کوشش اور دعا کا تعلق
دعا:
آسان الفاظ میں دعا کا مطلب ہے اللہ سے مانگنا کہ وہ ہماری ضرورت، چاہت، خواہش پوری کردے یا ہم کو کسی مشکل، پریشانی یا مصیبت سے بچا لے یا یہ دونوں معاملات حال اور مستقبل دونوں میں کردے۔
کوشش:
اس سے مراد ہے کہ ہم کسی چیز کو اپنے مستقبل کی کامیابی، خوشی و اطمینان یا تحفظ کے لیے ضروری سمجھتے ہوئے اسکے حصول کی محنت کریں۔ یہ مقصد کے حصول کے لیے اسباب جمع کرنے کا نام ہے بس۔
کوشش سے سب کچھ ہوتا ہے تو دعا کیوں مانگیں؟ دعا ہی سب کچھ ہے تو کوشش کیوں کریں؟ ہونا تو وہی ہے جو اللہ کی مرضی تو پھر دعا کا فائدہ؟
یہ اور اس طرح کے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔
پہلی بات تو آسان ہے، بغیر کوشش کے کوئی بھی دعا قبول نہیں ہوتی۔ جیسے آپ میٹرک فیل کرکے میڈیکل کالج میں ایڈمیشن کی دعا جتنی چاہے مانگ لیں، کبھی نہیں پوری ہوگی۔ خالی دعا سے نہ سالن پکے گا اور نہ بھوک پیاس مٹے گی۔
ہمارا سب کا تجربہ ہے کہ کئی دفعہ کوشش بھی ہوتی ہے مگر ناکام رہتی ہے اور کئی دفعہ معمولی کوشش سے کامیابی مل جاتی ہے، (دوسروں کی کامیابی ، کہ ہم کو اپنی کوشش کبھی کم نہیں لگتی!)
دعا کی سادہ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے مقصد کے لیے پرخلوص اور شدید محنت کرتا ہے اور پھر وہ محنت اللہ کے حضور رکھ کر دعا کرتا ہے کہ یا اللہ میں اتنا ہی کرسکتا تھا!
جیسے ایک انسان دکان کھولے، پوری طرح مارکیٹ اور کاروبار کو سمجھ کر، پورا اور اچھا مال ڈال کر بیٹھے، اخلاق بھی بہترین ہو تب بھی وہ گاہک نہیں لاسکتا، یہ اسکے ہاتھ میں نہیں۔ یعنی دعا ان عوامل کے لیے مانگی جاتی ہے جن میں ہم بے بس ہیں۔
اگر کسی چیز کے لیے کئی لوگ محنت کررہے ہیں مگر ایک کو ہی ملتی ہے جبکہ ہر کوئی دعا بھی مانگ رہا ہے تو پھر؟
درست ہے، اوّل تو یہ کہ کبھی نہیں جان سکتے کہ کس نے سب سے زیادہ محنت کی؟ دوسرا ہم یہ بھی نہیں جان سکتے کہ کس کو اس چیز کی ضرورت زیادہ ہے۔ یہ اللہ ہی جانتا اور فیصلہ کرتا ہے۔ یاد رکھیے کہ ہم کو بھی جب کچھ ملتا ہے تو کسی اور کے ارمانوں کا خون کرکے ہی ملتا ہے۔ یہ ملنا یا نا ملنا تمام انسانوں میں ادلتا بدلتا رہتا ہے۔
کامیابیاں غیر اللہ کو ماننے والوں یا ملحدوں کو بھی ملتی ہیں، وہاں بھی یہی محنت یا ضرورت کا اصول لاگو ہوتا ہے۔ ورنہ انکو تو کچھ بھی نہ ملتا۔
“جو لوگ بس اِسی دُنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں اُن کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی” سورہ ھود 15
تو دعا کا سادہ مطلب یہ ہوا، اللہ سے مانگا جائے اپنی بہترین کوشش کے بعد۔ اللہ اگر چاہے تو غیبی طور سے ہم کو اسباب کی راہ سے عطا کردے، یاد رکھیں اسباب سے ملے گا یا اسباب کی راہ سے ہی ناکامی ہوگی۔اصول وہی محنت اور ضرورت کا ہے۔
اللہ ہر دعا کا جواب دیتا ہے:
یہ بالکل درست ہے۔ دراصل انسان سمجھتا ہے کہ بس وہ دعا قبول ہوتی ہے جب اسکی مرضی پوری ہوجائے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔
اللہ ہم سے اسباب کے ذریعے گفتگو کرتا ہے۔ دعا مانگتے ہیں مگر حالات خراب ہوجاتے ہیں، یہ اللہ جواب ہی دے رہا ہوتا ہے کہ اے انسان ابھی تیری محنت کافی نہیں یا تجھ سے زیادہ ضرورتمند موجود ہیں یا پھر اپنی دعا میں مزید اثر پیدا کر۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیک اعمال اور دعا کی قبولیت میں کیا ربط ہے؟
اصول یہ ہے کہ اللہ کو اس دنیا سے کوئی دلچسپی نہیں، تمام لوگ کڑوڑ پتی بن جائیں، ذولجلال ولاکرام کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ اس نے ہر انسان کے اندر اپنی روح ڈالی ہے جو غیر فانی ہے، اس کا مسئلہ ہے کہ یہ غیر فانی روح ابدی جہنم سے بچ جائے۔ یہ دنیا کی کامیابی ناکامی اسکا مسئلہ ہے ہی نہیں۔ وہ دیتا ہے کہ اگر اسکا بندہ اسکی طرف پلٹ جائے، وہ روک لیتا ہے کہ بندہ آہ وزاری کرے اور اسکا دل ہدایت کے کیے نرم ہوجائے۔ اس بات سے پناہ مانگنی چاہیے کہ ہر دعا قبول ہوجائے، وہ ارحم الراحمین ہے، ذونتقام ہے، جن پر جہنم واجب ہوگئی ہو تو وہ انکو سب دینا شروع کردیتا ہے کہ چلو ابھی مزے کرلو کہ پھر تو ہمیشہ کا عذاب ہی ہے۔
نیک اعمال اس بات کی گارنٹی نہیں کہ دعا قبول ہوگی یا مرضی پوری ہوگی۔ صحابہ کا سوچیے، ذلتیں برداشت کیں، بھوک پیاس دیکھی اور شہید ہوگئے یہ جانتے ہوئے کہ انکے بیوی بچے بھوک و غربت میں ہی رہیں گے۔ رسول اللہ کو دیکھیں، کونسا غم ہے جو آپ کو نہیں ملا؟ اولاد کو دفنایا، رشتہ داروں کی دشمنیاں برداشت کیں، دو وقت پیٹ نہیں بھرا، 4 گھنٹے سے زیادہ کبھی نیند نہیں ملی، 24 گھنٹے سٹریس کہ ذمہ داری ادا ہوئی یا نہیں۔ میرے آپکے نیک اعمال کی کیا حیثیت؟
نیک اعمال کا کام یہ نہیں ہوتا کہ اللہ کو مکھن لگا کر مطلب نکلوایا جائے، ہرگز نہیں۔ نیک اعمال کا مقصد ہوتا ہے وہ تزکیہ کا درجہ حاصل کرنا کہ ہماری چاہت جب پوری ہوجائے تو اس سے ہمارا ایمان مضبوط ہو نا کہ تکبر پیدا ہو۔ نعمت کا حصول ہمارے دل کو اللہ کے حضور جھکا دے۔
“اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اُس مصیبت کے بعد جو اُس پر آئی تھی ہم اُسے نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میرے تو سارے دِلَدّرپار ہو گئے، پھر وہ پھُولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے۔ “ سورہ ھود 9-10
یاد رکھیے کسی چیز کی چاہت یا ضرورت اللہ پیدا ہی اسی لیے کرتا ہے کہ انسان نیک اعمال میں سبقت کرے، صدقہ خیرات کرے کہ دوسرے انسانوں کی ضروریات پوری ہوں، ذکر اذکار کرے کہ اسکا اپنا دل نرم ہو۔ خواہش پوری ہونا یا نہ ہونا ثانوی ہے۔ اللہ کے اس زاویہ کو نگاہ میں رکھ کر دعا کی جائے تو دل کو بھی قرار ملتا ہے۔
آخری بات یہ کہ اللہ کو محسوس کرنے کا بہترین ذریعہ دعا ہی ہے۔ ہر معمولی سے معمولی کام اور پریشانی کے لیے دعا مانگنا شروع کردیں، آپ اللہ کو محسوس کرنے لگ جائیں گے۔ کوئی بھی کام ہو کسی بھی وقت ہو بس زیر لب کہیں “یا اللہ عزوجل مدد فرما” کچھ ہفتے کرکے دیکھ لیں، محسوس کریں گے کہ وہ زندہ خدا بس انتظار کررہا تھا آپکی دعا کا۔
![]()

