Daily Roshni News

کوفہ کا فجر کا جھٹپٹا، 30 بدو سوار اور خاموش بغاوت (جمادی الثانی 120 ہجری / مئی 738 عیسوی)

کوفہ کا فجر کا جھٹپٹا، 30 بدو سوار اور خاموش بغاوت (جمادی الثانی 120 ہجری / مئی 738 عیسوی)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )120 ہجری کی ایک صبح، جب کوفہ کی گلیاں فجر کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھیں اور شہر پر اموی سلطنت کے سب سے طاقتور وائسرائے، خالد القسري، کا 15 سالہ رعب طاری تھا، تو صحرا کے راستے سے محض 30 یا 40 گرد آلود بدو سوار شہر کے جنوبی دروازے میں داخل ہوئے۔ ان سواروں کا کوئی شاہی پرچم تھا نہ ان کے ساتھ کوئی بھاری عسکری لشکر۔

اس ہراول دستے کے آگے جو شخص اپنے گھوڑے پر سوار تھا، اس کا جسمانی حلیہ انتہائی عجیب اور غیر معمولی تھا۔ اس کا قد اس قدر پست (بونا نما) تھا کہ رکاب میں اس کے پاؤں گھوڑے کے پیٹ سے نیچے نہیں لٹکتے تھے، اس کا جسم دبلا پتلا، لیکن چہرے پر ایک دیوہیکل، گھنی اور سیاہ داڑھی تھی جو اس کے سینے کو ڈھانپ کر گھوڑے کی زین تک پہنچتی تھی۔ اس پستہ قد شخص کی آنکھوں میں شک، وسوسہ اور ایک وحشیانہ سختی تھی، اور اس کے سینے سے لگی چمڑے کی تھیلی میں خلیفہ ہشام بن عبد الملک کا ایک خفیہ شاہی فرمان موجود تھا۔

یہ شخص مرکزی سڑکوں کے بجائے کوفہ کی ویران پگڈنڈیوں سے گزرا، شاہی محل کے پہرے داروں کو چکما دیا، اور سیدھا محکمہ شُرطہ (مرکزی پولیس ہیڈکوارٹر) کے دروازے پر پہنچا۔ اس نے اپنی غیر معمولی، گرجدار اور ہولناک آواز میں پہرے داروں کو دھمکار کر دروازہ کھلوایا، اندر داخل ہوا، اور خالد القسري کے مرکزی پولیس چیف کو بستر پر ہی دبوچ لیا۔ سورج نکلنے تک، بغیر کوئی قطرہ خون بہائے، 15 سال تک عراق کو انگلیوں پر نچانے والی خالد القسري کی حکومت ختم ہو چکی تھی۔

یہ اموی تاریخ کا سب سے سفاک، شکی مزاج، اور حجاج بن یوسف کا حقیقی جانشین، ‘یوسف بن عمر الثقفی’ تھا—وہ سالار جس نے اپنے پستہ قد اور دیوہیکل داڑھی کے ساتھ عراق پر خون اور دہشت کا راج قائم کیا، جس نے زید بن علیؓ کی بغاوت کو کچلا، اور جس کا اپنا انجام دمشق کے ایک تاریک زندان میں ریشمی عبا کے بجائے بیڑیوں میں جکڑ کر گردن کٹنے پر منتج ہوا۔

ثقفی خون، جسمانی ساخت اور یمن کی سخت گیر گورنری (106 تا 120 ہجری)

یوسف بن عمر کا تعلق طائف کے مشہور اور جنگجو قبیلے ‘ثقیف’ سے تھا؛ وہ اموی سلطنت کے سب سے بڑے اور سخت گیر منتظم، حجاج بن یوسف الثقفی، کا قریبی رشتہ دار (چچا زاد بھائی / بھتیجا) تھا۔ جسمانی اور نفسیاتی اعتبار سے یوسف تاریخ کا ایک انوکھا کردار تھا۔ ابن خلدون اور طبری کے مطابق، وہ قد میں انتہائی چھوٹا، لیکن آواز میں ببر شیر کی طرح گرجدار تھا۔ اسے اپنی جان، زہر اور بیماریوں کے حوالے سے وسوسے (Paranoia) کی حد تک شک رہتا تھا؛ وہ ہر وقت اپنے اردگرد محافظوں کا سخت حصار رکھتا، اور اگر کوئی شخص اس کے قریب آ کر سانس بھی لیتا تو وہ فوراً غسل کر کے اپنا لباس بدل لیتا تھا۔

106 ہجری (724 عیسوی) میں خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے یوسف بن عمر کو یمن کا والی مقرر کیا۔ یمن، جو قبائلی رنجشوں اور خوارج کی سرکشی کا گڑھ تھا، یوسف کی عسکری اور انتظامی تربیت کی لیبارٹری ثابت ہوا۔ یمن میں اس نے خوارج کے ایک بڑے رہنما، ‘شوذب الخرجی’، کی بغاوت کا سامنا کیا۔ یوسف نے روایتی مذاکرات کے بجائے انتہائی متواتر عسکری مہمات کے ذریعے خوارج کو کوہستانی دروں میں گھیر کر قتل کیا اور شوذب کا سر دمشق بھیج دیا۔

یمن کے 14 سالہ دور میں، یوسف نے مقامی قبائل سے سختی کے ساتھ ٹیکس وصول کیا اور دمشق کے شاہی خزانے کو سونے کی اتنی بھاری کھیپیں بھیجیں کہ خلیفہ ہشام، جو خود ایک انتہائی حساب کتاب رکھنے والا حکمران تھا، یوسف کی وفاداری اور انتظامی سختی کا معترف ہو گیا۔

کوفہ پر شب خون اور عراق کی کمان (120 ہجری / 738 عیسوی)

120 ہجری میں جب خلیفہ ہشام کو عراق کے وائسرائے خالد القسري کی بے پناہ دولت اور سیاسی اثر و رسوخ پر شک ہوا، تو اسے ایک ایسے سالار کی ضرورت تھی جو قیسی قبیلے کا کٹر حامی ہو اور جس میں خالد جیسے بااثر یمنی سردار پر ہاتھ ڈالنے کی بے رحم ہمت ہو۔ خلیفہ کا انتخاب یوسف بن عمر تھا۔

ہشام نے یوسف کو یمن سے خفیہ طور پر طلب کیا۔ یوسف نے یمن سے کوفہ تک کا 1800 کلومیٹر کا فاصلہ محض چند دن میں، صحرائی راستوں اور رات کے سفر کے ذریعے طے کیا۔ کوفہ میں محکمہ شُرطہ پر قبضہ کرنے کے بعد، اس کے دستے واسط کے قصرِ امارت میں داخل ہوئے اور خالد القسري کو معزول کر کے بیڑیوں میں جکڑ لیا۔

عراق کا والی بنتے ہی یوسف بن عمر نے دیوانِ خراج (محکمہ مالیات) اور انتظامی ڈھانچے کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس نے خالد القسري کے تمام مقرر کردہ یمنی گورنروں، کاتبوں اور سالاروں کو معزول کر کے جیلوں میں ڈال دیا، اور ان کی جگہ قیسی اور ثقفی قبیلے کے لوگوں کو تعینات کیا۔ اس نے عراق پر عسکری کرفیو نافذ کر دیا اور بصرہ، کوفہ اور واسط میں جاسوسوں کا ایک ایسا وسیع جال بچھا دیا کہ لوگوں نے اپنے گھروں میں بھی اونچی آواز میں بات کرنا چھوڑ دیا۔

مالیاتی بھتہ خوری اور قید خانوں کا نظام (120 تا 125 ہجری)

یوسف بن عمر کا دورِ حکمرانی عراق کی تاریخ میں بدترین مالیاتی نچوڑ اور جسمانی تشدد کا دور سمجھا جاتا ہے۔ اس کا عسکری اور مالیاتی اصول یہ تھا کہ سابقہ حکمرانوں اور ان کے ماتحتوں نے جو کچھ بھی سلطنت سے کمایا ہے، اسے جسمانی اذیت کے ذریعے شاہی خزانے اور اس کی اپنی جیب میں منتقل کیا جائے۔

اس نے واسط میں ایک وسیع قید خانہ قائم کیا، جہاں ہر وقت ہزاروں سیاسی قیدی اور سابقہ کاتب بند رہتے تھے۔ یوسف نے مالیات وصول کرنے کے لیے جراحوں اور جلادوں کی ایک باقاعدہ ٹیم بنا رکھی تھی جو قیدیوں کو مختلف عسکری اور نفسیاتی طریقوں سے اذیت دیتی۔ اس کی اس بے رحمانہ پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ عراق کے زرعی اور تجارتی طبقات میں اموی سلطنت کے خلاف ایک گہری اور خاموش نفرت پختہ ہو گئی، جس نے بعد میں عباسی انقلاب کے لیے زرخیز زمین فراہم کی۔

معرکہِ کوفہ: زید بن علیؓ کی بغاوت اور ہولناک عسکری ردعمل (122 ہجری / 740 عیسوی)

یوسف بن عمر کے دور کا سب سے بڑا عسکری اور سیاسی بحران 122 ہجری (740 عیسوی) میں پیش آیا، جب امام حسینؓ کے پوتے، حضرت زید بن علی بن الحسینؓ نے کوفہ میں اموی سلطنت کے جبر کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ کوفہ کے 40,000 سے زائد لوگوں نے حضرت زیدؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔

یوسف بن عمر اس وقت واسط کے مرکزی عسکری کیمپ میں تھا۔ جب اسے کوفہ میں بغاوت کی اطلاع ملی، تو وہ گھبرایا نہیں بلکہ اس نے انتہائی ٹھنڈے اور شاطرانہ عسکری دماغ کے ساتھ جوابی کارروائی کی۔ اس نے اپنے ہراول سالار، عباس بن سعید المری، کی قیادت میں ایک بھاری اور زرہ پوش شامی و خراسانی فوج کوفہ روانہ کی، اور خود واسط سے رسد اور کمک کی نگرانی کرنے لگا۔

صفر 122 ہجری میں جب جنگ کا آغاز ہوا، تو کوفہ کے جن 40,000 لوگوں نے بیعت کی تھی، ان کی اکثریت اموی شُرطہ کے خوف سے میدان چھوڑ گئی، اور حضرت زیدؓ کے ساتھ محض چند سو سچے اور زرہ پوش جانثار باقی رہ گئے۔ اس قلیل تعداد کے باوجود، حضرت زیدؓ نے کوفہ کی سڑکوں پر یوسف بن عمر کی فوج کو دو دن تک زبردست عسکری شکستیں دیں۔

تیسرے دن کی شام، جب یوسف بن عمر کے تیر اندازوں نے چھتوں اور مورچوں سے اندھا دھند تیر باری شروع کی، تو ایک تیر حضرت زیدؓ کی پیشانی پر لگا، جس سے ان کی شہادت واقع ہو گئی۔ ان کے جانثاروں نے رات کے اندھیرے میں ان کی لاش کو ایک نہر کے کنارے دفن کر کے اوپر پانی بہا دیا تاکہ دشمن کو قبر کا علم نہ ہو سکے۔

لیکن یوسف بن عمر کا وسوسہ اور انتقام یہاں ختم نہیں ہوا۔ اس نے کوفہ میں اپنے جاسوس دوڑائے، ایک غلام کے ذریعے قبر کا پتا لگایا، اور حضرت زیدؓ کی لاش کو زمین سے نکلوا لیا۔ اس نے سر کاٹ کر دمشق خلیفہ ہشام کو بھیج دیا، اور بے سر کی لاش کو کوفہ کے کناسا چوک (سولی گاہ) میں برہنہ سولی پر لٹکا دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ لاش مسلسل چار سال تک کوفہ کے چوک میں سولی پر لٹکتی رہی، یہاں تک کہ بعد میں یوسف کے حکم پر اسے اتار کر جلا دیا گیا اور اس کی راکھ کو دریائے فرات کی ہواؤں میں اڑا دیا گیا۔ اس سفاکانہ عمل نے پورے عالمِ اسلام میں یوسف بن عمر کو ایک متنازع ترین اور ظالم کردار بنا دیا۔

5 کروڑ درہم کی خریداری اور خالد القسري کا قتل (125 تا 126 ہجری)

125 ہجری میں جب خلیفہ ہشام کا انتقال ہوا اور ولید ثانی بن یزید تخت پر بیٹھا، تو یوسف بن عمر فوراً دمشق پہنچا۔ وہ اپنے سب سے بڑے یمنی حریف، خالد القسري، کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتا تھا۔

یوسف نے خلیفہ ولید ثانی، جو مالی تنگی اور عیاشی کا شکار تھا، کو پیشکش کی کہ اگر وہ خالد القسري کو اس کے حوالے کر دے، تو وہ نقد 5 کروڑ (50 ملین) درہم شاہی خزانے میں جمع کروائے گا۔ ولید ثانی نے یہ پیشکش منظور کر لی۔

یوسف بن عمر نے بوڑھے خالد القسري کو لوہے کی بیڑیوں میں جکڑ کر دمشق سے عراق کے تاریخی شہر حیرہ منتقل کیا۔ حیرہ کے زندان میں، یوسف نے خالد پر اپنی مشہور سزا ‘عذاب التربیع’ (سینے پر لکڑی کے تختے اور ان پر چکی کے بھاری پتھر لادنا) کا اطلاق کیا، جس کے نتیجے میں محرم 126 ہجری میں سابقہ وائسرائے کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور وہ دم توڑ گیا۔ یوسف نے اس کی لاش کو ایک ویران گڑھے میں پھینکوا دیا۔

سلطنت کا زوال اور ذلت آمیز فرار (126 ہجری / 744 عیسوی)

خالد القسري کے قتل نے اموی فوج کی ریڑھ کی ہڈی—یمنی قبائل—کو یوسف بن عمر اور خلیفہ ولید ثانی کا ابدی دشمن بنا دیا۔ جمادی الثانی 126 ہجری (اپریل 744 عیسوی) میں دمشق میں ایک خونی فوجی بغاوت ہوئی؛ یزید ثالث (یزید بن ولید) نے یمنی قبائل کی مدد سے خلیفہ ولید ثانی کو قتل کر کے خلافت سنبھال لی۔

جیسے ہی ولید ثانی کے قتل کی خبر عراق پہنچی، واسط اور کوفہ میں یمنی قبائل نے یوسف بن عمر کے خلاف بغاوت کر دی۔ یوسف کی اپنی فوج کے یمنی اور خراسانی دستے اس کے خلاف ہو گئے۔ اس پستہ قد سالار کو پہلی بار احساس ہوا کہ اب اس کی شمشیر اور پہرے دار اسے نہیں بچا سکتے۔

یوسف بن عمر نے واسط کا قصرِ امارت چھوڑا اور رات کے اندھیرے میں فرار ہونے کی کوشش کی، لیکن عرب کے صحراؤں میں ہر طرف یمنی جنگجو اس کے خون کے پیاسے تھے۔ ابن الاثیر اور طبری کی روایات کے مطابق، اس نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے زنانا (عورتوں کا) لباس پہنا، لیکن بلقا (شام و اردن کی سرحد) کے نزدیک یمنی قبائل کے جاسوسوں نے اس کی مخصوص دیوہیکل داڑھی اور پست قد کی وجہ سے اسے پہچان لیا اور گرفتار کر لیا۔

دمشق کا زندان اور عبرتناک انجام (127 ہجری / 744 عیسوی)

یمنی جنگجوؤں نے عراق کے اس مطلق العنان حاکم کو لوہے کی بھاری زنجیروں میں جکڑا اور توہین آمیز انداز میں گھسیٹتے ہوئے دمشق لے آئے، جہاں اسے خلیفہ یزید ثالث کے حکم پر دمشق کے مرکزی زندان میں ڈال دیا گیا، جہاں کبھی اس نے خود دوسروں کو قید کروایا تھا۔

127 ہجری (744 عیسوی) میں، جب دمشق میں ایک بار پھر سیاسی افرا تفری مچی اور خلیفہ ابراہیم بن ولید کے دور میں اموی خاندان کی اندرونی خانہ جنگی عروج پر پہنچی، تو زندان میں قید یوسف بن عمر کی قسمت کا فیصلہ ہو گیا۔

یمنی قبائل کے دباؤ پر، دمشق کی جیل کے دروازے کھولے گئے۔ یوسف بن عمر، جس نے عراق کے ہزاروں لوگوں کو گردن زدنی کی سزائیں دی تھیں، کو جیل کے صحن میں لایا گیا۔ جلاد نے ایک ہی ضرب سے اس کا سر قلم کر دیا، اور اس کی بے سر کی لاش کو دمشق کی سڑکوں پر گھیسٹ کر عبرت کے لیے پھینک دیا گیا۔

یوسف بن عمر الثقفی کا دورِ حکومت اموی سلطنت کی تاریخ کا وہ موڑ تھا جہاں سے عربوں کی خاندانی اور قبائلی عصبیت (قیسی بمقابلہ یمنی) ایک لاینحل عسکری خونی کھیل میں تبدیل ہو گئی۔ وہ اپنے بونے جسم، گھنی داڑھی، اور بلند آواز کے ساتھ شمشیر اور جبر کی حکمرانی کا استعارہ تھا، لیکن اس نے اپنی ذاتی عداوتوں اور انتہا پسندانہ سختیوں کے ذریعے اموی خلافت کی جڑوں سے وہ تمام مقامی اور قبائلی حمایت چھین لی جو سلطنت کے دفاع کے لیے ناگزیر تھی۔ اس کی موت کے محض 6 سال بعد، 132 ہجری میں، عباسیوں کی سیاہ علَم بردار فوجوں نے اموی خلافت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔

تاریخی حوالہ جات:

تاریخ الطبری (Tarikh al-Tabari)

الکامل فی التاریخ — ابن الاثیر (Al-Kamil fi al-Tarikh — Ibn al-Athir)

انساب الاشراف — احمد بن یحییٰ البلاذری (Ansab al-Ashraf — Al-Baladhuri)

مروج الذہب — المسعودی (Muruj al-Dhahab — Al-Masudi)

تاریخِ ابنِ خلدون (Tarikh Ibn Khaldun)

البداية والنهاية — حافظ ابن کثیر (Al-Bidaya wa’l-Nihaya — Ibn Kathir)

دی فرسٹ ڈائناسٹی آف اسلام — جی آر ہاکنگز (The First Dynasty of Islam — G. R. Hawting).

اگر آپ سلطنت عثمانیہ کے طاقتور سلطان مراد چہارم کی پوری کہانی اینیمیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 👇

Sultan Murad IV Animated Documentary:

https://www.facebook.com/reel/911619255236837

Loading