کیا یہ واقعی نارمل ہے؟
تحریر۔۔۔ عثمان بشیر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ کیا یہ واقعی نارمل ہے؟۔۔۔ تحریر۔۔۔ عثمان بشیر)صبح کی روشنی کھڑکی کے پردوں سے چھن کر کمرے میں اتر رہی تھی۔
رات کی خاموشی ابھی پوری طرح گئی نہیں تھی، مگر اس کی سختی میں کمی آ چکی تھی۔
منزہ آنکھیں کھولے چھت کو دیکھ رہی تھی۔
نیند پوری نہیں ہوئی تھی، مگر دل پر وہ بوجھ بھی نہیں تھا جو پچھلی راتوں میں ہوا کرتا تھا۔ شاید اس لیے کہ اس نے اللہ سے بات کر لی تھی۔ سجدے میں وہ باتیں کہہ دی تھیں جو کسی انسان کے سامنے کہنا ممکن نہیں ہوتا 😔۔
وہ آہستہ سے اٹھی تاکہ عثمان کی نیند خراب نہ ہو۔
یہ احتیاط اس کی عادت بن چکی تھی۔
اس نے اکثر خود سے پوچھا تھا: میں اتنی محتاط کیوں رہنے لگی ہوں؟
اور ہر بار یہی جواب ملا تھا: تاکہ بات نہ بڑھے۔
کچن میں داخل ہوتے ہی اسے کل رات لکھا ہوا وہ کاغذ یاد آ گیا۔
“میں مسئلہ نہیں ہوں۔
میں تھکی ہوئی ہوں۔”
وہ کاغذ اب بھی الماری میں رکھا تھا۔
منزہ نے سوچا، کیا میں واقعی مسئلہ نہیں ہوں؟ 💭
یہ سوال اس کے ذہن میں ایسے گھوم رہا تھا جیسے کوئی بند دروازہ، جس کے پیچھے کچھ ہے، مگر کھل نہیں رہا۔
چائے بناتے ہوئے اس نے خود کو غور سے دیکھا۔
آئینے میں وہی چہرہ تھا، وہی آنکھیں، مگر ان آنکھوں میں ایک نیا سوال تھا۔
وہ سوال جو الزام نہیں تھا، صرف جاننے کی خواہش تھی۔
عثمان ناشتہ کرتے ہوئے اخبار دیکھ رہا تھا۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا اور حسبِ معمول پوچھا،
“آج بچوں کا کیا پروگرام ہے؟”
“اسکول۔” منزہ نے جواب دیا۔
“اور تم؟”
یہ سوال نیا تھا۔
منزہ چند لمحے رکی۔
“گھر کے کام… بس۔”
عثمان نے اخبار پلٹ دیا۔
بات ختم۔
منزہ نے محسوس کیا کہ یہاں باتیں ختم نہیں ہوتیں، بس دب جاتی ہیں 😶🌫️۔
بچے اسکول چلے گئے تو گھر میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔
جوائنٹ فیملی میں خاموشی کبھی مکمل نہیں ہوتی، مگر اس دن منزہ کو وہ خاموشی اندر تک سنائی دے رہی تھی۔
اس نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا۔
یہ اس دن کا پہلا فیصلہ تھا جو اس نے کسی کو بتائے بغیر کیا۔
وہ بیڈ پر بیٹھ گئی اور موبائل اٹھایا۔
عام طور پر وہ اس وقت کپڑے سمیٹتی یا برتن دھوتی، مگر آج دل کچھ اور مانگ رہا تھا۔
اس نے سرچ بار میں لکھا:
“شوہر ہر بات میں بیوی کو غلط ثابت کرے”
چند لمحے گزرے۔
اسکرین پر الفاظ ابھرنے لگے۔
“Why do I always feel confused in my marriage?”
“Husband says I’m too sensitive”
“Emotional manipulation in marriage”
منزہ نے ایک ایک کر کے پڑھنا شروع کیا۔
ہر لائن کے ساتھ اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا 💔۔
یہ تو میری باتیں ہیں…
یہ تو وہی جملے ہیں جو عثمان کہتا ہے…
وہ ایک مضمون پر رک گئی۔
اس میں لکھا تھا کہ کچھ رشتوں میں مسئلہ چیخ و پکار نہیں ہوتا،
مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص آہستہ آہستہ دوسرے کی حقیقت کو مشکوک بنا دیتا ہے۔
منزہ نے موبائل نیچے رکھ دیا۔
اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
کیا یہ واقعی میرے ساتھ ہو رہا ہے؟
یا میں پھر بات کو بڑھا رہی ہوں؟
یہی وہ جگہ تھی جہاں وہ ہمیشہ رک جاتی تھی۔
دوپہر کو ساس کمرے میں آئیں۔
“منزہ، تم ٹھیک ہو نا؟ آج کچھ گم سم لگ رہی ہو۔”
منزہ نے فوراً مسکرا دیا۔
“جی، بس تھکن ہے۔”
ساس نے سر ہلایا۔
“دیکھو بیٹا، عورت کو سمجھداری سے گھر چلانا چاہیے۔ مردوں کو زیادہ سوچنے والی عورتیں پسند نہیں ہوتیں۔”
یہ جملہ نیا نہیں تھا۔
مگر آج اس کا اثر مختلف تھا۔
منزہ نے پہلی بار دل میں سوچا:
اگر سمجھداری کا مطلب خود کو ہی بھلا دینا ہے… تو پھر یہ سمجھداری کس کے لیے ہے؟ 💭
عصر کے بعد عائشہ گھر آئی۔
اس کے ہاتھ میں ڈائری تھی۔
“امی، آج ہمیں ‘Feelings’ پر لکھنے کو کہا تھا۔”
“کیا لکھا؟” منزہ نے پوچھا۔
عائشہ نے ڈائری کھولی۔
اس میں ایک جملہ تھا:
“Sometimes my home feels quiet but my heart feels loud.”
منزہ کے دل میں کچھ ٹوٹ سا گیا 😔۔
وہ جان گئی تھی کہ بات اب صرف اس کی نہیں رہی۔
رات کو عثمان گھر آیا۔
وہ حسبِ معمول دن بھر کی باتیں بتانے لگا۔
منزہ سنتی رہی، سر ہلاتی رہی۔
پھر اس نے آہستہ سے کہا،
“عثمان… کیا کبھی آپ کو لگا کہ ہم ایک دوسرے کو صحیح طرح نہیں سمجھ پا رہے؟”
عثمان نے چونک کر دیکھا۔
“یہ کیسی بات ہے؟ سب ٹھیک تو ہے۔ تم ہی ہر بات کو پیچیدہ بنا لیتی ہو۔”
منزہ نے اس بار فوراً معذرت نہیں کی۔
وہ خاموش رہی۔
یہ خاموشی مختلف تھی۔
یہ ڈر کی خاموشی نہیں تھی، یہ سوچ کی خاموشی تھی 🕊️۔
رات کو جب سب سو گئے،
منزہ پھر اللہ کے سامنے بیٹھی۔
“یا اللہ… اگر یہ سب نارمل ہے تو مجھے سکون دے۔
اور اگر یہ نارمل نہیں ہے…
تو مجھے سچ دیکھنے کی ہمت دے۔”
اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ سچ دیکھنا بھی عبادت ہے 🤍۔
وہ واپس بستر پر آئی تو دل میں ایک واضح احساس تھا:
ہر وہ رشتہ جس میں انسان خود پر شک کرنے لگے،
وہ رشتہ سوال مانگتا ہے، صرف صبر نہیں۔
یہ خیال خوفناک تھا،
مگر عجیب طرح سے ہلکا بھی۔
🔮 اگلی قسط میں کیا ہوگا؟
اگلی قسط میں منزہ پہلی بار ایک لفظ سنے گی
جو اس کے تجربے کو نام دے گا…
اور جب کسی تکلیف کو نام مل جائے تو خاموشی ٹوٹنے لگتی ہے۔
💭 کیا آپ نے کبھی خود سے یہ پوچھا ہے کہ “یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے؟”
اور کیا اس سوال سے آپ کو ڈر لگا یا کچھ وضاحت ملی؟
اسی طرح کی قسط وار کہانیاں، نفسیاتی رہنمائی، اور عملی سمجھ بوجھ ہم Ideal Life Counseling کے WhatsApp چینل پر باقاعدگی سے شیئر کرتے ہیں۔
📲 آئیڈیل لائف کونسلنگ کا چینل جوائن کرنے کے لیے یہاں کلک کریں:
👉 https://whatsapp.com/channel/0029Vage0N64tRrv0b1ZCM3S
آپ اکیلی نہیں ہیں۔
کچھ کہانیاں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں وہ سہارا بھی بنتی ہیں 🕊️۔
#IdealLifeCounseling
#UsmanBashir
#IdealLifePk
#NarcissisticMarriage
#EmotionalConfusion
#PakistaniWomen
#JointFamilySystem
#EmotionalHealing
#SilentStruggles
![]()

