ڈی این اے (DNA) کی مماثلت کے سائنسی دعوے اور اسلامی عقیدہ: ایک علمی و فکری موازنہ
مؤلف: طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ مؤلف: طارق اقبال سوہدروی)جدید جینیات (Genetics) اور حیاتیات کی دنیا میں اکثر یہ مشاہدہ بحث کا موضوع بنتا ہے کہ “انسان اور چمپینزی کے ڈی این اے (DNA) میں تقریباً 98 فیصد مماثلت پائی جاتی ہے”۔ اس سائنسی مشاہدے کو بنیاد بنا کر مادی ارتقاء (Evolution) کے حامی یہ تشریح پیش کرتے ہیں کہ انسان کسی آزاد تخلیق کا نتیجہ نہیں بلکہ جانوروں ہی کی نسل سے ترقی پا کر وجود میں آیا ہے۔ دوسری طرف، قرآنِ مجید میں بعض انسانوں کو سزا کے طور پر بندر یا خنزیر بنا دیے جانے (مسخِ شکل) کا ذکر بھی ملتا ہے۔
آئیے ان دونوں مادی اور ایمانی پہلوؤں کا ایک ایسا علمی، لاجیکل اور متوازن موازنہ کرتے ہیں جس سے تمام فکری مغالطے دور ہو جائیں۔
مشاہدہ اور تشریح کا بنیادی فرق
سب سے پہلے یہ گہرا علمی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈی این اے کی مماثلت صرف ایک مشاہدہ (Observation) ہے، جبکہ مشترک جد (Common Ancestry) یا یہ دعویٰ کہ انسان جانور سے بنا، اس مشاہدے کی محض ایک خاص تشریح (Interpretation) ہے۔ سائنس میں ایک ہی مشاہدے کی مختلف تشریحات پیش کی جا سکتی ہیں۔
موجودہ تحقیقات کے مطابق، زمین پر موجود تمام جاندار ایک ہی ماحولیاتی نظام (Biosphere) کا حصہ ہیں۔ ہم سب ایک ہی زمین پر رہتے ہیں، ایک ہی ہوا میں سانس لیتے ہیں، اور زندہ رہنے کے لیے پانی اور کاربن پر مبنی خوراک کے محتاج ہیں۔ چونکہ تمام جانداروں کے خلیات (Cells) کا بنیادی ڈھانچہ اور مادی ضروریات ایک جیسی ہیں، اس لیے ان کے جینیاتی کوڈ میں مماثلت ہونا ایک فطری اور لازمی امر ہے۔
جینیاتی مماثلت کا فیصد اس بات کا قطعی ثبوت نہیں کہ ایک جاندار دوسرے سے پیدا ہوا ہے، کیونکہ مختلف جانداروں کے درمیان بھی بنیادی حیاتیاتی افعال سے متعلق بہت سے جین مشترک ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
انسان اور کیلے (Banana) کے ڈی این اے میں تقریباً 50 فیصد مماثلت ہوتی ہے۔
انسان اور چوہے (Mouse) کے ڈی این اے میں تقریباً 85 فیصد مماثلت پائی جاتی ہے۔
صرف 2 فیصد فرق کی اصل اور ہولناک حقیقت
ارتقاء پسند اکثر “98 فیصد مماثلت” کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، لیکن وہ اس کے پیچھے چھپے محض “2 فیصد فرق” کی اصل ریاضیاتی حقیقت کو چھپا جاتے ہیں۔ جدید جینیات بتاتی ہے کہ انسانی ڈی این اے کا کل حجم تقریباً 3 ارب حروف (Base Pairs) پر مشتمل ہے۔ اب اگر چمپینزی اور انسان کے جینیاتی کوڈ میں صرف 2 فیصد کا بھی فرق نکالا جائے، تو یہ غالباً 6 کروڑ (60 Million) جینیاتی حروف کا فرق بنتا ہے!
یہ 6 کروڑ حروف کا جینیاتی فرق حیاتیاتی دنیا میں اتنی بڑی اور ناقابلِ عبور خلیج ہے کہ اسی کے اندر انسان کی پوری عقل، منفرد شعور، بولنے کی لاجواب صلاحیت، اخلاقی جذبات اور عظیم الشان تہذیب و تمدن کا پورا نظام چھپا ہوا ہے۔ لہٰذا، کہنے کو تو یہ محض 2 فیصد کا ہندسہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ انسان کو جانوروں سے مکمل طور پر جدا کرنے والا ایک بہت بڑا مادی فرق ہے۔
ایک مسلمان کے نزدیک اس جینیاتی مماثلت کی سب سے معقول اور متبادل تشریح یہ ہے کہ تمام جاندار ایک ہی خالق کی تخلیق ہیں، اس لیے ان کے بنیادی حیاتیاتی نظام اور جینیاتی کوڈز میں مماثلت پایا جانا حیران کن نہیں، بلکہ یہ خالق کے ماسٹر پلان کی یکسانیت کو ظاہر کرتا ہے۔
کیا انسان عذاب کے طور پر بندر بنا تھا؟
اب آتے ہیں اسلامی مآخذ کی طرف، جہاں قرآنِ مجید کی مختلف آیات (جیسے سورۃ المائدہ: 60، سورۃ الاعراف: 166، اور سورۃ البقرہ: 65) میں بنی اسرائیل کے بعض نافرمان لوگوں (اصحابِ سبت) پر اللہ کے عذاب کا ذکر ہے، جس کے نتیجے میں ان کی شکلیں مسخ کر کے انہیں بندر اور خنزیر بنا دیا گیا تھا۔
یہاں ارتقائی مفروضے اور اسلامی واقعے میں زمین آسمان کا فرق ہے:
ارتقائی نظریہ یہ قیاس کرتا ہے کہ بندر آہستہ آہستہ لاکھوں سال میں ترقی کر کے “انسان” بنے۔
اسلامی عقیدہ یہ بتاتا ہے کہ بندر انسان نہیں بنا، بلکہ عذاب کے طور پر کچھ گناہگار “انسانوں کو بندر بنا دیا گیا” تھا (یعنی تنزلی ہوئی، ترقی نہیں)۔
اس حوالے سے علمِ حدیث اور سلف کا فہم بالکل واضح ہے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے، صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ “یا رسول اللہ! کیا یہ موجودہ بندر اور خنزیر وہی مسخ شدہ لوگ ہیں؟” تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“یقیناً اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم کو ہلاک کیا یا اسے عذاب دیا (اور مسخ کیا) تو اس کی نسل آگے نہیں چلائی۔ یہ بندر اور خنزیر تو زمین پر پہلے سے ہی موجود تھے۔”
اس صریح حدیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جن انسانوں کی شکلیں مسخ کی گئی تھیں، وہ اسی وقت بغیر اولاد چھوڑے ہلاک ہو گئے تھے۔ موجودہ دور کے بندروں یا چمپینزیوں کا ان مسخ شدہ انسانوں سے کوئی جینیاتی تعلق نہیں ہے، کیونکہ جانور انسان سے پہلے کے پیدا کردہ ہیں۔
قرآن اور انسانی تخلیق کا معجزہ
قرآنِ مجید نے انسان کی مستقل, کامل اور آزاد تخلیق کو اتنے واضح انداز میں بیان کیا ہے کہ اس میں کسی ارتقائی مرحلے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔
سورۃ التین (آیات 1-4) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ وَطورِ سِينِينَ وَهَٰذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ
ترجمہ: “قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی، اور طورِ سینا کی، اور اس امن والے شہر (مکہ) کی، یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ساخت (شکل و صورت اور تقاضوں) پر پیدا کیا ہے۔”
مفسرینِ کرام کے مطابق اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عظیم الشان قسمیں کھا کر یہ واضح فرمایا کہ انسان کو تمام مخلوقات میں سب سے خوبصورت، متناسب اور کامل مادی و روحانی شکل میں پیدا کیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک انسان کسی دوسرے جاندار سے تدریجی ارتقاء کے ذریعے وجود میں نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی براہِ راست تخلیق ہے۔ ہم یہ قطعی دعویٰ نہیں کرتے کہ یہ آیت کسی جینیاتی کوڈ یا ڈی این اے کی تفسیر ہے۔ تاہم، یہ مشاہدات ہمیں اس آیت پر غور کرنے کی دعوت ضرور دیتے ہیں کہ انسان اول دن سے ہی “احسنِ تقویم” (بہترین ساخت) پر پیدا کیا گیا تھا۔
حاصلِ کلام
جدید جینیات کے مشاہدات کا درست فہم اور اسلامی اصولوں کا اعتدال ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جینیاتی کوڈز کی باہمی مماثلت دراصل خالقِ کائنات کے پیدا کردہ قوانین کی یکسانیت کی دلیل ہے۔ ہمارے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام پہلے انسان اور پہلے نبی تھے، جنہیں مٹی سے براہِ راست ایک مستقل انسانی وجود کی صورت میں تشریف آوری کا شرف حاصل ہوا تھا۔ جتنا انسان مادی سائنس کی گہرائی میں جائے گا، اسے معلوم ہوگا کہ انسان کا وجود، اس کی عقل اور اس کا شعور اندھے ارتقاء کا نہیں، بلکہ ایک قادرِ مطلق اور حکیم پروردگار کی خاص عنایت کا نتیجہ ہے۔
اہم وضاحت:
اس مضمون میں جہاں جدید سائنسی تحقیقات کا ذکر کیا گیا ہے، وہاں ان سے صرف وہی نتائج اخذ کیے گئے ہیں جو قرآن و سنت کے قطعی عقائد سے متصادم نہیں۔ جہاں کسی سائنسی نظریے اور اسلامی عقیدے میں اختلاف ہو، وہاں بطور مسلمان ہمارا اعتماد اللہ کے کلام اور صحیح احادیث پر ہے، جبکہ سائنسی نظریات تحقیق کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں۔
#سائنس #حیاتیات #جینیات #ڈی_این_اے #تخلیق_آدم #تفکر #تحقیق #سائنس_اور_قرآن
حوالہ جات:
National Human Genome Research Institute (NHGRI)
Nature (International Journal of Science)
صحیح مسلم (کتاب القدر)
تفسیر ابن کثیر
تفسیر طبری
![]()

