Daily Roshni News

کیا جنت کائنات کی سرحد پر ہے؟

کیا جنت کائنات کی سرحد پر ہے؟

سائنس اور اسلام کے تناظر میں ایک سنجیدہ مطالعہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل) انسان ازل سے یہ جاننے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ یہ کائنات کہاں ختم ہوتی ہے اور اس کے پار کیا ہے۔ جدید سائنس نے کائنات کے پھیلاؤ، اس کی سرحدوں اور وقت کی نوعیت پر جو تحقیق کی ہے اس نے نہ صرف فزکس بلکہ انسانی سوچ کو بھی ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسی تناظر میں حالیہ برسوں میں یہ خیال سامنے آیا کہ شاید جنت کائنات کے قابلِ مشاہدہ حصے کی آخری حد پر واقع ہو۔ مگر کیا یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہے؟ اور کیا اسلام اس تصور کی تائید کرتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور ضروری ہے۔

سائنس کے مطابق کائنات کی ایک حد ہے جسے کاسمک ہورائزن یا کائناتی افق کہا جاتا ہے۔ یہ وہ سرحد ہے جہاں کہکشائیں روشنی کی رفتار کے برابر ہم سے دور ہوتی نظر آتی ہیں اور اس سے آگے کا علاقہ ہماری آنکھوں اور آلات دونوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ جدید فلکیات کے مطابق ہم صرف اسی حصے کو دیکھ سکتے ہیں جہاں سے روشنی ہمیں اب تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے پار موجود دنیا ہمارے لیے ہمیشہ نامعلوم رہے گی۔

بعض سائنس دانوں کے مطابق اس حد پر پہنچ کر وقت کا مفہوم بھی بدل جاتا ہے۔ یعنی وہاں ماضی حال اور مستقبل کی وہ ترتیب باقی نہیں رہتی جو ہم زمین پر محسوس کرتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ہارورڈ کے سابق لیکچرار ڈاکٹر مائیکل گیلن نے یہ خیال پیش کیا کہ چونکہ مذہبی روایات میں جنت کو لازوال اور وقت سے آزاد بتایا گیا ہے، اس لیے کاسمک ہورائزن کی بے وقتی کیفیت کو جنت سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ مگر وہ خود بھی واضح کرتے ہیں کہ یہ سائنسی دریافت نہیں بلکہ ایک فکری اور فلسفیانہ تشبیہ ہے۔

یہاں اسلام کا نقطۂ نظر نہایت واضح اور متوازن ہے۔ اسلام کے مطابق جنت کوئی نظری یا علامتی شے نہیں بلکہ اللّٰہ کی ایک حقیقی تخلیق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ جنت کی وسعت ہماری پوری کائنات سے بھی بڑی ہے:

وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ

ترجمہ: اور دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے

سورۃ آل عمران آیت 133

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جنت کو کسی فلکیاتی سرحد یا مادی کائنات کے اندر محدود کرنا درست نہیں۔ جنت اللہ کی تخلیق ہے اور اس کا وجود اس دنیا کے قوانین کا پابند نہیں۔

اسی طرح وقت کے بارے میں قرآن ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ آخرت کا نظام ہمارے دنیاوی وقت سے مختلف ہے:

وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ

ترجمہ: تمہارے رب کے نزدیک ایک دن تمہارے ہزار سال کے برابر ہے

سورۃ الحج آیت 47

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت اللہ کے نظام میں ایک مختلف حقیقت رکھتا ہے مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جنت کسی خاص سائنسی حد پر واقع ہے۔

نبی کریم ﷺ نے جنت کو ایک حقیقی مقام کے طور پر بیان فرمایا اور اس کے درجات بھی واضح کیے:

إِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَعْلَى الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُ الْجَنَّةِ

ترجمہ: جب تم اللہ سے مانگو تو فردوس مانگو کیونکہ وہ جنت کا سب سے بلند اور درمیانی حصہ ہے

صحیح بخاری حدیث نمبر 2790

یہ تعلیم ہمیں جنت کی روحانی حقیقت سے جوڑتی ہے نہ کہ اس کے فلکی محلِ وقوع سے۔

لہٰذا اسلامی نقطۂ نظر سے یہ بات واضح ہے کہ جنت کو کاسمک ہورائزن سے جوڑنا عقیدے کا حصہ نہیں بلکہ ایک فکری تشبیہ ہے جسے زیادہ سے زیادہ ایک سائنسی تخیل کہا جا سکتا ہے۔ اسلام ہمیں جنت پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے، اس کے مقام کی فلکی پیمائش کی نہیں۔

البتہ یہ بات ضرور قابلِ غور ہے کہ جب سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کی ایک ایسی حد ہے جس کے آگے ہمارا علم ختم ہو جاتا ہے تو یہ بات ہمیں اللہ کی قدرت اور علم کی وسعت کا احساس دلاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سائنس انسان کو غرور نہیں بلکہ عاجزی سکھاتی ہے اور یہی عاجزی ایمان کی بنیاد بنتی ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ سائنس کائنات کے رازوں تک ہمیں لے جا سکتی ہے مگر جنت کا راستہ ایمان، عمل صالح اور اللہ کی رضا سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ ٹیلی اسکوپ یا سپیس مشن سے۔

حوالہ جات و مصادر

قرآن مجید

سورۃ آل عمران آیت 133

سورۃ الحج آیت 47

صحیح بخاری حدیث 2790

Stephen Hawking, A Brief History of Time

NASA Cosmology Research

Michael Guillen, Interviews and Lectures on Science and Faith

Encyclopedia Britannica, Cosmic Horizon

Loading