Daily Roshni News

کہا جاتا ہے کہ کمال اتاترک نے ترکی کی تاریخ کا ایک ایسا رخ بدلا جس پر آج تک بحث ہوتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کمال اتاترک نے ترکی کی تاریخ کا ایک ایسا رخ بدلا جس پر آج تک بحث ہوتی ہے۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )1924ء میں خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا، اور چند ہی برس بعد 1926ء میں اسلامی شریعت کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا۔

قوانین میں مغربی طرز اپنایا گیا،

یہاں تک کہ وراثت میں مرد و عورت کو برابر قرار دیا گیا۔

حج اور عمرہ کی ادائیگی پر پابندیاں لگیں، اسکولوں سے عربی زبان ہٹا دی گئی، اور مساجد میں اذان تک ترک زبان میں دی جانے لگی۔

حجاب پر قدغنیں لگائی گئیں، اسلامی تہوار—عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ—سرکاری سطح پر ختم کر دیے گئے، اور جمعہ کے بجائے اتوار کو ہفتہ وار تعطیل قرار دیا گیا۔

ترکی زبان سے عربی رسم الخط ختم کر کے لاطینی حروف نافذ کیے گئے، اور سرکاری حلف میں اللہ کے نام کے بجائے “عزت” اور “شرف” کا حوالہ شامل کیا گیا۔

یہ بھی روایت ہے کہ جن علما اور فقہا نے اس راستے کی مخالفت کی، ان میں سے سینکڑوں کو سزائیں دی گئیں۔

اپنے نام سے “مصطفیٰ” ہٹا دیا گیا، اور وصیت کی گئی کہ وفات کے بعد اسلامی طریقے سے نمازِ جنازہ ادا نہ کی جائے۔

1923ء میں ترک پارلیمنٹ کے سامنے ایک بیان بھی منسوب کیا جاتا ہے کہ:

“ہم بیسویں صدی اور صنعت کے دور میں داخل ہو چکے ہیں، ہم ایسے کتاب کے ساتھ نہیں چل سکتے جو انجیر اور زیتون کی بات کرے۔”

(اشارہ قرآنِ کریم کی طرف سمجھا جاتا ہے)

پھر کہا جاتا ہے کہ اسے ایک موذی بیماری لاحق ہوئی، اور بعد ازاں قدرت کے فیصلے نے اُسے آ لیا۔ روایت کے مطابق، اس بیماری کا علاج کچھ عرصہ بعد دریافت ہوا—اور وہ بھی انجیر کے درخت کی چھال سے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿فَأَهْلَكْنَا أَشَدَّ مِنْهُم بَطْشًا وَمَضَىٰ مَثَلُ الْأَوَّلِينَ﴾

“تو ہم نے ان سے بھی زیادہ طاقتور لوگوں کو ہلاک کر دیا، اور پہلے لوگوں کی مثال گزر چکی۔”

صدق اللہ العظیم

کاپی پیسٹ

Loading