ڈاکٹر احمد ندیم رفیع کی نذر
غیر مردف تازہ غزل
شاعر۔۔۔ شہزاد تابش
بے شک ہے اپنا آشیاں کمزور شاخ پر
کیسے سمجھ لیں آپ کے گھر کو ہم اپنا گھر
جس نے کہا تھا جسم تو، سایہ ہوں میں ترا
مشکل میں مارِ آستیں آیا نہیں نظر
تیرے فسوں سے دلربا انکار تو نہیں
دل کش ہے تو مگر ہے ترا حسن فتنہ گر
کچھ اس لیےبھی زندگی سےمطمئن ہوں میں
اپنی اڑان میں سدا رکھے ہیں اپنے پر
عقل و جنوں کی جنگ میں بہتر ہے یہ طریق
دستار بھی بچی رہے جائے نہ کوئی سر
یہ کیا عجب تضاد ہے آوارگی بتا
دل منزلوں کے پاس ہے اور میں ہوں دربدر
شہزاد جانے کیسے وہ دل سے اُتر گیا
سیڑھی بنا کے لہجے کی نظروں کو پھیر کر
شہزاد تابش
29 جون 25