Daily Roshni News

کوفہ کی جامع مسجد، سرخ عمامہ اور ایک ہولناک ریاستی الٹی میٹم (75 ہجری)

کوفہ کی جامع مسجد، سرخ عمامہ اور ایک ہولناک ریاستی الٹی میٹم (75 ہجری)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)75 ہجری کا سال۔ عراق کا دارالحکومت کوفہ مسلسل عسکری بغاوتوں اور لاقانونیت کا گڑھ بن چکا تھا۔ عباسی اور اموی تاریخ کی اس بدترین انارکی کے دوران، کوفہ کی مرکزی مسجد میں ایک نیا گورنر داخل ہوا۔ اس کے ساتھ کوئی بڑی فوج نہیں، بلکہ صرف 12 محافظ تھے۔ اس شخص نے اپنے چہرے پر ایک سرخ عمامہ لپیٹ رکھا تھا جس سے صرف اس کی آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔

وہ سیدھا منبر پر چڑھا اور مکمل خاموشی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ کوفہ کے سرکش قبائلی سردار اور شہری اس خاموشی سے تنگ آ گئے اور انہوں نے پتھر اٹھا لیے تاکہ اس نئے اور نامعلوم گورنر کو مار کر بھگا دیں۔ جیسے ہی ہجوم نے پتھر مارنے کا ارادہ کیا، اس شخص نے اچانک اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا۔ یہ کوئی روایتی سیاست دان نہیں تھا۔ اس نے اپنی بھاری اور کاٹ دار آواز میں ایک خالصتاً عسکری اور بے رحم تقریر شروع کی، جس کا پہلا جملہ تاریخ کا سب سے مشہور ریاستی الٹی میٹم بن گیا:

“اے اہلِ عراق! میں دیکھ رہا ہوں کہ سر پک چکے ہیں اور ان کے کٹنے کا وقت آ گیا ہے، اور میں وہ شخص ہوں جو انہیں کاٹے گا۔ میں تمہارے عماموں اور داڑھیوں کے درمیان خون چمکتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔”

اس نے کوفہ کے شہریوں کو تین دن کا الٹی میٹم دیا کہ جو شخص خوارج کے خلاف لڑنے والے اموی کمانڈر ‘مہلب بن ابی صفرہ’ کے فوجی کیمپ میں رپورٹ نہیں کرے گا، اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ تیسرے دن اس نے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے ایک بااثر شخص کو سرِعام قتل کروا دیا۔ اس ایک ہولناک اقدام نے عراق کی بغاوت کو منجمد کر دیا۔ یہ اموی سلطنت کا سب سے سفاک، لیکن سب سے مؤثر بیوروکریٹ اور کمانڈر، حجاج بن یوسف الثقفی تھا۔

حجاج بن یوسف کی پیدائش 40 ہجری میں طائف کے قبیلہ بنو ثقیف میں ہوئی۔ ان کا خاندانی پس منظر کوئی شاہی یا عسکری نہیں تھا؛ ان کے والد ایک معمولی سکول ٹیچر تھے۔

مستند تاریخی حوالوں (جیسے تاریخِ طبری) کے مطابق، حجاج کے جسمانی خدوخال کسی ہیرو جیسے نہیں تھے۔ وہ پستہ قد (چھوٹے قد) اور دبلے پتلے جسم کے مالک تھے۔ ان کے چہرے پر چیچک (Smallpox) کے گہرے داغ تھے، اور ان کے بال بہت کم تھے۔ تاہم، ان کی آواز انتہائی بھاری، گرجدار اور ان کا لہجہ خالص اور فصیح عربی پر مبنی تھا۔ ان کی شخصیت میں بچپن سے ہی ایک سرد مہری اور بے رحم ڈسپلن موجود تھا۔

حجاج کی سیاسی زندگی کا آغاز دمشق میں ہوا۔ وہ اموی دارالحکومت دمشق پہنچے اور وزیر ‘روح بن زنباع’ کی زیرِ نگرانی ‘شرطہ’ (پولیس فورس) میں شامل ہو گئے۔

اس وقت خلیفہ عبدالملک بن مروان کی شامی فوج میں سخت نظم و ضبط کا فقدان تھا۔ حجاج کو فوج کے ایک حصے کا ڈسپلن قائم کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ حجاج نے بغیر کسی قبائلی دباؤ کے، ان تمام فوجیوں کے خیمے جلا دیے جو ڈیوٹی سے غائب تھے یا احکامات نہیں مانتے تھے۔ عبدالملک بن مروان، جو اموی تاریخ کا سب سے حقیقت پسند خلیفہ تھا، نے حجاج کی اس بے رحم انتظامی صلاحیت کو بھانپ لیا۔ خلیفہ کو سلطنت کے باغیوں کو کچلنے کے لیے ایک ایسے ہی آہنی ہتھوڑے کی ضرورت تھی۔

عبدالملک بن مروان نے حجاج کو اموی سلطنت کا سب سے پیچیدہ عسکری مشن سونپا: مکہ پر حملہ کر کے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی متوازی خلافت کا خاتمہ کرنا۔

73 ہجری میں حجاج ایک بھاری شامی فوج لے کر مکہ پہنچا۔ اس نے کسی مذہبی یا جذباتی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دیا۔ خالصتاً ایک عسکری کمانڈر کے طور پر اس نے مکہ کا مکمل معاشی اور لاجسٹک محاصرہ کیا اور کوہِ ابو قبیس پر منجنیقیں (Catapults) نصب کر دیں۔ حجاج نے خانہ کعبہ کے احاطے پر براہِ راست پتھر باری کا حکم دیا، جس سے کعبہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ اس نے محاصرے کو اس حد تک سخت کیا کہ مکہ میں قحط پڑ گیا۔ بالآخر عبداللہ بن زبیرؓ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ حجاج نے ان کی لاش کو کئی دن تک سولی پر لٹکائے رکھا تاکہ سلطنت کے تمام باغیوں کو ایک ٹھوس نفسیاتی اور ریاستی پیغام دیا جا سکے۔

عراق کا گورنر بننے کے بعد حجاج نے وہاں ایک ہولناک بیوروکریٹک اور عسکری کنٹرول قائم کیا۔ لیکن 80 ہجری میں اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ حجاج نے کابل اور رتبیل کی مہم کے لیے عراق کے سب سے اشرافیہ اور مہنگے ہتھیاروں سے لیس فوجیوں پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا جسے ‘جیشِ طواویس’ (Peacock Army) کہا جاتا تھا۔

اس فوج کے کمانڈر، ‘عبدالرحمٰن بن الاشعث’ نے حجاج کے سخت گیر احکامات سے تنگ آ کر بغاوت کر دی۔ یہ اموی سلطنت کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی فوجی بغاوت تھی، جس میں ایک لاکھ سے زائد عراقی فوجی اور علماء شامل ہو گئے۔ حجاج نے عجلت کے بجائے تزویراتی صبر (Strategic Patience) کا مظاہرہ کیا۔ اس نے خلیفہ سے شامی کیولری (Cavalry) کی کمک منگوائی۔ 82 ہجری میں ‘دیر الجماجم’ کے مقام پر فیصلہ کن جنگ ہوئی۔ حجاج نے اپنی ریگولر آرمی کی منظم لاجسٹکس اور بھاری رسالے کے ذریعے اس دیوہیکل بغاوت کو مکمل طور پر کچل دیا اور ہزاروں باغیوں کے سر قلم کروا دیے۔

عراق کی اس بغاوت کے بعد حجاج نے ایک ٹھوس زمینی حقیقت کا ادراک کیا کہ شامی فوجیوں کو کوفہ اور بصرہ کی شہری آبادی کے درمیان نہیں رکھا جا سکتا۔

83 ہجری میں اس نے بصرہ اور کوفہ کے عین وسط میں دریائے دجلہ کے کنارے ایک بالکل نیا شہر بسایا جسے ‘واسط’ کا نام دیا گیا۔ یہ کوئی عام شہر نہیں بلکہ ایک خالصتاً ملٹری گیریژن (Military Cantonment) تھا، جہاں صرف شامی فوجیوں کو خاندانوں کے بغیر رکھا جاتا تھا۔ اس چھاؤنی کا مقصد کسی بھی عراقی بغاوت کی صورت میں دونوں شہروں پر بیک وقت فوجی اسٹرائیک کرنا تھا۔

حجاج محض ایک سفاک قاتل نہیں، بلکہ ایک اعلیٰ درجے کا منتظم بھی تھا۔ اس نے اموی سلطنت کے مالیاتی اور انتظامی ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔

کرنسی کا نظام: اس نے فارسی اور رومن سکوں کو منسوخ کر کے پہلی بار خالص اسلامی اور عربی درہم و دینار جاری کیے۔

دفتری زبان (دیوان): اس سے قبل ریاست کا ٹیکس اور بیوروکریٹک ریکارڈ فارسی اور قبطی زبانوں میں ہوتا تھا۔ حجاج نے ریاستی طاقت کے ذریعے تمام دیوان (Bureaucracy) کو عربی میں منتقل کر دیا۔

قرآن پر اعراب: عجمی آبادی کے لیے قرآن پڑھنا مشکل ہو رہا تھا۔ حجاج نے ریاست کی سرپرستی میں ماہرینِ لسانیات کو بٹھا کر قرآن کے حروف پر نقطے اور اعراب (زبر، زیر، پیش) لگوائے، جو آج تک پوری دنیا میں رائج ہیں۔

اپنی زندگی کے آخری سالوں میں حجاج معدے کی ایک انتہائی تکلیف دہ بیماری (ممکنہ طور پر کینسر) کا شکار ہو گیا۔ اس کے جسم میں شدید سردی محسوس ہوتی تھی، یہاں تک کہ وہ آگ کے بالکل قریب بیٹھتا تھا جس سے اس کی جلد جھلس جاتی تھی۔

95 ہجری (714 عیسوی) میں 54 سال کی عمر میں اس کا واسط کی اسی عسکری چھاؤنی میں انتقال ہوا۔ مرنے سے پہلے اس نے ایک خالص انٹیلی جنس پر مبنی آخری فیصلہ کیا۔ اس نے وصیت کی کہ اسے رات کے اندھیرے میں نامعلوم مقام پر دفن کیا جائے اور اس کی قبر پر دریا کا پانی بہا دیا جائے (یا زمین کو بالکل ہموار کر دیا جائے)، تاکہ اس کے لاتعداد دشمن اس کی موت کے بعد اس کی لاش کو نکال کر بے حرمتی نہ کر سکیں۔

جب اس کے انتقال کے بعد اس کا اثاثہ چیک کیا گیا، تو مشرقِ وسطیٰ کے اس سب سے طاقتور حکمران کے پاس محض 300 درہم، ایک ذاتی تلوار، ایک گھوڑے کی زین اور ایک قرآن مجید موجود تھا۔ اس نے ریاستی خزانے سے اپنی ذات کے لیے کوئی محل یا جاگیر نہیں بنائی تھی۔

تاریخی سوال:

حجاج بن یوسف کے دورِ حکومت کے دو بالکل متضاد پہلو ہیں: ایک طرف لاکھوں لوگوں کا سفاکانہ قتل اور مکہ پر حملہ، اور دوسری طرف قرآن پر اعراب لگوانا، خالص عربی کرنسی کا اجرا اور ایک ٹوٹتی ہوئی سلطنت کو مضبوط مرکزیت دینا۔ کیا ایک ریاست کو انارکی اور خانہ جنگی سے بچانے کے لیے حجاج جیسی بے رحم ڈکٹیٹرشپ واقعی ایک ‘تزویراتی ضرورت’ ہوتی ہے، یا یہ محض اقتدار کو طول دینے کا ایک وحشیانہ طریقہ ہے؟ ٹھوس تاریخی حقائق کی روشنی میں کمنٹس میں بحث کریں۔

تاریخی حوالہ جات:

تاریخ الطبری — محمد بن جریر الطبری (Tarikh al-Tabari — Muhammad ibn Jarir al-Tabari)

انساب الاشراف — احمد بن یحییٰ البلاذری (Ansab al-Ashraf — Al-Baladhuri)

الکامل فی التاریخ — ابن الاثیر (Al-Kamil fi al-Tarikh — Ibn al-Athir)

البداية والنهاية — حافظ ابن کثیر (Al-Bidaya wa’l-Nihaya — Ibn Kathir)

سیر اعلام النبلاء — شمس الدین الذہبی (Siyar A’lam al-Nubala — Al-Dhahabi)

وفیات الاعیان وأنباء أبناء الزمان — ابن خلکان (Wafayat al-Ayan — Ibn Khallikan)

مروج الذهب ومعادن الجوهر — علی بن حسین المسعودی (Muruj al-Dhahab — Al-Masudi)

الفتوح — ابن اعثم الکوفی (Kitab al-Futuh — Ibn A’tham al-Kufi).

اگر آپ یہ پوری کہانی اینیمیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 👇

Hajjaj bin Yusuf Animated Documentary:

https://www.facebook.com/reel/1820726495592199

Loading