Daily Roshni News

کیا آپ تہنا ہیں ۔۔ 

کیا آپ تہنا ہیں ۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سوال : تنہائی انسان کی اپنی کیفیت ہے کہ باہر سے کوئی محرکات ہوتی ہیں ۔۔؟

جواب: باہر سے ہے تب بھی اپنی ہے اندر سے ہے تب بھی اپنی ہے ۔تو اندر تو کسی نے آنا نہیں ہے ۔تنہائی دور کرنے کیلئے ……”تنہائی خیال کا نام “ہے ۔

اگر قبول نہ کرو کسی کو تو تنہائی ہی تنہائی ہے ۔اور دور رہنے والے کو اجنبی نہیں کہتے ، اور مسکرا کے ملنے کو دوستئ نہیں کہتے ۔

تنہائی خیال کا نام ہے اگر تنہائی میں کوئی اور اجمال شامل ہو جائے تو تنہائی ختم ہو جائے گی ۔

بزرگ کہتے ہیں ، یہ جو میلہ نا میلہ اس میں ہر انسان اکیلا ہے جب تک کوئی آپ کا شریک نہ ہو ، جب تک آپکا کوئی ساتھی نہ ہو جب تک کوئی آپ کے خیال پہ سوار نہ ہو تنہائی ہی تنہائی ہے ۔

یہ جو تنہائی ہے نا یہ اپنا ہی نام ہے تنہائی کا علاج کبھی نہ مانگنا کہ کسی کو فون کرو کہ آپ آ جاؤ ، نہ نہ بیڑا غرق ہو جائے گا تمھارا ۔کیونکہ اگر وہ آ بھی گیا تو آپ کی تنہائی دور نہیں ہو گی ۔ تو تنہائی کیا ہے ….؟؟”کسی کی تنہائی دور کرو “۔

تنہائی جسم کا نام نہیں ہے یہ روح کی تنہائی ہے Wilderness روح کی ویرانی ہے ۔

آپ نے اسلام کو بلکل سمجھا نہیں ہے اسلام جہاں کھڑا ہے جہاں  پر ہم کھڑے ہیں، اسی سفر کے دوران ۔ اور اسی کا جو محرک جذبہ ہے وہ چودہ سو سال پہلے کا ہے ۔

پھر تنہائی کدھر جائے گی تنہائی کہاں سے جائے گی ۔

اس نے تو تنہائی کے اندر پہلے ہی محفل لگائی ہوئی ہے کیونکہ کلمہ آپ وہاں سے لے رہے ہیں اور بیٹھے یہاں پر ہیں تو تنہائی تو ہے ہی نہیں ۔

یہاں کا ….اس دنیا کا …..ماحول تنہا رہے گا ۔اور دل کا ماحول کبھی تنہا نہیں ہو گا جس دل میں اللہ اور اس کے محبوب پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی یاد ہے ۔

اس آدمی کی یاداشت خراب ہو گئی جس کو مری ہوئی ماں یاد نہ آئی ۔

تو روح کی ویرانی کب یاد آتی ہے ۔۔؟ یعنی یادوں کا ختم ہو جانا تنہائی ہے ۔اب اپنے اندر جھانکئئے  …یہ باہر سے نہیں آتی ۔

جب تم کٹھور ہو جاؤ تو تنہائی آ جاتی ہے ۔کٹھور ہندی کا لفظ ہے جس کے معنی سخت کے ہیں ۔

جب آپ دل کے سخت ہو جاؤ ……مطلب پرست ہو جاؤ ……اللہ نے فرمایا جب میری یاد سے غافل ہو جاؤ گے تو پھر عذاب کی شکل کا نام تنہائی ہے ، تو یہ راز ہے ۔

اللہ نے اور بھی کہا ہے کہ میری یاد سے غافل ہو گئے تو سکون نہیں ملے گا تو سکون نہ ہو تو تنہائی ہوتی ہے ، تو اللہ نے کہا ہے کہ نہیں پاؤ گے سکون مگر اللہ کی یاد میں ۔ تو اللہ کی یاد میں سکون پانے کا مطلب کیا ہے ….؟کہ تنہائی ختم ہو جائے گی ۔

تو تنہائی جو ہے یہ آپ کی روح کی ویرانئ کا نام ہے ۔ یہ باہر سے نہیں آتی یہ اندر سے زنگ لگتا ہے ۔

پھر پاٹنر شپ ختم ہو گئی …..کسی کے شریک ہونے کا غم ختم ہو گیا …..جذبہ ختم ہو گیا یعنی نہ کسی کو شریک پاؤ نہ کسی کے ساتھ شریک رہو …….تو یہ تنہائی ہے ۔یہ باہر سے نہیں اندر سے آتی ہے ۔

آپ کسی محفل میں جا کے بیٹھ جائیں جب آپ نے کسی سے بات نہیں کرنی تو تنہائی اپنے آپ آئے گی ۔

اور اگر کوئی کسی کو یاد کر رہا ہے کہ کسی کا خط آیا ہے اور اس نے خط میں لکھا ہے کہ آپ نے میرے خط کا جواب نہیں دیا ، اور پیار بھرا  خط کہاں سے اس نے لکھا …..؟ اور کہاں پر بیٹھ کے لکھا ….؟ اور آپ کو یاد کر رہا ہے ، تو ایسے میں تنہائی نہیں ہو گی ۔

تو دل کی آبادی جو ہے وہ تنہائی کا علاج ہے …..تو اگر دل ہی ویران ہو جائے تو تنہائی ہو گی ۔دل ویران نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کا ہمیں افسوس ہو گا ۔ کہ ساری عمر گزر گئی اور آپ روحانیت کا علم حاصل کرتے رہے مگر دل میں تنہائی ہے تو تنہائی کیا ہے ….؟ “دل کی ویرانئ ہے “

تنہائی کب نہیں ہے جب “دل کی آبادی ہو “

تنہائی اندر باہر سے نہیں آتی بلکہ  یہ بدقسمتی سے آتی ہے ۔اور اس وقت آتی ہے جب یاد کم ہو جائے اور تنہائی کچھ نہیں ہوتی….. اچھا ۔

صحرا کے جاننے والے جانتے ہیں ، تھل کا علاقہ ہو کہ ریگستان کی رات ہو اور بندہ اکیلا ہو تو بس اس سے زیادہ کوئی تنہائی نہیں ہے ۔تو یہ لگے گی رات ہے بس اس سے بڑی اور رات کوئی نہیں ہے ۔جہاں انسان کو اپنی آواز بھی ڈرا دیتی ہے اور ایسے ہوتا ہے ۔

اپنے دل کو قلبی ذکر سے آباد کریں

قلبی ذکر حاصل کریں روحانی علوم سیکھے اور سیکھائیں اور مراقبہ کرنا سیکھیں اور سیکھائیں واٹس ایپ پر رابط کریں گے 03006361169

گفتگو سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ

Loading