Daily Roshni News

ڈپریشن پر قابو پائیے۔۔۔ خوش گوار زندگی گزارئیے۔۔۔قسط نمبر2

ڈپریشن پر قابو پائیے

خوش گوار زندگی گزارئیے۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ڈپریشن پر قابو پائیے۔۔۔ خوش گوار زندگی گزارئیے) سبق سیکھتے ہیں ان لوگوں کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

آئیے ….! دیکھتے ہیں کہ ڈپریشن میں مبتلا مریض کس طرح سے اپنی مدد کر سکتے ہیں….؟

 اپنی جذباتی کیفیات کو راز نہ رکھیں۔

 اگر آپ نے کوئی بری خبر سنی ہو تو اسے کسی قریبی شخص سے شیئر کر لیں اور انہیں یہ بھی بتائیں کہ آپ اندر سے کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ اکثر غم کی باتوں کو کسی قریبی شخص کے سامنے بار بار دہرانے، رو لینے اور اس کے بارے میں بات کرنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔

جسمانی کام کریں

کچھ نہ کچھ ورزش کرتے رہیں، چاہے یہ صرف آدھ گھنٹہ روزانہ چہل قدمی ہی کیوں نہ ہو۔ ورزش سے انسان کی جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے اور نیند بھی اچھی آتی ہے۔ اپنے آپ کو کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھیں چاہے یہ گھر کے کام کاج ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سے انسان کا ذہن تکلیف دہ خیالات سے بنا رہتا ہے۔

متوازن غذائیں

متوازن غذا کھانا بہت ضروری ہے ۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ ڈپریشن میں بعض لوگ کھانا کھانا چھوڑ دیتے ہیں جس سے جسم میں وٹامنز کی کمی ہو جاتی ہے اور طبیعت اور زیادہ خراب لگتی ہے۔

مایوس نہ ہوں

 اپنے آپ کو یاد دلاتے رہیں کہ آپ جس تجربے سے گزر رہے ہیں اس سے اور لوگ بھی گزر چکے ہیں۔ ایک نہ ایک روز آپ کا ڈپریشن ختم ہو جائے گا چاہے ابھی آپ کو ایسانہ لگتا ہو۔ ڈپریشن کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے…..؟ ڈپریشن کا علاج باتوں (سائیکو تھراپی) کے ذریعے کیا جاسکتا ہے، اینٹی ڈپریسنٹ ادویہ کے ذریعے بھی یا بیک وقت دونوں کے استعمال سے بھی۔ ڈپریشن کی علامات کی نوعیت ان کی شدت اور مریض کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ ادویہ کا استعمال زیادہ بہتر ہے یا سائیکو تھراپی۔ ہلکے اور درمیانی درجے کے ڈپریشن میں سائیکو تھراپی کے استعمال سے طبیعت ٹھیک ہو سکتی ہے۔ اگر ڈپریشن زیادہ شدید ہو تو دوا دینا ضروری ہو جاتا ہے۔

باتوں کے ذریعے علاج (سائیکو تھراپی) ڈپریشن میں اکثر لوگوں کو اپنے احساسات کسی با اعتماد شخص کے ساتھ شیئر کرنے سے طبیعت بہتر محسوس ہوتی ہے۔ بعض مرتبہ اپنے احساسات رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ بانٹنا مشکل ہوتا ہے۔

ایسی صورت میں ماہر نفسیات (سائیکولوجسٹ) سے بات کرنا زیادہ آسان لگتا ہے۔ سائیکو تھراپی کے ذریعے علاج میں وقت لگتا ہے۔ عام طور سے آپ کو ماہر نفسیات سے ہر ہفتے ایک گھنٹے کے لیے مانا ہوتا ہے اور اس کا دورانیہ پانچ سے تیس ہفتے تک ہو سکتا ہے۔

اینٹی ڈپریسنٹ ادویہ اگر ڈپریشن شدید ہو یا کافی عرصے سے چل رہا ہو تو ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر اینٹی ڈپریسنٹ ادویہ تجویز کریں۔ ان ادویات سے اداسی کم ہوتی ہے، زندگی بہتر لگنے لگتی ہے اور حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں بہتری آنے لگتی ہے۔

یادرکھیے کہ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا فائدہ فوراً نظر آنا شروع نہیں ہوتا بلکہ اس میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔ بعض لوگوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوائیں شروع کرنے کے

بعد چند ہی دنوں میں ان کی نیند بہتر ہو جاتی ہے اور گھبراہٹ کم ہو جاتی ہے البتہ ڈپریشن کم ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

اینٹی ڈپریسنٹ ادویہ کس طرح کام کرتی ہیں ….؟ انسانی دماغ میں متعدد کیمیائی مواد موجود ہیں جو ایک خلیے سے دوسرے خلیے تک سگنل پہنچاتے ہیں۔ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ ڈپریشن میں دو خاص کیمیکلز کی کمی ہوتی ہے جنہیں سیروٹونن اور نار ایڈرینلین کہا جاتا ہے۔ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ان کیمیکلز کی مقدار اعتدال میں لانے میں مددگار ہوتی ہیں۔

دوا شروع کرنے کے بعد ڈاکٹر کو با قاعدگی سے دکھاتے رہنا ضروری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ نومبر 2025

Loading