Daily Roshni News

ڈائنوسار کے مادّے سے تیار کردہ ہینڈ بیگ نے دنیا کو چونکا دیا

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کروڑوں سال پہلے زمین پر راج کرنے والے ایک خوفناک ڈائنا سار کا کوئی حصہ آج آپ کے ہاتھ میں تھامے جانے والے ایک فیشن ایبل ہینڈ بیگ کی صورت میں موجود ہو؟ یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں بلکہ حقیقت بن چکا ہے۔ حال ہی میں سائنسدانوں اور فیشن ڈیزائنرز نے مل کر ایک ایسا انوکھا تجربہ کیا ہے جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق سائنس اور فیشن کے انوکھے امتزاج میں ماہرین نے ایک ایسا ہینڈ بیگ تیار کیا ہے جس میں 68 ملین سال پرانے ٹی ریکس کے فاسلز سے حاصل شدہ مواد استعمال کیا گیا ہے۔

ٹی ریکس دراصل تاریخ کا ایک دیوہیکل اور نہایت خطرناک گوشت خور ڈائنوسار تھا، اور حال ہی میں تیار کی گئی یہ منفرد تخلیق نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کی نئی جہت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ فیشن انڈسٹری میں پائیدار متبادل کے استعمال کی بحث کو بھی فروغ دے رہی ہے۔

یہ سی گرین رنگ کا بیگ ایمسٹرڈیم کے ’آرٹ زو میوزیم‘ میں ایک خاص انداز میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے، جہاں اسے ٹی ریکس کے مجسمے کے نیچے پنجرے میں ایک چٹان پر رکھا گیا ہے۔ یہ نمائش 11 مئی تک جاری رہے گی، جس کے بعد اسے نیلام کیا جائے گا اور اس کی ابتدائی قیمت پانچ لاکھ ڈالر سے زائد رکھی گئی ہے۔

اس منصوبے کے پیچھے موجود سائنسدانوں کے مطابق، اس بیگ کی تیاری میں قدیم ڈائنوسار ہڈیوں سے حاصل ہونے والے پروٹین کے ٹکڑوں کا تجزیہ کیا گیا، جنہیں جدید حیاتیاتی تکنیک کے ذریعے ایک نامعلوم جانور کے خلیے میں داخل کر کے کولیجن پیدا کیا گیا۔ اسی کولیجن کو مزید پراسیس کر کے چمڑے جیسا مواد بنایا گیا، جسے بعد ازاں اس ہینڈ بیگ کی شکل دی گئی۔

اس منفرد منصوبے میں شامل ’دی آرگینائڈ کمپنی‘ کے سی ای او تھامس مائیکل نے اعتراف کیا کہ اس عمل میں کئی تکنیکی چیلنجز پیش آئے، لیکن ان کے مطابق یہ تجربہ اس بات کی مثال ہے کہ لیبارٹری میں تیار کردہ چمڑا مستقبل میں روایتی چمڑے کا متبادل بن سکتا ہے۔

اس پروجیکٹ میں شامل ایک اور ماہر کے مطابق ٹی ریکس سے منسوب ہونے کی وجہ سے اس مواد میں ایک خاص کشش پیدا ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ماحول دوست متبادل نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی ایک نئی سطح کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔

تاہم، جہاں یہ تخلیق حیرت کا باعث بنی ہے، وہیں اس پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ کچھ سائنسدانوں نے ”ٹی ریکس لیدر“ کی اصطلاح پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ڈائنوسار کی ہڈیوں میں محفوظ کولیجن محض ٹوٹے پھوٹے ذرات کی صورت میں ہوتا ہے، جس سے مکمل چمڑا تیار کرنا سائنسی طور پر مشکوک ہے۔

فریئے یونیورسٹی ایمسٹرڈم سے وابستہ ماہرمیلانِی ڈیورِنگ کا کہنا ہے کہ یہ ذرات ٹی ریکس کی جلد یا اصل ساخت کو دوبارہ تخلیق کرنے کے لیے کافی نہیں۔

اسی طرح تھامس آر ہولٹز جونیئر نے بھی نشاندہی کی کہ فوسلز میں موجود کولیجن ہڈی کے اندر ہوتا ہے، نہ کہ جلد میں، اور اس میں وہ ساختی ترتیب موجود نہیں ہوتی جو چمڑے کو اس کی خاص خصوصیات دیتی ہے۔

تنقید کے باوجود، منصوبے کے حامی اسے سائنسی جستجو کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ تھامس مچل کے مطابق، ہر نئی ایجاد کے ساتھ سوالات اور شکوک پیدا ہونا فطری عمل ہے، اور یہی تنقید دراصل سائنسی ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔

یہ ہینڈ بیگ محض ایک فیشن آئٹم نہیں بلکہ ایک سوال ہے، کیا ہم واقعی ماضی کے جینیاتی نقوش کو حال کی اشیاء میں ڈھال سکتے ہیں؟ اور اگر ہاں، تو اس کی حدود کہاں تک ہیں؟ شاید یہی وہ سوال ہے جو اس تخلیق کو محض ایک نمائش سے بڑھا کر ایک فکری مکالمہ بنا دیتا ہے، جہاں سائنس، فیشن اور فلسفہ ایک دوسرے سے ہم کلام نظر آتے ہیں۔

Loading