کامیابی کی کنجی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک ماں سور تھی جس کے تین چھوٹے بچے تھے۔ وہ تینوں بہت پیارے تھے، لیکن اب وہ بڑے ہو گئے تھے اور ان کے لیے ماں کے ساتھ رہنا ممکن نہیں تھا۔ ایک دن ماں نے انہیں بلایا اور کہا:
“میرے پیارے بچو! اب تم بڑے ہو گئے ہو۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تم دنیا میں جاؤ اور اپنی اپنی زندگی بساؤ۔ لیکن ہوشیار رہنا، اس جنگل میں ایک بھیڑیا ہے جو تمہیں کھانے کی تاک میں رہتا ہے۔ اپنے گھر مضبوط بنانا، تاکہ وہ تمہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔”
تینوں بچوں نے ماں کو الوداع کہا اور اپنی اپنی راہ لی۔
پہلا سور کا بچہ بہت تھوڑی دور گیا۔ اسے ایک آدمی ملا جو گھاس کا گٹھر لیے جا رہا تھا۔
سور بولا: “بھائی! مجھے وہ گھاس دو، میں اس سے اپنا گھر بنا لوں گا۔”
آدمی نے گھاس دے دی۔ سور نے جلدی جلدی گھاس کا ایک گھر بنا لیا۔ بہت جلدی، بہت آسان۔ اس نے سوچا: “بس، کام ختم۔ اب آرام کروں۔”
دوسرا سور کا بچہ تھوڑا آگے گیا۔ اسے ایک آدمی ملا جو لکڑیاں لیے جا رہا تھا۔
سور بولا: “بھائی! مجھے وہ لکڑیاں دو، میں ان سے اپنا گھر بنا لوں گا۔”
آدمی نے لکڑیاں دے دیں۔ سور نے لکڑیوں کا ایک گھر بنا لیا۔ اسے بھی زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔ اس نے سوچا: “گھاس سے تو بہتر ہے، بس اب مزے کروں۔”
تیسرا سور کا بچہ بہت دور چلا گیا۔ وہ سمجھدار تھا۔ اسے ایک آدمی ملا جو اینٹیں لے جا رہا تھا۔
سور بولا: “بھائی! مجھے وہ اینٹیں دو، میں ان سے اپنا گھر بنا لوں گا۔”
آدمی نے اینٹیں دے دیں۔ سور نے اینٹوں کا گھر بنانا شروع کیا۔ یہ کام مشکل تھا۔ اینٹیں اٹھانی تھیں، مٹی گوندھنی تھی، دیواریں کھڑی کرنی تھیں۔ اسے بہت پسینہ بہانا پڑا۔ لیکن وہ محنت کرتا رہا۔ ایک اینٹ پر ایک اینٹ، ایک دن پر ایک دن۔ آخرکار اس کا گھر تیار ہو گیا—مضبوط، پختہ، پتھر کی طرح ٹھوس۔
کچھ ہی دنوں بعد وہ بھیڑیا جنگل میں نکلا۔ اسے تینوں سوروں کی بھنک پڑ گئی۔ وہ بولا: “آج کا کھانا مل گیا۔”
پہلے وہ گھاس کے گھر کے پاس گیا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
“چھوٹے سور! چھوٹے سور! مجھے اندر آنے دو!”
پہلا سور ڈر گیا، بولا: “نہیں! نہیں! میرے بالوں کی قسم، میں تمہیں اندر نہیں آنے دوں گا!”
بھیڑیا ہنسا: “تو پھر میں پھونک مار کر تمہارا گھر اڑا دوں گا!”
اس نے پھونک ماری—پھوووو—اور سارا گھاس کا گھر ہوا میں اڑ گیا۔ پہلا سور بھاگا اور دوسرے کے گھر میں جا چھپا۔
بھیڑیا اب لکڑی کے گھر کے پاس آیا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
“چھوٹے سورو! چھوٹے سورو! مجھے اندر آنے دو!”
دونوں سور چلائے: “نہیں! نہیں! میرے بالوں کی قسم، ہم تمہیں اندر نہیں آنے دیں گے!”
بھیڑیا بولا: “تو پھر میں پھونک مار کر تمہارا گھر اڑا دوں گا!”
اس نے پھونک ماری—پھوووو—اور زور سے—پھوووو—لکڑی کا گھر ہلنے لگا۔ اس نے اور زور ماری—پھووووو—اور گھر گر گیا۔ دونوں سور بھاگے اور تیسرے کے گھر میں جا چھپے۔
بھیڑیا اب اینٹوں کے گھر کے پاس آیا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
“چھوٹے سورو! چھوٹے سورو! مجھے اندر آنے دو!”
تینوں سور اندر سے بولے: “نہیں! نہیں! میرے بالوں کی قسم، ہم تمہیں اندر نہیں آنے دیں گے!”
بھیڑیا بولا: “تو پھر میں پھونک مار کر تمہارا گھر اڑا دوں گا!”
اس نے پھونک ماری—پھوووو—کچھ نہیں ہوا۔ اس نے اور زور ماری—پھووووو—کچھ نہیں ہوا۔ اس نے پوری طاقت سے ماری—پھوووووو—لیکن گھر بالکل نہیں ہلا۔ اینٹوں کا گھر مضبوط تھا۔
بھیڑیا نے سوچا: “پھونک سے کام نہیں ہوا، کوئی اور ترکیب سوچنی ہوگی۔”
اس نے دیکھا کہ گھر کی چھت پر چمنی ہے۔ وہ بولا: “اوپر سے گھس جاؤں گا۔”
سوروں نے یہ سنا۔ تیسرے سور نے جلدی سے چولھے میں آگ جلائی اور پانی کی دیگ چڑھا دی۔
بھیڑیا چمنی سے نیچے اترا—اور سیدھا ابلتے پانی میں جا گرا۔
“آہ! اوچ!” چیختا ہوا وہ باہر بھاگا اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔
تینوں سور خوش ہو گئے۔ پہلا اور دوسرا سور اب سمجھ گئے تھے کہ جلدی اور آسانی سے بنائے گھر کا کیا انجام ہوتا ہے۔ انہوں نے بھی اینٹوں کے گھر بنا لیے اور تینوں خوشی سے رہنے لگے۔
اخلاقی سبق: محنت اور دور اندیشی ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ جلدی اور آسانی سے کیا گیا کام مشکل وقت میں کام نہیں آتا۔
![]()

