کھرے کھوٹے کو الگ کر دیا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ہم اَللّٰه کو اپنا الہ مانتے تو ہیں لیکن اَللّٰه ہی کافی ہے یہ نہیں مانتے ہیں جس وجہ سے ہم اَللّٰه کی یکتائی اور اس کے قادر مطلق ہونے پر مکمل یقین رکھنے کے بجائے ساتھ میں دوسرے اسباب کو شریک کرکے ان کو اَللّٰه کے ہاں سفارشی مانتے ہوئے اَللّٰه کی الوہیت اور واحدانیت کو پابند سمجھنے لگتے ہیں یہ ہی خرابی ہم سے پہلی امتوں کی تھی جس کا وہ شکار ہو کر انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی ماننے سے انکار کر دیتے تھے قوم حضرت نوح کا واقعہ سامنے رکھ لیں کہ کیسے وہ اَللّٰه کے برگزیدہ بندوں کو اَللّٰه کا شریک بنانے لگ گئے وہ جن بتوں کی پرستش کرتے تھے وہ کون تھے
یہ پانچ بزرگ تھے, جن کے نام پر بت بناۓ گئے تھے اور ان کے نام یہ ہیں۔۔۔ 1- ود 2- سواع 3- یغوث 4- یعوق 5- نسر یہ کون تھے..؟
یہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ کے نیک اور صالح انسان تھے
اور وہ اپنی نسلوں کو ان بتوں کو نا چھوڑنے کی نصیحت کرتے تھے
ابنِ جریر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ محمد بن قیس سے روایت کی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام کے درمیان کچھ نیک لوگ تھے اور ان کے پیروکار ان کی اقتداء کرتے تھے، جب وہ نیک لوگ فوت ہو گئے تو ان کے پیروکاروں نے کہا:
کہ اگر ہم ان کی تصویریں بنائیں، تو اس سے ہماری عبادت میں زیادہ ذوق و شوق ہوگا، سو انہوں نے ان نیک لوگوں کی تصویریں بنادیں، جب وہ فوت ہوگئے اور ان کی دوسری نسل آئی تو ابلیس ملعون نے ان کے دل میں یہ خیال ڈالاکہ ان کے آباء تصویروں کی عبادت کرتے تھے اور اسی سبب سے ان پر بارش ہوئی، سو انہوں نے ان تصویروں کی عبادت کرنا شروع کر دی۔
وَد، یغوث، یعوق، سر غ، نسر، ود تمام نیک تھے، امام ابنِ حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے اِمام باقر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی کہ وَد ایک نیک شخص تھا اور وہ اپنی قوم میں بہت محبوب تھا، جب وہ فوت ہو گیا تو اس کی قوم کے لوگ بابل کی سر زمین میں اس کی قبر کے اردگرد بیٹھ کر روتے رہے، جب ابلیس نے ان کی آہ وبکا دیکھی تو وہ ایک انسان کی صورت میں متمثل ہو کر آیا اور کہنے لگا:”میں نے تمہارے رونے کو دیکھا ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تمہارے لئے بُت کی ایک تصویر بنا دوں، تم اپنی مجلس میں اس تصویر کو دیکھ کر اسے یاد کیا کرو تو انہوں نے اس سے اتفاق کیا تو اس نے بُت کی تصویر بنا دی، جس کو وہ اپنی مجلسوں میں رکھ کر اس کا ذکر کیا کرتے، جب ابلیس نے یہ منظر دیکھا تو کہا:میں تم میں سے ہر ایک کے گھر بُت کا ایک مجسمہ بنا کر رکھ دوں، تا کہ تم میں سے ہر شخص اپنے گھر میں بُت کا ذکر کیا کرے، اُنہوں نے اس بات کو بھی مان لیا، پھر ہر گھر میں وَد کا ایک بُت بنا کر رکھ دیا گیا، پھر ان کی اولاد بھی یہی کچھ کرنے لگی، پھر اس کے بعد ان کی جو بھی نسلیں آئیں، تو وہ بھول گئیں کہ وَد ایک انسان تھا، وہ اس کو خدا مان کر اس کی عبادت کرنے لگیں، پھر انہوں نے اللہ تعالی کو چھوڑ کر اس بُت کی پرستش شروع کر دی، پس اللہ پاک کو چھوڑ کر جس بُت کی سب سے پہلے پرستش شروع کی گئی، وہ وَد نام کا بُت تھا
اللہ تعالی نے سورہ نوح میں ان کے نام ذکر کئے ہیں کہ
وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا ﳔ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًا ۚ۔
اور کہتے رہے کہ تم اپنے معبودوں کو مت چھوڑنا اور وَدّ اور سُوَاع اور یَغُوث اور یَعُوق اور نسر (نامی بتوں) کو (بھی) ہرگز نہ چھوڑنا۔”
ہم مسبب الاسباب اَللّٰه کو چھوڑ کر اسباب یعنی مکڑی کے جالے سے بھی کمزور دنیاوی سہاروں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور پھر وہ ہی سہارے ہمارے بت بن جاتے ہیں اور پھر وہاں سے بت پرستش اور اَللّٰه کے ساتھ شرک کا سفر شروع کر دیتے ہیں
ہمیں چاہیے کہ ہم اَللّٰه کی واحدانیت اور یکتا ہونے پر مکمل یقین اور ایمان رکھنا چاہیے اور اَللّٰه ہی ہمارے لیے قادر مطلق اور کافی ہے اس ایمان کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے نبی کریم محمدﷺ کے ذریعے جو قرآن و احادیث کی روشنی میں دین اسلام ہم تک پہنچا اس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا چاہیے جیسے جیسے ہمارے نبی محمدﷺ ہمارے لیے تعلیم فرما گئے اس پر عمل کرتے ہوئے اَللّٰه کے مومن بندوں اور بندیوں میں شامل ہونے کی کوشش میں لگ جائیں توبہ کا دروازہ کب بند ہو جائے قبل از کہ بہت دیر ہو جائے اَللّٰه کی طرف رجوع کر لیں اور قرآن و سنت سے ہٹ کر کوئی راستہ نہیں ہے اگر کوئی شخص آپ کو کہے کہ قرآن مجید کو پڑھنے میں یا ترجمہ اور تفسیر یا مفہوم پر اپنی منطق پیش کرے سمجھ جائیں وہ شخص باطل ہے آپ ﷽ پڑھ کر قرآن مجید کو پڑھنا شروع کر دیں کسی بھی مسلک یا فرقہ کا قرآن کا ترجمہ پڑھ لیں جہاں جو بات سمجھ نا آئے اس ایک ترجمہ یا مسلک یا فرقہ پر اکتفاء مت کریں ہمارے بزرگانِ دین تو ایک ایک حدیث کے لیے ہزاروں میل سفر طے کرکے جایا کرتے تھے آپ بھی تمام علماء اکرام اور صحاحِ ستہ سے علم حاصل کریں بہترین تو یہ ہے کہ عربی گرائمر پر عبور حاصل کریں میں نصیحت کروں گی ان بچوں اور بچیوں کو جو ابھی تک تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہیں وہ باقاعدہ عربی گرائمر اور علم و القرآن کی تعلیم حاصل کریں ہر آیت اور سورت کا باقاعدہ ایک پس منظر ہے جو آپ کو صحاحِ ستہ کی احادیث مبارکہ میں تفصیلاً بیان کے ساتھ پڑھنے کو مل جائے گا
نوٹ! دین اسلام اور تصوف کے نام پر رافضیت اور ناصبیت کے پلندے اور کچھ من گھڑت سلاسلِ طریقت اور نت نئی فرقہ واریت سے سامنا ہوگا آپ نے گھبرانا نہیں ہے حق اور باطل کی پہچان کرنا ہوگی یعنی جو طریقہ میرے نبی محمدﷺ سے ثابت نہیں بتانے والا ہوا میں اڑ کر یا پانی پر چل کر بھی بتائے تو ہرگز یقین مت کرنا ہر وہ جماعت سلسلہ یا فرقہ باطل ہوگا جس کا طریق میرے نبی محمدﷺ سے ثابت نا ہو قرآن و سنت سے باہر ہرگز نہیں نکلنا ورنہ گمراہ ہونے کا خدشہ بڑھ جائے گا
کیونکہ میرے نبی کریم محمدﷺ کا خطبہ حجتہ الوداع بہت اعلٰی ترین statement ہے جس کی تفصیل ہر مسلمان پر حجت ہے کہ وہ ضرور پڑھے اور اسے دوسروں تک پہنچانے میں بخیل ہرگز نا ہو
میرے پیارے نبی کریم محمدﷺ فرماتے ہیں جو ہر اس باطل عقیدہ کے لیے جواب ہے جو آئے دن اپنی من گھڑت رسوم اور توہمات و بدعات کو فروغ دے کر اسے دین اسلام کا حصہ سمجھتا ہے
ایسے ہر اس شخص کے لیے جواب من جانب اَللّٰهُﷻ بذریعہ وحی نبی کریم محمدﷺ پر یہ آیات نازل ہوئیں!
اَلْیَومَ أکملتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیْتُ لَکُم الاسلامَ دِیْنًا آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا، تم پر اپنی نعمت مکمل کردی اور دین اسلام پر اپنی رضامندی کی مہر لگادی
آخر میں فرمایا: ﴿وَاَنْتُمْ تُسْألُون عَنِّی فَمَا أنْتُم قَائِلُون﴾ ترجمہ: ایک دن اللہ تعالیٰ تم لوگوں سے میرے متعلق گواہی طلب کریں گے،
تم اس وقت کیا جواب دوگے؟
اس پر مجمع عام سے پرجوش صدائیں بلند ہوئیں:
”انَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ، وَاَدَّیْتَ، وَنَصَحْتَ“ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ نے سب احکام پہنچا دئیے، آپ نے فرضِ رسالت ادا کردیا،
آپ نے کھرے کھوٹے کو الگ کردیا۔
اس وقت حضور سرور عالم ﷺ کی انگشتِ شہادت آسمان کی طرف اٹھی، ایک دفعہ آسمان کی طرف انگلی اٹھاتے تھے اور دوسری دفعہ مجمع کی طرف اشارہ کرتے تھے اور کہتے جاتے تھے ”اللّٰھُمَّ أشْھَدْ، اللّٰھُمَّ أشْھَدْ، اللّٰھُمَّ أشْھَدْ“ اے اللہ خلق خدا کی گواہی سن لے، اے اللہ خلق خدا کا اعتراف سن لے، اے اللہ گواہ ہوجا۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا:
”جو لوگ حاضر ہیں، وہ ان لوگوں تک جو یہاں موجود نہیں ہیں، میری ہدایات پہنچاتے چلے جائیں؛ ممکن ہے کہ آج کے بعض سامعین سے زیادہ پیام تبلیغ کے سننے والے اس کلام کی محافظت کریں“
درویش ✍️
📿🫀❤️🩹
اسْتَغْفِرُالله الَّذِىْ لآَ اِلَهَ اِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّوْمُ وَاَ تُوْبُ اِلَيْهِ
![]()

