Daily Roshni News

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ “بڑا” ہونے کی کوئی حد بھی ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ “بڑا” ہونے کی کوئی حد بھی ہے؟

ہالینڈ(ڈیلی رو شنی نیوز انٹرنیشنل )ہم سورج کو بڑا سمجھتے ہیں۔ زمین اس کے سامنے ایک نقطہ ہے۔ لیکن کائنات میں ایک ایسی چیز موجود ہے، جس کے سامنے سورج خود ایک ذرۂ غبار جیسا لگتا ہے۔ اتنا چھوٹا کہ شمار میں بھی نہ آئے۔

اس کا نام ہے TON 618۔

یہ کہانی شروع ہوتی ہے 1957 میں، جب ماہرینِ فلکیات نے آسمان کے ایک دور دراز کونے میں ایک روشن نقطہ دیکھا۔ ابتدا میں انہوں نے سوچا شاید یہ کوئی عام ستارہ ہے۔ مگر جب برسوں بعد جدید دوربینوں نے اس کا بغور مطالعہ کیا، تو جو حقیقت سامنے آئی، اس نے سائنسدانوں کے ہوش اڑا دیے۔

یہ ستارہ نہیں تھا۔ یہ ایک “کوازار” تھا — ایک ایسی کہکشاں کا مرکز، جہاں ایک بلیک ہول اتنی تیزی سے مادہ نگل رہا ہے کہ اس کے گرد کا ماحول خود روشنی سے زیادہ چمکدار ہو گیا ہے۔

اور جب سائنسدانوں نے اس بلیک ہول کی کمیت ناپی، تو ان کے ہاتھ سے کیلکولیٹر تقریباً گر گیا۔

TON 618 کی کمیت تقریباً 66 ارب سورجوں کے برابر ہے۔

ذرا رکیے۔ ایک نہیں، دو نہیں — 66 ارب سورج، ایک ہی بلیک ہول میں سما گئے ہیں۔

اگر ہم اپنے پورے نظامِ شمسی کو، سورج سمیت، اس بلیک ہول کے “افقِ واقعہ” (event horizon) کے اندر رکھ دیں، تو وہ اتنی جگہ بھی نہیں گھیرے گا جتنی ایک کمرے میں ایک کھلونا گاڑی گھیرتی ہے۔

اس کا افقِ واقعہ — یعنی وہ حد جہاں سے آگے روشنی بھی واپس نہیں آ سکتی — تقریباً 40 ارب میل چوڑا ہے۔ ہمارے پورے نظامِ شمسی کے قطر سے کئی گنا بڑا۔

یہ اتنا دور ہے کہ اس کی روشنی، جو ہم آج دیکھ رہے ہیں، تقریباً 10 ارب سال پہلے وہاں سے چلی تھی۔ جب آپ TON 618 کی تصویر دیکھتے ہیں، تو آپ حقیقت میں یہ نہیں دیکھ رہے کہ وہ “اب” کیسا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہ کائنات کے بچپن میں کیسا تھا۔

اور یہیں پر ایک عجیب سوال جنم لیتا ہے — سائنسدان اب بھی حتمی طور پر نہیں جانتے کہ اتنے بڑے بلیک ہول اتنی جلدی کیسے بن گئے۔

کائنات کی عمر کے حساب سے، TON 618 کے پاس اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ وہ آہستہ آہستہ، ستارے در ستارے نگل کر اتنا بڑا ہو جائے۔ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے (یہ ابھی نظریہ ہے، ثابت شدہ حقیقت نہیں) کہ شاید ایسے بلیک ہول شروع سے ہی “بڑے” پیدا ہوئے — کسی ستارے کے مرنے سے نہیں، بلکہ کائنات کے ابتدائی، افراتفری بھرے لمحات میں براہِ راست ایک وسیع بادل کے اچانک ڈھے جانے سے۔

یعنی TON 618 شاید کائنات کے کسی ایسے راز کا زندہ ثبوت ہے، جسے ہم ابھی تک پوری طرح سمجھ نہیں پائے۔

جب میں یہ سوچتا ہوں، تو ایک عجیب سی خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔

ہم اپنی زندگی میں چھوٹی چھوٹی چیزوں سے پریشان ہوتے ہیں — آج کا دن کیسا گزرا، کل کیا ہوگا۔ اور کہیں دور، کائنات کے کسی کونے میں، ایک ایسی چیز موجود ہے جس کے سامنے ہماری پوری کہکشاں کا ایک بازو بھی ذرہ برابر ہے۔

شاید عظمت کا اصل مطلب یہی ہے — یہ سمجھنا کہ ہم کتنے چھوٹے ہیں، اور پھر بھی، اتنی وسعت کے باوجود، اوپر دیکھ کر حیران ہو سکنا۔

آپ کے خیال میں، کیا کائنات میں کوئی ایسی حد ہے جہاں “بڑا” ہونا رک جاتا ہے؟ یا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا؟

اگر آپ کو خلاء کی ایسی کہانیاں پسند ہیں جو کہیں اور نہیں ملتیں — تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔

ہر روز ایک نئی حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ 🌌

Loading