ڈپریشن پر قابو پائیے
خوش گوار زندگی گزارئیے۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ڈپریشن پر قابو پائیے۔۔۔ خوش گوار زندگی گزارئیے)دل تو میرا اداس ہے شہر کیوں سائیں سائیں کرتا اکثر لوگ وقتا فوقا اداسی اور بے زاری میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ عمومی حالات میں یہ علامات ایک، دو ہفتے میں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ اداسی بے وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ بظاہر اُداس ہونا ایک معمول کی قدرتی حالت ہے بعض اوقات ہم خود ہی اس کا مقابلہ کر لیتے ہیں اور بعض اوقات دوستوں سے بات کر کے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ البتہ اس کا دورانیہ طویل ہو جائے کہ اداسی کے دورے پڑنا شروع ہو جائیں تو معاملہ مجیر سمجھا جاتا ہے۔
ڈپریشن میں اداسی کی شدت عام اُداسی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے، اس
کا دورانیہ بھی طویل ہوتا ہے۔
کم از کم چار علامات ایسی ہیں جو اس نوع کے ڈپریشن کی نشان دہی کرتی ہیں۔ پہلی یہ کہ ایک شخص زیادہ وقت افسردہ رہے۔ جن چیزوں اور کاموں میں پہلے اسے دلچسپی تھی اب ان میں دل نہ لگے۔ جسمانی یا ذہنی کمزوری اور تھکن محسوس ، ہو۔ اپنے کو دوسروں سے
کم تر سمجھنے لگے۔ ماضی کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود کو الزام دے۔ اپنے کو ناکارہ سمجھے۔ نیند اور بھوک متاثر ہو جائے۔
معاملات زندگی:بعض تکلیف دہ واقعات مثلاً کسی قریبی عزیز کا انتقال، کسی عزیز ہستی سے ترک تعلق، طلاق ، بزنس میں نقصان یا نوکری جاتے رہنے کے بعد کچھ عرصہ اداس رہنا فطری ہے۔ بعض لوگ اس اداسی سے باہر نہیں آپاتے اور ڈپریشن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مشکل حالات و واقعات میں اگر ہم تنہا ہوں، ہمارے آس پاس کوئی دوست نہ ہو، ہم ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوں یا ہم بہت زیادہ جسمانی تھکن میں مبتلا ہوں، ان صورتوں میں ڈپریشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
جسمانی طور پر بیمار لوگوں میں ڈپریشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ بیماری ایسی بھی ہو سکتی ہیں جو زندگی کے لیے خطرناک ہو مثلاً کینسر یا دل کی بیماریاں ، یا پھر طویل دورانیے کی تکلیف جیسے جوڑوں کی تکلیف یا سانس کی بیماریاں۔ نوجوان افراد میں وائرل انفیکشن سے بھی ڈپریشن رہنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
بعض افراد میں ڈپریشن کی قبولیت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ ہماری شخصیت بھی ہو سکتی ہے اور بچپن کے حالات و تجربات بھی۔
منشیات پر زیادہ انحصار بھی ڈپریشن میں مبتلا کر سکتا ہے، ایسے افراد میں خود کشی کا رجحان دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین میں ڈپریشن کی شرح مردوں سے زیادہ ہے ۔۔ ڈپریشن موروثی بھی ہو سکتا ہے۔ موروثی رجحان رکھنے والوں میں دوسروں کی نسبت اس کا خطرہ آٹھ گنازیادہ ہوتا ہے۔
مینی اک ڈپریشن Manic) (Depression یا بائی پولر ڈس آرڈر )
( Bipolar Disorder بھی ڈپریشن کی ایک قسم ہے۔ اس ڈپریشن میں مبتلا تقریباً دس فیصد لوگ کیفیتی دوروں سے دو چار ہوتے ہیں۔
ایسے افراد بے وجہ بہت خوش رہتے ہیں اور نارمل سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ اس تیزی کے دورے کو ینیا اور اس بیماری کو بائی پولر ڈس آرڈر “ کہتے ہیں۔ اس بیماری کی شرح مردوں اور عورتوں میں برابر دیکھی گئی ہے۔ یہ بیماری بعض خاندانوں کے توارث میں ہو سکتی ہے۔
اس مرض کا باقاعد ہ اور مکمل علاج ممکن ہے۔ زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ ڈپریشن کے پیچھے کسی صدمے یا حادثہ کا ہونا لازمی ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق ڈپریشن کسی حادثے یا صدمے کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک نفسیات دان ڈپریشن کے متعلق کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کا با قاعدہ علاج اور احتیاتی تدابیر اپنانے سے کافی حد تک شفا ہو جاتی ہے۔
ڈپریشن ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان سستی اور کاہلی میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو دنیا کا ناکام ترین شخص تصور کرنے لگتا ہے۔ ایسا زیادہ تر اس وقت ہوتا ہے جب انسان کسی مشکل کا سامنا نہیں کرتا اور اس سے بچنے کے لیے روزمرہ کے معمولات سے دور کر کے خود کو تنہا کر لیتا ہے۔ ایسی کیفیت میں مریض کو سب اپنے دشمن لگتے ہیں، کوئی بھی اسے اپنا دوست نظر نہیں آتا۔ ایسی حالت میں انسان امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتا ہے۔ مریض کوئی کام کرنے سے پہلے اس بات کا فیصلہ کر لیتا ہے کہ اس کام میں ناکامی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
ناکامی سے گھبرا کر جو لوگ اپنے آپ کو کوسنے لگتے ہیں، اپنی صلاحیتوں پر لٹک کرنے لگتے ہیں یا دوسروں کو برا بھلا کہہ کر اپنی ناکامی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ لوگ انجانے میں ڈپریشن کو اپنی طرف آنے کی دعوت دیتے ہیں۔
ماہرین نفسیات کے مطابق ناکامی اس قدر خوفناک چیز نہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ناکامی تو کامیابی کا وسیلہ بن سکتی ہے۔ جو لوگ اپنی مرضی سے ناکامی کا خطرہ مول لیتے ہیں اور پھر ناکامی سے۔۔۔جاری ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ نومبر 2025
![]()

