کہانی کا سبق
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )شام کا وقت تھا اور ایک بوڑھا آدمی اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا کھلونا تھا جو بہت زیادہ استعمال ہونے کی وجہ سے ٹوٹا پھوٹا ہو چکا تھا لیکن پھر بھی اسے سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی اور وہ کھلونے کو دیکھتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔
اس کی پوتی اندر آئی اور اس نے کہا: “دادا جان! آپ پھر اس پرانے کھلونے کو دیکھ رہے ہو؟ یہ تو بہت پرانا ہو چکا ہے۔ میں آپ کو نیا کھلونا لا دوں؟”
بوڑھے نے کہا: “نہیں بیٹا! یہ کوئی عام کھلونا نہیں ہے۔ یہ میرے بچپن کی یاد ہے۔”
بوڑھے نے پوتی کو بتایا کہ جب وہ چھوٹا تھا تو اس کے والد بہت غریب تھے۔ ایک سال عید کے موقع پر اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے کوئی اچھا کھلونا خرید سکے۔ اس نے ایک پرانے لکڑی کے ٹکڑے کو خود تراش کر اس کے لیے ایک کھلونا بنایا۔
“یہ وہی کھلونا ہے۔” بوڑھے نے کہا۔ “میرے باپ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔ اس میں مہنگائی نہیں تھی، لیکن اس میں محبت تھی۔”
پوتی نے پوچھا: “لیکن دادا جان! یہ تو ٹوٹا پھوٹا ہے۔ اس سے کھیلا بھی نہیں جا سکتا۔”
بوڑھے نے کہا: “یہ کھیلنے کے لیے نہیں ہے بیٹا۔ یہ یاد رکھنے کے لیے ہے۔”
بوڑھے نے بتایا کہ اس کے والد نے یہ کھلونا اسے اس لیے دیا تھا تاکہ وہ کبھی محبت کی قدر کرنا نہ بھولے۔ اس نے کہا: “آج کل کے بچے مہنگے کھلونے خریدتے ہیں، انہیں کھیلتے ہیں اور پھر پھینک دیتے ہیں۔ لیکن وہ کھلونوں کی قدر نہیں کرتے۔ یہ کھلونا ٹوٹا ہوا ہے، لیکن اس کی قدر مجھے آج بھی ہے۔”
پوتی نے کھلونے کو ہاتھ میں لیا اور اسے دیکھا۔ اس نے محسوس کیا کہ واقعی اس میں کوئی خاص بات نہیں تھی، لیکن اس کے دادا کی آنکھوں میں اسے دیکھ کر جو چمک آتی تھی، وہ اسے سمجھ آ گئی۔
بوڑھے نے کہا: “بیٹا! یاد رکھنا، سب سے قیمتی چیزیں وہ نہیں ہوتیں جو سب سے مہنگی ہوتی ہیں۔ سب سے قیمتی چیزیں وہ ہوتی ہیں جو دل سے جڑی ہوتی ہیں۔”
پوتی نے اسے گلے لگا لیا۔
کہانی کا سبق
یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ مادی اشیاء کی قدر ان کی قیمت سے نہیں، ان سے وابستہ جذبات سے ہوتی ہے۔ ایک ٹوٹا ہوا پرانا کھلونا بھی کسی کے لیے دنیا کی سب سے قیمتی چیز ہو سکتا ہے اگر اس کے ساتھ کوئی یاد وابستہ ہو۔
یہ کہانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے بزرگوں کی بات سننی چاہیے اور ان کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ بوڑھے آدمی نے اپنی پوتی کو یہ سبق دیا کہ چیزوں کی اصل قدر ان کی قیمت میں نہیں، ان سے وابستہ جذبات میں ہوتی ہے۔
کہانی کا حوالہ
یہ کہانی انتظار حسین (Intizar Hussain) نے لکھی تھی۔ انتظار حسین اردو ادب کے اہم ترین افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں میں سے ہیں۔ انہوں نے تقسیمِ ہند کے پس منظر میں کئی یادگار کہانیاں لکھیں۔
یہ کہانی پاکستان کی انٹرمیڈیٹ کی انگریزی کی کتاب کا بھی حصہ رہی ہے۔
![]()

