کائناتی ٹائم کیپسول: اصحابِ کہف کے غار کا سائنسی اور الٰہیاتی پوسٹ مارٹم
مؤلف ،: طارق اقبال سوہدروی
باب اول: فکری بغاوت اور دجالی ریاست کا جبر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کائنات کی تاریخ میں حق اور باطل کا معرکہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ جب کبھی انسانیت مادہ پرستی کے اندھیروں میں ڈوب کر خالق کو بھولنے لگتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے چند برگزیدہ بندوں کے ذریعے مادی قوانین کو پاش پاش کر کے اپنی قدرت کا اعلان فرماتا ہے۔ اصحابِ کہف کا قصہ محض ایک قدیم داستان نہیں، بلکہ یہ مادہ پرستی (Materialism) کے تابوت میں آخری کیل ہے۔
اس عظیم الشان واقعے کی شروعات ایک ایسے معاشرے سے ہوتی ہے جہاں شرک اور مادہ پرستی جڑیں پکڑ چکی تھیں۔ دقیانوس نامی بادشاہ، جو کہ اس وقت کی “دجالی ریاست” کا نمائندہ تھا، نے انسانوں کو اللہ کے بجائے اپنی اور اپنے خود ساختہ معبودوں کی بندگی پر مجبور کر رکھا تھا۔ اس گھٹن زدہ ماحول میں چند نوجوانوں نے، جنہیں قرآن “فِتْیَةٌ” (نوجوان) کہتا ہے، اپنے شعور کی آنکھیں کھولیں اور وقت کے اسٹیٹس کو (Status Quo) کو چیلنج کر دیا۔
قرآن مجید ان کی اس ایمانی استقامت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتا ہے:
إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى وَرَبطْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَن نَّدْعُوَ مِن دُونِهِ إِلَٰهًا ۖ لَّقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا (الکہف: 13-14)
یہ وہ لمحہ تھا جب ان نوجوانوں نے ظالم بادشاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر “اعلانِ آزادی” (Declaration of Independence) کیا۔ الٰہیاتی اعتبار سے یہ مقامِ ولایت کی معراج ہے۔ جب نوجوان اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں، تو اللہ کا کائناتی قانون حرکت میں آتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے: “وَرَبطْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ” (اور ہم نے ان کے دلوں کو باندھ دیا)۔
جدید نفسیات کی زبان میں اسے “اعصابی استحکام” (Neural Stability) کہا جاتا ہے۔ جب انسان کسی بڑے مقصد کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور موت کا خوف اس کے سامنے ہوتا ہے، تو انسانی دماغ کا Amygdala (جو خوف کو کنٹرول کرتا ہے) شدید تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن ان نوجوانوں کے معاملے میں اللہ نے ان کے دلوں کو “باندھ” دیا، یعنی ان کے اعصاب پر ایک ایسا سکون طاری کر دیا کہ وہ ریاست کے جبر سے بے خوف ہو گئے۔ انہوں نے اپنی قوم کے مادہ پرستانہ نظریات کا عقلی پوسٹ مارٹم کیا اور طے کیا کہ اس غلیظ معاشرے میں رہنے سے بہتر ہے کہ کسی ویران غار میں پناہ لے لی جائے۔ ان کا توکل اتنا بلند تھا کہ وہ جانتے تھے کہ غار کی تاریکی میں بھی اللہ کی رحمت ان کے لیے وسعتیں پیدا کر دے گی۔
باب دوم: نیورو اکوسٹکس—نیند کا وہ تالا جس کی چابی صرف اللہ کے پاس تھی
جب یہ نوجوان غار میں پناہ گزین ہوئے، تو اللہ نے ان پر ایک ایسی نیند طاری کی جو مادی قوانین کے تحت ناممکن تھی۔ اس نیند کا آغاز جس طرح ہوا، وہ جدید نیورو سائنس (Neuroscience) کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان اور اللہ کی قدرت کا شاہکار ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَضَرَبْنَا عَلَىٰ آذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا (الکہف: 11)
اس آیت میں لفظ “آذانِهِمْ” (ان کے کانوں پر) کا استعمال حیرت انگیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا یا انہیں محض سلا دیا۔ اس کی سائنسی حکمت آج کے دور میں سمجھ آتی ہے۔
انسانی جسم میں سماعت (Hearing) وہ واحد حس ہے جو نیند کے دوران بھی مکمل طور پر شٹ ڈاؤن نہیں ہوتی۔ میڈیکل سائنس اور اناٹومی ہمیں بتاتی ہے کہ جب ہم سوتے ہیں، تو ہماری آنکھوں کے پپوٹے (Eyelids) بند ہو کر روشنی کو روک دیتے ہیں، لیکن کانوں کا کوئی قدرتی “پردہ” نہیں ہوتا جو آواز کو روک سکے۔ سوتے ہوئے انسان کے کان آواز وصول کرتے ہیں اور اسے دماغ کے Auditory Cortex تک بھیجتے ہیں۔ اگر آواز کی شدت زیادہ ہو، تو دماغ کا الارم سسٹم یعنی Reticular Activating System (RAS) فوراً بیدار ہو جاتا ہے اور انسان کی آنکھ کھل جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ، جو انسانی مشینری کا الٹیمیٹ ڈیزائنر ہے، وہ جانتا تھا کہ غار کے باہر جانوروں کی چیخیں، پرندوں کا شور، بادلوں کی گرج اور طوفان کی آوازیں ان کی نیند میں خلل ڈال سکتی ہیں۔ چنانچہ اللہ نے ان کے کانوں پر “ضرب” لگائی (یعنی ان کی سماعت کو تھپکی دے کر سلا دیا)۔ یہ ایک ایسی “سینسری ڈیپریویشن” (Sensory Deprivation) تھی جس نے ان کے دماغ کا رابطہ بیرونی آوازوں سے کاٹ دیا۔ یہ نیند کوئی عام تھکن والی نیند نہیں تھی، بلکہ یہ ایک “میٹابولک فریز” (Metabolic Freeze) کا عمل تھا جس میں انسانی اعصاب صدیوں تک مکمل سکون کی حالت میں چلے گئے۔ اگر اللہ ان کے کانوں پر یہ “پردہ” نہ ڈالتا، تو وہ 300 سال تو دور کی بات ہے، چند گھنٹے بھی مسلسل نہیں سو سکتے تھے۔
باب سوم: فلکیاتی فزکس اور غار کا تھرمو ڈائنامکس
اب ہم غار کے اندر کے ماحول پر غور کرتے ہیں۔ کسی بھی جاندار جسم کو اگر صدیوں تک ایک ہی جگہ رکھنا ہو، تو اس کے لیے درجہ حرارت، نمی (Humidity) اور روشنی کا توازن ہونا ضروری ہے، ورنہ جسم یا تو خشک ہو کر راکھ بن جاتا ہے یا پھر نمی کی وجہ سے گل سڑ جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس غار کا جغرافیائی انتخاب اور سورج کے ساتھ اس کا زاویہ ایسا رکھا جو عقلِ انسانی کو دنگ کر دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَاوَرُ عَن كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِّنْهُ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ… (الکہف: 17)
اس آیت میں “تزاور” اور “تقرض” کے الفاظ جدید ایسٹرو فزکس (Astrophysics) اور کرونو بائیولوجی کا نچوڑ ہیں۔
سورج کا کترانا (Solar Bypass): اگر سورج کی براہِ راست شعاعیں (Direct Sunlight) ان کے جسموں پر پڑتیں، تو الٹرا وائلٹ (UV) اور انفراریڈ شعاعیں ان کے خلیوں (Cells) کے ڈی این اے کو تباہ کر دیتیں اور ان کا جسم ڈیہائیڈریشن (Dehydration) کا شکار ہو کر جھلس جاتا۔
روشنی کی ضرورت: اگر غار بالکل اندھیرا ہوتا، تو وہاں فنگس (Fungus) اور بیکٹیریا پیدا ہو جاتے جو ان کے گوشت کو کھا جاتے۔
الٰہیاتی انکیوبیٹر: اللہ نے غار کا رخ ایسا رکھا کہ سورج جب مشرق سے طلوع ہوتا تو دائیں طرف سے اور جب مغرب میں غروب ہوتا تو بائیں طرف سے “کترا” کر گزر جاتا۔ یعنی روشنی تو اندر پہنچتی تھی مگر تپش اور براہِ راست شعاعیں نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ غار کے ایک کشادہ حصے (فجوة) میں تھے، جہاں Cross Ventilation کے ذریعے تازہ ہوا کا گزر رہتا تھا۔
یہ غار دراصل ایک کائناتی انکیوبیٹر تھا جس کا درجہ حرارت اللہ نے فزکس کے تمام قوانین کو اپنے کنٹرول میں لے کر ایسا بیلنس کر دیا تھا کہ 300 سال تک ان کے جسموں کی نمی اور تروتازگی میں رتی برابر فرق نہیں آیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مادی سائنس خاموش ہو جاتی ہے اور وحیِ الٰہی بولتی ہے۔
باب چہارم: بائیولوجیکل پریزرویشن—کروٹوں کا معجزہ اور انسانی گوشت کی حفاظت
جب ہم اصحابِ کہف کے 309 سالہ قیام پر غور کرتے ہیں، تو سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک زندہ انسانی جسم، جو کہ مٹی، پانی اور نمکیات کا مجموعہ ہے، اتنے طویل عرصے تک بغیر کسی خوراک اور حرکت کے کیسے سلامت رہا؟ اللہ رب العزت نے اس کا جواب ایک ایسے جملے میں دیا ہے جو میڈیکل سائنس (Medical Science) اور اناٹومی (Anatomy) کی بنیاد ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ ۚ وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ ۖ (الکہف: 18)
-
پریشر السر (Pressure Ulcers) اور بیڈ سورس کا سائنسی مطالعہ
جدید طب ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی جسم کو زندہ اور سلامت رہنے کے لیے مسلسل حرکت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ایک تندرست انسان کو بھی کسی نرم گدے پر صرف 24 گھنٹے کے لیے بالکل ساکن (Immobile) لٹا دیا جائے، تو اس کے جسم کے وہ حصے جو زمین یا گدے کے ساتھ مس (Touch) ہو رہے ہوتے ہیں، وہاں “بیڈ سورس” (Bedsores) بننا شروع ہو جاتے ہیں۔
اس کی سائنسی وجہ یہ ہے کہ جب ہم لیٹتے ہیں، تو ہمارے جسم کا وزن مخصوص حصوں (جیسے کولہے، کندھے، اور ایڑیاں) پر پڑتا ہے۔ اس دباؤ کی وجہ سے ان حصوں کی باریک خون کی نالیاں (Capillaries) دب جاتی ہیں۔ جب خون کی نالیاں دبتی ہیں، تو خلیوں (Cells) کو آکسیجن اور غذا ملنا بند ہو جاتی ہے۔ اس حالت کو میڈیکل کی زبان میں Ischemia (خون کی فراہمی میں کمی) کہتے ہیں۔ اگر یہ دباؤ چند گھنٹوں سے زیادہ برقرار رہے، تو وہ مخصوص حصہ مرنا شروع ہو جاتا ہے جسے Necrosis کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گوشت گل سڑ کر ہڈی تک پہنچ جاتا ہے۔
-
“وَنُقَلِّبُهُمْ” کا الٰہیاتی پروٹوکول
اللہ تعالیٰ، جو انسانی جسم کا خالق اور دنیا کا سب سے بڑا “سرجن” ہے، وہ جانتا تھا کہ اگر اصحابِ کہف کو 309 سال تک ایک ہی کروٹ پر لٹائے رکھا گیا، تو زمین کا دباؤ اور مٹی ان کے گوشت کو ختم کر دے گی۔ چنانچہ اللہ نے فرمایا: “وَنُقَلِّبُهُمْ” (ہم انہیں کروٹیں بدلواتے تھے)۔
آج دنیا بھر کے آئی سی یو (ICU) وارڈز میں جہاں مریض کومہ (Coma) میں ہوتے ہیں، وہاں نرسوں کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ ہر دو سے تین گھنٹے بعد مریض کی کروٹ بدلیں۔ قرآن نے 1400 سال پہلے اس میڈیکل پروٹوکول کا ذکر فرما کر ثابت کر دیا کہ یہ کلام کسی انسان کا نہیں بلکہ اس ذات کا ہے جو رگوں میں دوڑتے خون کے ایک ایک قطرے سے واقف ہے۔ فرشتے، جو کہ اللہ کے حکم کے پابند ہیں، وہ مقررہ وقت کے بعد ان نوجوانوں کو دائیں اور بائیں کروٹیں دلواتے تھے تاکہ ان کا خون رواں رہے اور ان کے جسمانی ٹشوز (Tissues) گلنے سے محفوظ رہیں۔
-
آنکھوں کی نمی کا تحفظ: “تحسبہم ایقاظاً”
آیت کا یہ حصہ کہ “تم انہیں دیکھ کر بیدار سمجھتے” (وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا) ایک اور حیرت انگیز طبی راز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ماہرینِ چشم (Ophthalmologists) کا کہنا ہے کہ اگر انسانی آنکھ طویل عرصے تک بند رہے، تو آنکھ کے پپوٹے (Eyelids) آنکھ کی سطح کے ساتھ چپک سکتے ہیں اور آنکھ کے اندر کی نمی (Corneal Moisture) ختم ہو سکتی ہے، جس سے بینائی ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ اصحابِ کہف کی آنکھیں نیند کے دوران کھلی ہوئی تھیں اور وہ بار بار جھپکتی (Blink) تھیں تاکہ آنکھ کے اندر رطوبت برقرار رہے۔ یہی وجہ ہے کہ باہر سے دیکھنے والا انہیں “جاگتا ہوا” محسوس کرتا تھا، جبکہ وہ حقیقت میں اللہ کی پناہ میں سو رہے تھے۔ یہ وہ کائناتی ہسپتال تھا جہاں اللہ کی قدرت براہِ راست ان کے خلیوں کی حفاظت کر رہی تھی۔
باب پنجم: کتا—سیکیورٹی، اناٹومی اور نفسیاتی جنگ
اصحابِ کہف کے معجزے میں جہاں انسانوں کے لیے قوانین بدلے، وہیں ان کے وفادار کتے کے لیے بھی قدرت نے ایک خاص انتظام فرمایا۔ قرآن نے اس منظر کو یوں بیان کیا:
…وَكَلْبُهُم بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ ۚ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا (الکہف: 18)
-
کتے کی اناٹومی اور “سفنکس” پوزیشن
یہاں ایک بہت ہی باریک سائنسی سوال پیدا ہوتا ہے: انسانوں کو تو “بیڈ سورس” سے بچانے کے لیے کروٹیں بدلوائی گئیں، لیکن کتا 300 سال تک ایک ہی پوزیشن میں کیسے بیٹھا رہا؟ کیا اسے زخم نہیں ہوئے؟
اس کا جواب ویٹرنری اناٹومی (Veterinary Anatomy) میں چھپا ہے۔ کتے کے بیٹھنے کا وہ انداز جس میں وہ اپنے اگلے بازو پھیلا کر سینہ زمین پر ٹیک دیتا ہے (جسے Sphinx Posture کہا جاتا ہے)، وہ انسانوں کے لیٹنے کے انداز سے بالکل مختلف ہے۔ کتے کی ہڈیوں کی ساخت ایسی ہے کہ اس پوزیشن میں اس کے جسم کا سارا وزن کسی ایک پریشر پوائنٹ پر نہیں پڑتا، بلکہ اس کے پورے سکیلیٹل فریم (Skeletal Frame) اور پسلیوں کے وسیع رقبے پر مساوی طور پر تقسیم ہو جاتا ہے۔ کتے کی کھال کے نیچے ایک خاص قسم کی تہہ ہوتی ہے جو اسے طویل عرصے تک ایک ہی پوزیشن میں دباؤ برداشت کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی بائیولوجی کے مطابق غار کی دہلیز پر ایک ایسی “سسپینڈڈ اینیمیشن” (Suspended Animation) میں رکھ دیا جہاں وہ ایک “زندہ مجسمے” کی طرح نظر آتا تھا۔
-
نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) اور غار کا حفاظتی ہالہ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “اگر تم انہیں جھانک کر دیکھتے تو الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کی ہیبت چھا جاتی”۔ یہ غار کا وہ سائیکلوجیکل ڈیفنس سسٹم تھا جسے اللہ نے خود تیار کیا تھا۔
اس کی حکمت یہ تھی کہ اگر کوئی اتفاقاً غار کے پاس سے گزرتا، تو وہ ان نوجوانوں کی کھلی آنکھیں، ان کا کروٹیں بدلنا اور دہلیز پر اس خوفناک کتے کا الرٹ بیٹھا ہونا دیکھ کر دہشت زدہ ہو جاتا۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک ایسا “سیکیورٹی گارڈ” تھا جو کسی مادی طاقت یا ہتھیار کا محتاج نہیں تھا۔ اس کتے کا وہاں ہونا دراصل اس بات کا اعلان تھا کہ جب اللہ کسی کی حفاظت کا ذمہ لیتا ہے، تو وہ ایک جانور کے ذریعے بھی بڑی بڑی طاقتوں کو خوفزدہ کر سکتا ہے۔
-
کتے کی رفاقت اور وفاداری کا ثمر
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ کتا اصحابِ کہف کی محبت میں ان کے پیچھے آیا تھا۔ اگرچہ کتا ایک ناپاک سمجھا جانے والا جانور ہے (بعض صورتوں میں)، لیکن اللہ کے نیک بندوں کی رفاقت نے اسے وہ مقام عطا کیا کہ اللہ نے اسے اپنی کتاب “قرآن” میں ہمیشہ کے لیے ذکر فرما دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت جانوروں کو بھی معتبر بنا دیتی ہے، تو پھر ان انسانوں کا کیا مقام ہوگا جو اللہ کے ولیوں سے محبت کرتے ہیں۔
باب ششم: وقت کی اضافیت (Time Dilation) اور کائناتی گھڑی کا توقف
جب اصحابِ کہف کے اس طویل قیام کی بات آتی ہے، تو انسانی ذہن جس سب سے بڑی الجھن کا شکار ہوتا ہے، وہ “وقت” (Time) ہے۔ ہم وقت کو ایک ایسی لکیر سمجھتے ہیں جو ایک ہی رفتار سے گزرتی ہے، لیکن اللہ رب العزت نے غار کے اندر اس لکیر کو موڑ کر رکھ دیا تھا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَكَذَٰلِكَ بَعَثْنَاهُمْ لِيَتَسَاءَلُوا بَيْنَهُمْ ۚ قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ ۖ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۚ قَالُوا رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ… (الکہف: 19)
-
وقت کا نفسیاتی اور حیاتیاتی ادراک
اس آیت میں ایک بہت بڑا سائنسی راز چھپا ہے۔ جب وہ نوجوان بیدار ہوئے، تو انہوں نے ایک دوسرے سے وقت کے بارے میں پوچھا۔ ان کا جواب کیا تھا؟ “ایک دن یا اس کا کچھ حصہ”۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ 309 سال گزرنے کے باوجود ان کے لاشعور نے انہیں اتنے طویل عرصے کا احساس کیوں نہیں دلایا؟ جدید نفسیات (Psychology) اور نیورو سائنس کے مطابق، وقت کا احساس ہمارے دماغ کے اندر ہونے والے کیمیائی عمل اور بیرونی حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ چونکہ اللہ نے ان کے حواس کو معطل کر دیا تھا اور ان کی بائیولوجیکل گھڑی (Biological Clock) کو تھما دیا تھا، اس لیے ان کے خلیوں (Cells) پر وقت نے اپنا اثر نہیں دکھایا۔ ان کے لیے وقت کی رفتار وہ نہیں تھی جو غار سے باہر رہنے والوں کے لیے تھی۔
-
آئن سٹائن اور وقت کی اضافیت (Relativity of Time)
بیسویں صدی میں البرٹ آئن سٹائن نے اپنی “تھیوری آف ریلیٹیویٹی” (Theory of Relativity) کے ذریعے دنیا کو بتایا کہ وقت “مطلق” (Absolute) نہیں ہے، بلکہ یہ “اضافی” (Relative) ہے۔ یعنی وقت ہر جگہ ایک ہی رفتار سے نہیں گزرتا۔
اگر کوئی چیز روشنی کی رفتار (c) کے قریب سفر کرے، تو اس کے لیے وقت سست ہو جاتا ہے۔ اسے فزکس کی زبان میں Time Dilation کہتے ہیں۔ اس کا ریاضیاتی فارمولا کچھ یوں ہے:
اگرچہ غار کے اندر وہ نوجوان حرکت نہیں کر رہے تھے، لیکن اللہ رب العزت نے غار کے اندر کے فریم (Frame of Reference) کو باہر کی کائنات سے بالکل الگ کر دیا تھا۔ اللہ نے مادی قوانین کو اس طرح “ٹیک مینیولیٹ” (Manipulate) کیا کہ ان کے خلیوں کے لیے وقت کی رفتار سست ترین ہو گئی۔ جب وہ بیدار ہوئے، تو ان کے جسموں کی حالت وہی تھی جو سونے سے پہلے تھی۔ نہ ان کے بال بڑھے، نہ ناخنوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، اور نہ ہی چہروں پر بڑھاپے کے آثار آئے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ جب چاہے، وقت کو کسی خاص جگہ پر “منجمد” یا “سست” کر سکتا ہے۔
-
میٹابولک ریٹ (Metabolic Rate) کا تھم جانا
حیاتیاتی طور پر 309 سال تک بغیر کھائے پیئے زندہ رہنا تب ہی ممکن ہے جب جسم کا میٹابولک ریٹ (خلیوں کے کام کرنے کی رفتار) تقریباً صفر ہو جائے۔
سائنس کہتی ہے کہ اگر جسم کے تمام کیمیائی عمل کو ایک خاص درجہ حرارت اور کوانٹم لیول پر منجمد کر دیا جائے، تو اسے Suspended Animation کہا جاتا ہے۔ اصحابِ کہف کے معاملے میں یہ معجزہ اس سطح پر ہوا کہ ان کا جسم توانائی (Energy) استعمال ہی نہیں کر رہا تھا۔ وہ “حیات” اور “توقف” کے ایک ایسے مقام پر تھے جہاں موت ان پر اثر انداز نہیں ہو پا رہی تھی، کیونکہ اللہ نے وقت کے زہر کو ان کے جسموں کے لیے بے اثر کر دیا تھا۔
باب ہفتم: بیداری، حلال رزق اور عمرانی انقلاب
بیداری کے بعد کا مرحلہ نہ صرف سائنسی بلکہ عمرانی (Sociological) اور اخلاقی اعتبار سے بھی ایک عظیم درس گاہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بیدار ہونے اور اس کے بعد کی صورتحال کو یوں بیان فرمایا:
…فَابْعَثُوا أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَٰذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا (الکہف: 19)
-
رزقِ حلال اور “أَزْكَىٰ طَعَامًا” کا فلسفہ
تین صدیوں کی گہری نیند کے بعد جب وہ بیدار ہوئے، تو انسانی جبلت کے مطابق انہیں شدید بھوک کا احساس ہوا۔ اس حالت میں بھی ان کی پہلی ترجیح کیا تھی؟ وہ یہ نہیں تھی کہ “بس کچھ بھی کھانے کو لے آؤ”، بلکہ انہوں نے اپنے ساتھی کو تاکید کی کہ “أَزْكَىٰ طَعَامًا” (جو سب سے زیادہ پاکیزہ اور حلال ہو) وہی لانا۔
یہ نکتہ آج کے مسلمانوں کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ اصحابِ کہف ہمیں سکھا رہے ہیں کہ جب آپ نظریاتی جنگ لڑ رہے ہوں اور شدید ترین آزمائش میں ہوں، تب بھی حلال و حرام کی تمیز کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ “ازکیٰ طعام” سے مراد وہ کھانا ہے جس میں نہ شرک کی آمیزش ہو (جیسے بتوں کے نام پر ذبح کیا ہوا) اور نہ ہی وہ مالِ حرام سے حاصل کیا گیا ہو۔ ان کی نظریاتی طہارت ان کی بھوک پر غالب تھی۔
-
سکے کا معجزہ اور معاشی ٹکراؤ
جب ان کا ساتھی وہ چاندی کا سکہ (ورق) لے کر شہر پہنچا، تو وہاں ایک عظیم معاشی تضاد پیدا ہوا۔ وہ سکہ تین سو سال پرانا تھا، جس پر دقیانوس بادشاہ کی تصویر تھی۔ اس سکے کا بازار میں آنا دراصل اس بات کا اعلان تھا کہ “وقت بدل چکا ہے”۔
ان نوجوانوں کو خطرہ تھا کہ بادشاہ کی فوجیں انہیں ڈھونڈ لیں گی (آیت 20)، لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ جس دقیانوس سے وہ ڈر کر غار میں چھپے تھے، اسے تاریخ کے کوڑے دان میں پڑے صدیوں بیت چکی ہیں۔ اب شہر کا پورا ڈھانچہ، مذہب اور سیاست بدل چکی تھی۔ اللہ نے ایک سکے کے ذریعے ان پر یہ ظاہر کر دیا کہ حق ہمیشہ غالب رہتا ہے، چاہے اسے صدیوں تک غاروں میں ہی کیوں نہ رہنا پڑے۔
-
عمرانی تبدیلی اور اللہ کی نشانی
اللہ تعالیٰ نے ان کے واقعے کو لوگوں پر ظاہر کرنے کی حکمت یوں بیان فرمائی:
وَكَذَٰلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيهَا… (الکہف: 21)
اس واقعے نے اس دور کے معاشرے میں پھیلی ہوئی ان غلط فہمیوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا جو “بعث بعد الموت” (دوبارہ جی اٹھنے) کے بارے میں تھیں۔ جب لوگوں نے ان نوجوانوں کو زندہ سلامت دیکھا، تو انہیں یقین آگیا کہ جو خدا تین سو سال تک انسان کو موت جیسی نیند میں سلا کر دوبارہ اٹھا سکتا ہے، وہ قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ یہ معجزہ دراصل اس دور کے الحاد اور شک کے خلاف اللہ کی سب سے بڑی سائنسی اور منطقی دلیل تھی۔
اختتامیہ: اصحابِ کہف کا پیغام آج کے لیے
اصحابِ کہف کا قصہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب مومن اللہ کے لیے دنیا اور اس کی آسائشوں کو ٹھکرا کر “غار” (قناعت اور توکل) میں پناہ لیتا ہے، تو اللہ پوری کائنات کے قوانین کو اس کی حفاظت کے لیے بدل دیتا ہے۔
نیورو سائنس نے ان کے کانوں کی پہرہ داری کی۔
بائیو مکینکس نے ان کی کروٹیں بدلیں۔
ایسٹرو فزکس نے سورج کا راستہ موڑا۔
کوانٹم فزکس نے وقت کو ان کے لیے منجمد کیا۔
یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے خالق کے حکم کا پابند ہے۔ آج کا مسلمان اگر دوبارہ وہی توکل اور ایمان پیدا کر لے، تو آج بھی اللہ کی نصرت مادی اسباب سے ماورا ہو کر اس کی مدد کے لیے اتر سکتی ہے۔
حوالہ جات:
القرآن الکریم: سورہ الکہف، آیات 11 تا 21۔
تفسیر ابن کثیر: جلد 5، اصحابِ کہف کا تذکرہ۔
تفسیر معارف القرآن: مفتی محمد شفیعؒ، جلد 5۔
A Brief History of Time: Stephen Hawking (وقت کی اضافیت پر مطالعہ)۔
Guyton and Hall Textbook of Medical Physiology: (انسانی میٹابولزم اور پریشر السر پر تحقیق)۔
ہیش ٹیگز:
#اصحاب_کہف #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #وقت_کی_اضافیت #معجزات_قرآن #ایمان_اور_سائنس #طارق_اقبال_سوہدروی #رزق_حلال #قرآنی_تحقیق
![]()

