“کون ہے جو مجھے ان کی خبر لاکر دے گا؟!”
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضرت خالد بن ولید ؓ نے فرمایا تو ایک شخص صعصعہ غِفاری حاضر ہوئے اور کہا:
“اے امیر میں اس خدمت کے لیے حاضر ہوں۔”
واقدی کہتے ہیں یہ شخص تیز ترین گھڑ سواری کا تجربہ رکھتا تھا۔ لہذا اسی وقت برق رفتاری سے آنے والے لشکر کی طرف بڑھا اور جلد ہی واپس پلٹ آیا۔ آپ کے پاس آکر زور سے پکارا:
“اے امیر! رومیوں کا ایک دستہ ہمارے تعاقب میں بڑھا چلا آرہا ہے۔ وہ سر سے پیر تک لوہے میں غرق ہیں۔” (یعنی لوہے سے بنے مخصوص جنگی لباس میں ہیں)
آپ نے یہ سن کر یونس رہبر کو طلب کیا اور لشکر کو فوراً صف بندی کا حکم دے دیا۔
یونس جب آپ کے پاس پہنچا تو کہنے لگا:
“امیر محترم! میں نے آپ کو کہا تھا کہ جیسے ہی ہرقل کو اپنی بیٹی کی گرفتاری اور توما کی تباہی کی اطلاع ملے گی تو وہ اسے رہا کروانے کی کوشش کرے گا۔ چاہے وہ لڑائی کے ذریعے ہو یا مذکرات کے نتیجے میں۔”
اتنے میں وہ دستہ بھی قریب پہنچ چکا تھا۔ جب انھوں نے مسلمانوں کو لڑنے کے لیے تیار دیکھا تو فاصلے پر ہی رک گئے۔ پھر ان میں سے ایک بڑی عمر کا شخص جس نے بالوں والا جُبہ پہنا ہوا تھا، آیا اور کہا:
“تمھارا امیر کون ہے، میں اس سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔”
لوگ اسے حضرت خالد بن ولید ؓ کے پاس لائے تو اس نے آپ سے کہا:
“میں شہنشاہ ہرقل کا ایلچی ہوں۔ شہنشاہ کا کہنا ہے کہ تمھاری توما کے خلاف کی گئی کارروائی اور اپنی بیٹی کی قید کا مجھے علم ہوا ہے۔ مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اس واقعہ سے۔ یہ درست ہے کہ آپ لوگ فاتح بن کر لوٹے ہیں، لیکن ظلم و زیادتی فاتح کو بھی مفتوح بنا دیتی ہے۔ میں آپ لوگوں کو مہلت دے رہا ہوں، آپ لوگ حد کراس نہ کریں۔ اس لیے میری بیٹی کو فدیہ لے کر رہا کردو یا تحفہ کے طور پر واپس بھیج دو۔ میں نے سنا ہے عرب لوگ بڑے سخی ہوتے ہیں، مجھے امید ہے آپ لوگوں کے ساتھ میری صلح ہو جائے گی۔”
ایلچی کی دھمکی اور ترغیب پر مبنی تقریر سن کر حضرت خالد بن ولید ؓ نے کہا:
“ہرقل کو کہہ دینا کہ ہم جب تک اس سرزمین کو فتح نہ کرلیں یہاں سے ٹلنے والے نہیں ہیں۔ اور جیسا کہ وہ کہہ رہا ہے کہ ہمیں مہلت دے رہا ہے، تو اصل بات یہ ہے کہ اگر ہم اس کے قابو آجاتے تو وہ کسی قسم کی نرمی نہ کرتا، بلکہ توقع سے بڑھ تک تکالیف پہنچاتا۔ اور رہی بات اس کی بیٹی کی، تو ہم اسے بغیر فدیہ کے بطورِ ہدیہ تمھیں دے رہے ہیں۔”
اس کے بعد اس خاتون کو رومی ایلچی کے حوالے کردیا گیا۔ پھر آپ نے کہا:
“مجھے امید ہے یہ صحیح سلامت اپنے باپ کے پاس پہنچ جائے گی۔”
وہ ایلچی اس خاتون کو لے کر روانہ ہوگیا۔
اس کے بعد حضرت خالد بن ولید ؓ لشکر کو لے کر دمشق کی جانب بڑھے جہاں حضرت امین الامۃ ؓ سمیت تمام مسلمان آپ کا بے چینی سے انتظار فرما رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔
“اللہ اکبر! اللّٰہ اکبر”
جیسے ہی حضرت خالد بن ولید ؓ اپنی اسپیشل فورس سمیت دمشق میں داخل ہوئے تو مسلمانوں نے بلند آواز سے نعرہ تکبیر لگا کر استقبال کیا۔ جواب میں حضرت خالد بن ولید ؓ کے لشکر نے بھی نعرہ لگایا۔ پورا دمشق شہر اللہ تعالیٰ کے نام اور نبی کریم ﷺ پر درود شریف پڑھنے کی آوازوں سے گونج اٹھا۔
ہوا یوں تھا کہ حضرت خالد بن ولید ؓ جب اپنے لشکر سمیت رومیوں کے تعاقب میں روانہ ہوئے تو جتنے دن تک واپسی کا اندازہ تھا، اس سے زیادہ دن لگ گئے۔ یہاں تک کہ دمشق میں موجود مسلمان آپ کی زندگی کی طرف سے مایوس ہونے لگے۔ حضرت امین الامۃ ؓ بھی سخت متفکر تھے کہ اچانک آپ کا لشکر دمشق میں نمودار ہوا۔ مسلمانوں کو جہاں اپنے ساتھیوں کی باحفاظت واپسی کی خوشی تھی وہیں پر بے انتہا مالِ غنیمت ملنے کی بھی خوشی ہوئی۔
جب دونوں لشکروں کے لوگ آپس میں ملے تو بغل گیر ہوئے اور مبارکباد دی۔ حضرت عمرو بن معدی کرب بھی اپنے ساتھیوں سمیت مدینہ سے دمشق پہنچ چکے تھے، ان کو دیکھ کر حضرت خالد بن ولید ؓ اور بھی زیادہ خوش ہوئے۔
سلام و دعا اور ملنے ملانے کے بعد حضرت خالد بن ولید ؓ اور حضرت امین الامۃ ؓ ایک خیمہ میں بیٹھے، پھر آپ نے اس کارروائی کی پوری تفصیلات حضرت امین الامۃ ؓ کے گوش گزار کی۔ حضرت امین الامۃ ؓ اس لشکر کی معجزانہ کارروائیوں پر حیران بھی ہوئے اور خوش بھی۔ پھر حضرت خالد بن ولید ؓ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ جسے مدینہ منورہ میں بیت المال کے لیے بھیجنا تھا، نکال کر باقی تمام مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔
حضرت خالد بن ولید ؓ نے اپنے حصے میں سے یونس رہبر کو کچھ مال دے کر فرمایا:
“تم اسے دے کر کسی رومی عورت سے نکاح کرلو۔”
یونس نے قسم کھا کر کہا:
“حضرت اب میں اس دنیا میں شادی نہیں کروں گا۔ اب تو جنت میں ہی میری شادی ہوگی۔”
حضرت رافع بن عمیرہ طائی کہتے ہیں؛
“یونس رہبر ہمارے ساتھ بہت سے معرکوں میں شریک رہا۔ اس نے بڑی جانبازی سے رومیوں کا مقابلہ کیا۔ جنگِ یرموک میں اسے اللہ تعالیٰ نے شہـ ـا د ت کی نعمت سے سرفراز کیا۔”
سب کاموں سے فارغ ہونے کے بعد حضرت خالد بن ولید ؓ نے ایک خط تحریر کیا جس میں رومیوں کے تعاقب، مال غنیمت کے حصول اور تقسیم، رومی شہنشاہ ہرقل کی بیٹی کی گرفتاری و رہائی کی مکمل تفصیل درج کی، پھر اس پر مہر لگا کر ایک قاصد کو دیا اور اسے امیر المومنین، خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ منورہ کی طرف روانہ کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔
یہ عجیب رات تھی۔ اس رات کو جب وہ دونوں حضرات سوئے تو انھوں نے ہوبہو ایک جیسا خواب دیکھا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ دمشق کو چاروں طرف سے مسلمانوں نے گھیرا ہوا ہے اور زور زور سے نعرہ تکبیر بلند کر رہے ہیں۔ کچھ ایسا محسوس ہو رہا تھا گویا کہ وہ نعرے ہم اپنے کانوں سے سن رہے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ کا نام بلند کرتے ہوئے مسلمانوں نے دمشق پر حملہ کیا تو شہر کی فصیل اور قلعہ زمین میں دھنس گیا۔ وہ ایسا ہوگیا کہ جیسے یہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ گویا کہ نام و نشان مٹ گیا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ کو دیکھا کہ وہ رومیوں کو مارتے کاٹتے ہوئے شہر میں داخل ہو رہے ہیں اور ایک ایسی جگہ پہنچتے ہیں جہاں سامنے آگ ہے۔ جب آپ آگ کے قریب پہنچتے ہیں تو وہ ایک دم بجھ جاتی ہے۔
جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے یہ خواب سنا تو آپ نے تعبیر بتائی:
“جس رات کو یہ خواب دیکھا گیا، اسی رات دمشق فتح ہوچکا ہے۔”
ایک ہی رات میں ایک جیسا خواب دیکھنے والی ان دو معزز ہستیوں کے نام حضرت عمر فاروق اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ ہیں۔
واقدی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں:
“جس رات کو ان حضرات نے یہ خواب دیکھا تھا اس سے اگلے دن امیر المومنین، رسول اللہ ﷺ کے پہلے خلیفہ، افضل البشر بعد الانبیاء، حضرت عبداللہ عتیق بن ابو قحافہ، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تھی۔”
إِنَّالِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رٰجِعونَ
یعنی ایک طرف مسلمان دمشق فتح ہونے کی خوشی منا رہے تھے تو دوسری طرف امت مسلمہ پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کا غم چھایا ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
آگے بڑھنے سے پہلے خلیفہ اوّل کے تعارف میں چند باتیں
مُرّہ کے ایک بیٹے کا نام “تیم” تھا۔ تیم کا بیٹا سعد اور سعد کے بیٹے کا نام کعب تھا۔ کعب کا بیٹا عمرو اور عمرو کے بیٹے کا نام عامر تھا۔ پھر اسی عامر کے ایک بیٹے کا نام عثمان تھا جو ابو قحافہ کی کنیت سے مشہور ہوئے۔ پھر اِنھی عثمان ابو قحافہ کے بیٹے کا نام عبداللہ تھا اور لقب عتیق و صدیق۔ ان کی کنیت”ابوبکر” تھی اور یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور ہوئے۔
مُرّہ پر پہنچ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا شجرہ نسب ایک ہو جاتا ہے۔
آپ کی والدہ کا نام سلمہ بنت صخر تھا جو”ام الخیر ” کی کنیت سے جانی جاتی تھیں۔ آپ کا تعلق قریش کی شاخ بنو تیم سے تھا۔
آپ نے چار نکاح کیے تھے۔ دو اسلام سے قبل اور دو اسلام کے بعد۔ پہلی بیوی کا نام قُتیلہ بنت عبدالعُزیٰ، دوسری کا نام اُمّ رمان، تیسری کا اسماء بنت عُمَیس اور چوتھی بیوی کا نام حبیبہ بنت خارجہ تھا۔ اسماء بنت عمیس حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کی بیوہ تھیں۔
پہلی بیوی سے عبداللہ اور اسماء پیدا ہوئے، دوسری سے عبدالرحمن اور عائشہ صدیقہ ؓ ، تیسری سے محمد بن ابی بکر پیدا ہوئے۔ چوتھی بیوی سے اولاد ہونا مذکور نہیں۔
چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو امام الانبیاء، سرورِ کائنات، حضور نبی کریم ﷺ کا خلیفہ و جانشین بنانا تھا، اس لیے بچپن سے ہی آپ پاکباز، سچے، عادل اور خوش اخلاق تھے۔ آپ مکہ مکرمہ کے شرفا میں سے تھے اور لوگوں کے آپسی معاملات اور جھگڑوں کے فیصلے کیا کرتے تھے۔ آپ کا شمار عربوں کے حسب و نسب کے بڑے علماء میں ہوتا تھا۔ آپ کا پیشہ تجارت تھا جس کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ دور دراز کے علاقوں تک آپ کے تعلقات تھے۔
نبی کریم ﷺ سے آپ کی دوستی نبوت ملنے سے بہت پہلے کی تھی۔ جب نبی کریم ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو مردوں میں سب سے پہلے آپ نے اسلام قبول کیا۔ آپ ہمیشہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کی ہر مہم میں آپ پیش پیش رہے۔ آپ نے مال، آل و اولاد اور اپنی جان سے نبی کریم ﷺ اور اسلام کی خدمت کی۔ ہجرت میں نبی کریم ﷺ نے صرف آپ کو اپنا ساتھی بنایا۔ آپ غار ثور میں نبی کریم ﷺ کے چوکیدار رہے، بدر و احد کی لڑائیوں میں آپ ﷺ کے محافظ بنے۔ اپنی لاڈلی بیٹی عائشہ صدیقہ ؓ آپ ﷺ کے نکاح میں دی اور نبی کریم ﷺ کے آخری ایام میں، حضور ﷺ کے حکم سے آپ نے ہی صحابہ کرام کی نمازوں کی مصلیٰ رسول ﷺ پر کھڑے ہوکر امامت کی۔
نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد جب آپ مسلمانوں کے خلیفہ بنے تو آپ کی عمر مبارک ساٹھ سال تھی۔ زندگی میں تو آپ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ساتھ رہے ہی تھے مگر وفات کے بعد بھی آپ روضہ مبارک میں نبی کریم ﷺ کے قدموں میں آرام فرما ہیں اور قیامت کے دن حضور سرکار دو عالم ﷺ کے قدموں سے ہی اٹھیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اب آگے پڑھیے!
صبح صبح کے وقت اک گھڑ سوار تیزی سے مدینہ منورہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جب وہ شہر کے قریب پہنچا تو رستے میں حضرت عمرفاروق ؓ اسے نظر آئے۔ وہ آپ کو دیکھ کر فوراً رک گیا۔ گھوڑے سے اتر کر پیدل آپ کی طرف چلا اور آپ کو سلام کیا۔ سیدنا عمرفاروق ؓ اس سے گلے ملے اور پوچھا:
“اے ابنِ عامر! ملک شام سے چلے ہوئے کتنے دن ہوئے؟”
عقبہ بن عامر الجہنی ؓ نے کہا:
“حضرت! پچھلے جمعہ کو روانہ ہوا تھا اور آج بھی جمعہ ہے۔”
آپ نے پوچھا:
“ابنِ عامر! تم نے سنت پر عمل کیا ہے۔ بتاؤ شام کی کیا خبر ہے؟”
ابنِ عامر بولے:
“حضرت! بہت مبارک خبر ہے مگر میں اسے تفصیل کے ساتھ امیر المومنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچ کر سناؤں گا۔”
آپ نے فرمایا:
“ابنِ عامر! واللہ! حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس حالت میں دنیا سے تشریف لے گئے ہیں کہ ہر چھوٹا بڑا ان کی تعریف کیا کرتا تھا۔ وہ خلافت کا بوجھ میرے ناتواں کاندھوں پر ڈال کر خود ربِ کریم کے پاس پہنچ گئے ہیں۔”
اے عامر!
“اگر میں نے اس کام کو عدل و انصاف کے ساتھ انجام نہ دیا تو مجھے ہلاک و برباد ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔”
حضرت عقبہ بن عامر ؓ اس افسوس ناک خبر کو سن کر رونے لگے۔ آپ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے دعائے مغفرت کی۔ اس کے بعد فتح دمشق کی خبر جس خط میں تحریر تھی وہ آپ کے حوالے کیا۔ حضرت عمرفاروق ؓ نے وہ خط خاموشی کے ساتھ پڑھا، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور پھر تہہ کرکے اپنے پاس رکھ لیا۔ جب جمعہ کا وقت ہوا اور لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے سب کے سامنے وہ خط پڑھ کر سنایا۔ فتح دمشق کی خبر سن کر لوگوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور نبی کریم ﷺ پر درود شریف پڑھا۔
جمعہ کے بعد آپ نے اس خط کا جواب تحریر کیا۔ اس خط میں آپ نے مسلمانوں کو مخلتف ہدایات دیں اور حضرت خالد بن ولید ؓ کی جگہ حضرت امین الامۃ ابو عبیدہ ابن الجراح ؓ کو شام میں موجود افواجِ اسلام کی کمانڈ اور دیگر سیاسی و انتظامی امور کی سربراہی اپنے ہاتھ میں لینے کا حکم دیا۔
حضرت عقبہ بن عامر الجہنی ؓ فرماتے ہیں میں جس وقت یہ جوابی خط لے کر دمشق پہنچا اس وقت حضرت خالد بن ولید ؓ اپنے لشکر کو لے کر توما اور ہربیس کے تعاقب میں گئے ہوئے تھے۔ حضرت امین الامۃ ؓ نے وہ خط چپکے چپکے پڑھا اور اپنے پاس رکھ لیا۔ آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات اور حضرت خالد بن ولید ؓ کی معزولی کا کسی سے بھی ذکر نہیں کیا۔ چونکہ مسلمان اس وقت جنگی معاملات میں مصروف تھے، اس لیے آپ نے مناسب نہیں سمجھا کہ یہ افسوسناک خبر مسلمانوں کو سنائی جائے۔ یہاں تک کہ حضرت خالد بن ولید ؓ اپنے لشکر کے ساتھ باحفاظت واپس دمشق پہنچ گئے اور اس کارروائی کی تمام تفصیلات خط میں درج کرکے عبداللہ بن قرط کے ہاتھ دربار خلافت روانہ کردی۔ چونکہ حضرت خالد بن ولید ؓ کو اپنی معزولی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کا علم نہیں تھا، اس لیے آپ نے خط کے اوپر یہی لکھا:
“یہ خط حاکمِ شام، رسول اللہ ﷺ کے غلام، خالد بن ولید المخزومی کی طرف سے امیر المومنین، خلیفۃ الرسول ﷺ ، عبداللہ عتیق، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نام۔”
عبداللہ بن قرط جب مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں مسندِ خلافت پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جگہ حضرت عمرفاروق ؓ کو رونق افروز دیکھا۔ چنانچہ عبداللہ بن قرط نے حضرت خالد بن ولید ؓ کا خط سیدنا عمرفاروق ؓ کی خدمت میں پیش کردیا۔ جب آپ نے خط کھول کر پڑھنا شروع کیا تو آپ کے چہرے کے تاثرات بدلے۔ آپ نے عبداللہ بن قرط سے فرمایا:
“عبداللہ! کیا لوگوں کو ابھی تک علم نہیں ہوا اور وہ میرا خط نہیں ملا جس میں لکھا تھا کہ خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وفات پاچکے ہیں اور میں نے خالد بن ولید ؓ کی جگہ امین الامۃ ؓ کو وہاں کا عسکری و انتظامی سربراہ مقرر کیا ہے؟”
عبداللہ بن قرط نے کہا:
“نہیں امیر المؤمنین! ہمیں تو ابھی تک ایسی کسی بات کا علم نہیں ہے۔”
(بعض تواریخ میں لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات اور حضرت خالد بن ولید ؓ کی معزولی یرموک کی پہلی لڑائی کے دوران ہوئی۔ اسی طرح دمشق کی فتح بھی یرموک کے بعد ہوئی۔ واللہ اعلم)
آپ کو یہ بات ناگوار گزری کہ ابھی تک مسلمانوں کو اس معاملے سے لاعلم رکھا ہوا ہے۔ پھر آپ نے مدینہ منورہ میں لوگوں کو جمع ہونے کا حکم دیا۔ جب سب جمع ہوگئے تو آپ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کی توما کے خلاف کارروائی اور بے پناہ مالِ غنیمت ملنے کی خوشخبری سنائی۔ لوگوں نے یہ خبر سن کر اللہ کا نام بلند کیا۔ پھر آپ نے تمام مسلمانوں، خصوصاً شام کے مسلمانوں کے لیے دعائے خیر فرمائی۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا:
“لوگو! میں نے ملکِ شام میں عسکری و انتظامی سربراہ امین الامۃ ؓ کو مقرر کیا ہے۔ کیوں کہ میں خالد بن ولید ؓ کی بنسبت ابو عبیدہ ابن الجراح ؓ کو وہاں کے معاملات سنبھالنے میں زیادہ بہتر سمجھتا ہوں۔ ابو عبیدہ ابن الجراح ؓ کو نبی کریم ﷺ نے اس امت کا امین فرمایا ہے۔ حضرت خالد بن ولید ؓ کا توما کے لشکر کا تعاقب کرنا میرے نزدیک مسلمانوں کو بلا وجہ مشکلات میں ڈالنے والی بات تھی۔ پھر ہرقل کی بیٹی کو فدیہ کے بغیر رہا کرنا بھی مناسب نہیں تھا۔ اس سے فدیہ طلب کیا جاتا، اس فدیہ کی رقم سے بہت سے کمزور مسلمانوں کی ضروریات پوری ہوسکتی تھیں۔ ان کی بنسبت ابو عبیدہ ابن الجراح ؓ ہر معاملے کو بہت ناپ تول کر پورا کرنے والے ہیں۔”
(واللہ اعلم)
واقدی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں:
خلیفہ ثانی، امیر المومنین حضرت عمرفاروق ؓ کی یہ تقریر سن کر بنی مخزوم کا ایک کم سن لڑکا کھڑا ہوا اور اس نے آپ کے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔ اس نے کہا:
“آپ کو معلوم ہے کہ حضرت خالد بن ولید ؓ کو نبی کریم ﷺ نے اللہ کی تلوار فرمایا تھا۔ بہت سے لوگوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی خالد بن ولید ؓ کو ہٹانے کے لیے کہا تھا مگر آپ نے فرمایا تھا میں اللہ کی تلوار کو کبھی میان میں نہیں کروں گا۔ آپ نے خدا کی تلوار کو میان میں کردیا ہے۔ آپ نے اپنے عزیز کو ہٹا کر رشتے کی پاسداری نہیں کی۔”
آپ نے اس نوجوان کی جذباتی تقریر سن کر فرمایا:
“جوان اپنے چچازاد بھائی کی حمایت میں غصہ ہوگیا ہے۔”
اس کے بعد آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔
واقدی رحمہ اللہ کہتے ہیں آپ نے اس نوجوان کی تقریر کے بعد اپنے فیصلے پر مزید غور و فکر کرنے کے لیے وہ خط تکیہ کے پاس رکھ لیا۔ ساری رات آپ اس معاملے میں غور و خوض فرماتے رہے۔ اگلے دن آپ نے لوگوں کے سامنے اپنے پرانے فیصلے کو ہی برقرار رکھنے کے متعلق بتا دیا۔ پھر آپ نے ایک نیا خط تحریر کیا. اس میں حضرت خالد بن ولید ؓ کی کمان سے معزولی اور حضرت امین الامۃ ؓ کو تمام معاملات کو سنبھالنے کا حکم دیا۔”
پھر آپ نے حضرت عامر بن ابی وقاص بلا کر خط ان کے حوالے کرکے فرمایا:
“تم یہ خط لے کر خالد بن ولید ؓ کی طرف جاؤ، میری طرف سے ان کو حکم دینا کہ وہ تمام مسلمانوں کو جمع کریں۔ جب وہ جمع ہو جائیں تو یہ خط تم خود پڑھ کر سب کو سنانا۔”
اس کے بعد آپ نے شداد بن اوس ؓ کو بلا کر سلام کیا اور ان سے فرمایا:
“تم عامر کے ساتھ شام جاؤ، جس وقت یہ خط پڑھ کر سنادیں تو تم لوگوں سے میری طرف سے بیعت لینا۔”
آپ کے فرمان کے مطابق یہ دونوں حضرات اسی وقت شام روانہ ہوگئے۔
۔۔۔۔۔۔
شام کے مسلمان بے چینی سے دربار خلافت کے قاصد کا انتظار کر رہے تھے کہ دیکھیے وہ خلیفہ اوّل کی طرف سے کیا پیغام لاتے ہیں۔
عامر بن ابی وقاص کہتے ہیں ہم نے شام پہنچنے میں بہت جلدی کی۔ جب ہم دمشق کے قریب پہنچے تو شامی مسلمان گردنیں اٹھا اٹھا کر ہمیں دیکھ رہے تھے۔
یہ حضرات جب حضرت خالد بن ولید ؓ کے پاس پہنچے تو انھوں نے سلام و دعا کے بعد پوچھا:
“سنائیں خلیفۃ الرسول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کیا حال ہے؟”
انھوں نے کہا:
“امیر المؤمنین حضرت عمرفاروق ؓ خیریت سے ہیں، آپ سب لوگوں کو جمع ہونے کا حکم دیجیے۔”
جب حضرت خالد بن ولید ؓ نے یہ جواب سنا تو آپ کا ماتھا ٹھنکا۔ آپ کو دربار خلافت میں کسی گڑبڑ کا شبہ پیدا ہوا۔ پھر آپ نے سب مسلمانوں کو جمع ہونے کا حکم دیا۔ سب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت عامر بن ابی وقاص نے وہ خط کھول کر سنانا شروع کیا۔ جب انھوں نے یہ خبر سنائی کہ امیر المومنین ، خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وفات پاچکے ہیں تو سب مسلمان اس خبر سے سکتے میں آگئے۔ کچھ ہی دیر بعد مجمع اس افسوسناک خبر کی وجہ سے دھاڑے مار کر رونے لگا۔
حضرت خالد بن ولید ؓ نے روتے ہوئے فرمایا:
“مجھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت دنیا میں سب سے زیادہ محبوب تھی۔ مگر وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں پہنچ گئے ہیں۔ اب مسند خلافت پر سیدنا عمرفاروق ؓ جیسی عظیم شخصیت جلوہ افروز ہوئی ہے۔ مجھے خلیفہ ثانی، امیر المومنین سیّدنا عمرفاروق ؓ کے تمام احکامات دل و جان سے بخوشی قبول ہیں۔ میں اپنی جان و مال اللہ کے نام کرچکا ہوں۔ مسلمانوں کا امیر چاہے کوئی بھی بنے، میں اس کے ماتحت رہ کر خدا تعالیٰ کی راہ میں پہلے کی طرح لڑتا رہوں گا۔
ان شاء اللّٰه
آپ کے ان الفاظ و خیالات سے سب مسلمان بہت زیادہ متاثر ہوئے۔
اس کے بعد امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ کے احکامات کے مطابق شام کے عسکری و انتظامی معاملات کی سربراہی حضرت امین الامۃ ؓ نے سنبھال لی۔
علامہ اقبال رحمہ اللّٰہ نے اِنھی حضرات کی شان میں کہا تھا:
خودکشی شیوہ تمھارا، وہ غیور و خوددار
تم اخوت سے گریزاں ، وہ اخوت پہ نثار
تم ہو گفتار سراپا ، وہ سراپا کردار
تم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بہ کنار
اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کی
نقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کی
(جاری ہے)
ماخوذ از فتوح الشام للواقدی اُردو ترجمہ
تسہیل و تلخیص: محمد عثمان انصاری
۔۔۔۔۔۔۔
قارئین کرام!
آج یکم جنوری دو ہزار چھبیس (1-1-2026) کو، چھوٹی بڑی اٹھائیس اقساط کے میں دورِ صدیقی کے اندر شام میں ہونے والی فتوحات کا تذکرہ مکمل ہوا۔
الحمدللہ ثم الحمدللہ۔
اب آگے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ہونے والی فتوحات کا تذکرہ ہوگا۔
ان شاء اللّٰه
#فتوحات_شام (قسط نمبر 28)
![]()

