کلاس قلندر شعور سے عظیمی صاحب کے تین اہم لیکچرز
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اس کلاس میں یہ پہلا لیکچر بعنوان “قلندر شعور “۳۰ جون ۱۹۹۵ کو دیا گیا اور آخر میں سوال و جواب کے ذریعے ان موضوعات کو مزید ذہن نشین کرایا گیا
اس کتاب کا نام”قلندر شعور”ہے-قلندر شعور نام یہ ظاہر کرتا ہے کہ جس طرح ہر آدمی کے اندر شعور کام کرتا ہے اور اس شعور کی بنیاد پر ہر انسان کی طرز فکر مختلف ہوتی ہے اسی صورت سے ایک شعور ایسا بھی ہے کہ جس کا نام ہم نے قلندر شعور رکھا ہے-
شعور سے مراد یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک ایسی ایجنسی آنے والے خیالات کو اپنے مطلوبہ معنے پہناتی ہے-شعور سے ہمیشہ مراد یہ ہوتی ہے کہ ایک ایسی ایجنسی جو نیوٹرل نہیں ہوتی-شعور سے مراد موجودہ علم کی روشنی میں آپ یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ طبیعات،طبیعات کے دائرے میں جو شعور ہے-
طبیعات اور نفسیات کے بارے میں ماشاءاللہ آپ سب لوگ پڑھے لکھے ہیں جانتے ہیں کہ طبیعات اور نفسیات دو دائرے ایسے ہیں کہ جن کے بغیر نہ کوئ انسان زندگی گزار سکتا ہے اور نہ کوئ حیوان زندگی گزار سکتا ہے-جہاں تک طبیعات کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ کوئی بھی ذی روح مخلوق ایک مخصوص دائرہ عمل میں رہ کر زندگی گزارتی ہے اس مخصوص دائرہ عمل میں اس مخلوق کو یا اس فرد کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ مجھے کیا کھانا ہے؟ کیا پینا ہے؟ کس طرح رہنا ہے؟
جسمانی مشین کو جب وہ تھک جائے یا گرم ہو جائے کس طرح آرام دینا ہے ؟ طبیعات کے دائرے میں یہ ساری چیزیں آتی ہیں ۔ اب طبیعات کے دائرے میں وہ مخلوق جو زمین پر زیرِ بحث ہے ایک کا نام ہم رکھتے ہیں انسان ، دوسری کا نام ہم رکھتے ہیں حیوان ۔
انسان بذاتِ خود اس بات کا دعو ٰی کرتا ہے کہ انسان جو ہے حیوانِ ناطق ہے یعنی بولی بولنے والا حیوان ، لیکن جب غور وفکر کیا جاتا ہے تو یہ انسان کا بے بنیاد اور مفروضہ کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا اس لیے کہ جتنے بھی یہاں حیوانات ہیں وہ سب بولتے بھی ہیں ۔ وہ آپس میں اپنی بولیاں سمجھتے بھی ہیں اور خطرے کے وقت وہ اور قسم کی بولی بولتے ہیں خوشی کے وقت اور قسم کی بولی بولتے ہیں ۔
مثلٌا جنگل میں اگر کوئی شیر آجائے تو بندر درختوں پر چڑھ کر اپنا پیٹ بھی پیٹتے ہیں، آوازیں بھی نکالتے ہیں ، بہت شور کرتے ہیں ۔ اُس سے یہ ہوتا ہے کہ جنگل کے جتنے بھی جانور ہیں وہ باخبر ہو جاتے ہیں کہ اب ہمیں خطرہ ہے اور اس خطرہ سے ہمیں بچنا چاہیے ۔ اسی صورت سے جتنے بھی جانور بھی آپ دیکھتے ہیں مثلاٌ گائے بھیُس ،بکری ، بھیڑ ، شیر ، کتّا بلّی جتنے بھی چوپائے ہیں اُن کی آوازیں الگ الگ ہیں پھر وہ اپنی آوازوں کو سمجھتے بھی ہیں۔ مُرغی ایک مخصوص آواز اُس وقت نکالتی ہے جب اُس کے بچوں کو یا چوزوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ اُس کی آواز سُن کر چھوٹے چھوٹے چوزے دوڑتے ہیں اور مرغی اپنے پر کھول کر اپنے تمام بچوں کو ان میں اس طرح سمیت کر بیٹھ جاتی ہے کہ چیل مرغی کے بچوں کو نہیں اٹھا سکتی ۔ ثابت ہوا کہ مرغی کی آواز مرغی کے بچے نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ اُس آواز کو سُن کر اس پر عمل درأمد بھی کرتے ہیں۔ اب یہ کہنا کہ انسان حیوانِ ناطق ہے باقی دوسرے حیوانات گو نگے بہرے ہیں یا سمجھ اور عقل سے بالکل بے خبر ہیں۔ یہ انسان کا محض ایک دعوٰی ہے جس کو ہم خود فریبی کے علاوہ کوئ نام نہیں د ے سکتے ۔جاری ہے
کتاب خطبات لاہور
خواجہ شمس الدین عظیمی
![]()

