھنا اور سرکنے نہ دینا انسان کا اصل کمال ہے ۔
شاہراہِ حیات پہ درست سمت کا تعین اور گمراہی سے بچنے کا ھنر یہی ہے کہ اپنی توجہ کو بھٹکنے سے بچایا جائے ۔
یہ جہد مسلسل انسان کو درس دیتی رہتی ہے کہ ،
جو دم غافل ، سو دم کافر !
غفلت کسی بھی لمحے زندگی کی گاڑی کو گہری کھائی میں پھینک دیتی ہے اور لمحوں کی خطائیں ، صدیوں کا روگ بن جاتی ہیں ۔
وہ کمزور لمحے جو انسان کی بربادی کے لیے منہ کھولے کھڑے ہوتے ہیں ، ان کے زہریلے اور نوکیلے دانتوں سے بچنے کے لیے آپ نے ہی کوشش کرنی ہے ۔
شکست و ریخت کے بیشمار مراحل ہیں ۔
اپنے وجود کی مٹی کو باطنی شعور کی کدال سے مسلسل گدگداتے رہنا انسان کی ذمہ داری ہے ۔
سوز و ساز رومی اور پیچ و تاب رازی کی کشمکش سے گزرتے رہنے سے ہی انسان اپنی منزل کے قریب پہنچ پاتا ہے ۔
قدرت نے آپ کے باطن میں سب کچھ رکھ دیا ہے ، آپ خود بھی ہمت کریں اور ایسے ھنر کے شناسا استاد یا مرشد کی تلاش بھی جاری رکھیں تاکہ منزل کی سمت متعین رہے ۔
اگر کوئی شعیب آئے میسر
شبانی سے کلیمی دو قدم ہے
رمضان المبارک کا دسواں روزہ مبارک ہو !
اعجاز حسین احسن ✍️
![]()

