Daily Roshni News

ڈھاکا: پاکستان کا بنگلادیش کی نئی حکومت سے پہلا سفارتی رابطہ

بنگلا دیش میں 12 فروری 2026 کو عام انتخابات کے بعد پاکستان کی جانب سے بنگلا دیشی حکومت سے سفارتی سطح پر پہلا باضابطہ رابطہ ہوا ہے۔

بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں پاکستانی ہائی کمشنر عمران حیدر کی بنگلا دیش کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان سے ملاقات ہوئی۔

پاکستانی ہائی کمشنر نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کو عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی اور پاکستان بنگلا دیش تعلقات میں حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے مختلف شعبوں میں مثبت رفتار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تعلیم، باہمی رابطے، تجارت، زراعت اور صحت کے ساتھ ساتھ دو طرفہ ادارہ جاتی میکانزم کا انعقاد پر بھی مشاورت کی گئی۔

بنگلا دیشی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان نے دوطرفہ تعلقات پر بریفنگ کو سراہتے ہوئے پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات میں حالیہ پیش رفت پر اطمینان کا اظہارکیا۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران دو طرفہ تعاون میں وسعت کرنے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

واضح رہے کہ بنگلا دیش کے پارلیمانی انتخابات میں بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپس آئی ہے۔ بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے حالیہ عام انتخابات میں 212 نشستیں حاصل کر کے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی جب کہ جماعت اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ طلبہ کی جماعت این سی پی نے 6 نشستیں جیتی تھیں۔

سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کے بیٹے اور بی این پی کے قائد طارق رحمان نے 17 فروری کو وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھالیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے طارق رحمان کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور انہیں پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔

بنگلا دیش کی سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ 5 اگست 2024 کو استعفا دے کر ملک سے فرار ہوگئی تھیں۔ سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف شروع ہونے والی ملک گیر طلبہ تحریک ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ بنی۔

مظاہرے ملک بھر میں پھیلے تو شیخ حسینہ نے پُر امن احتجاج کو طاقت سے کچلنے کا حکم دیا۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انکار پر شیخ حسینہ نے استعفا دیا اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت فرار ہو گئیں۔

شیخ حسینہ کے استعفے کے بعد طلبہ تحریک کی قیادت نے ڈاکٹر محمد یونس کا نام عبوری حکومت کی سربراہی کے لیے پیش کیا تھا۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں 8 اگست 2024 کو عبوری حکومت کا قیام عمل میں آیا جو تقریباً 18 ماہ تک قائم رہی۔

اس حکومت کا بنیادی مقصد ملک میں آئینی اور انتخابی اصلاحات کرنا اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا تھا جو بالآخر 12 فروری کو منعقد ہوئے جس میں بی این پی نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔

Loading