کی محمّدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیـــرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جس طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفات کو مکمّل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا، اُسی طرح اُس کے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات و کمالات کو بھی احاطہِ تحریر میں نہیں لایا جا سکتا.
قرآن حکیم کی سورہ الانبیاء میں ارشادِ ربانی ہے کہ
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
ترجمہ : اور نہیں بھیجا ہم نے آپ (صلی الله علیه و آله وسلم) کو مگر سراپاِ رحمت بنا کر سارے جہانوں کے لیے.
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جن کمالاتِ صوری و معنوی، خلقی، وہبی و کسبی سے مشرف فرمایا ہے وہ بلا شک و شبہ بے مثال اور بے نظیر ہیں اور ان کمالات کو قرآن پاک کی آیاتِ طیبہ میں جس انداز سے بیان کیا گیا ہے اس کا جواب نہیں. ان آیات کو پڑھ کر اگر ایک طرف عبدِ محبوب کے مرتبہ کمال کا پتا چلتا ہے تو دوسری طرف ان کمالات کے بخشنے والے کی شانِ کریمی اور ادائے بندہ نوازی دیکھ کر بے ساختہ دل و زبان سبحان الله، سبحان الله کی صدا بلند ہوتی ہے. لیکن اس آیتِ کریمہ میں جو جامعیت ہے اس نے اس کو دیگر آیات سے ممتاز کر دیا ہے. جو کمالات اور صفاتِ عالیہ متفرق اور منتشر تھیں ان سب کو یہاں یکجا کر دیا ہے. اس آئینہ میں حُسنِ محمدی اور جمالِ احمدی کی ساری رعنائیاں اور دلربائیاں بکمال لطافت جلوہ نما ہیں.
ارشاد ہے اے محبوب جو کتاب مجید، دینِ حنیف، شریعتِ بيضاء خلقِ عظیم، آیاتِ بينات اور معجزات غرضیکہ جن ظاہری اور باطنی، جسمانی اور روحانی نعمتوں سے مالا مال کر کے ہم نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے اس کی غرض و غایت یہ ہے کہ آپ سارے جہانوں کے لیے، سارے جہان والوں کے لیے، اپنوں اور بیگانوں کے لیے، دوستوں اور دشمنوں کے لیے سراپا رحمت بن کر ظہور فرما دیں.
آپ خود غور فرمائیے کہ جن افراد نے یا جن قوموں نے حضور کے دامنِ رحمت کو تھاما، حضور کے لائے ہوئے دین کو صدقِ دل سے قبول کیا اور حضور کے پیش کردہ نظامِ حیات کو اپنی عملی زندگی میں اپنایا وہ لوگ کہاں سے کہاں پہنچ گئے. گمراہ تھے لیکن اس نورِ مبین سے اکتسابِ نور کرنے کے بعد ظلمت کدہ عالم میں ہدایت کے چراغ روشن کر گئے. جاہل تھے لیکن اس سرچشمہِ علم و عرفان سے سیراب ہونے کے بعد دنیا کے جس جس گوشہ میں گئے علم و حکمت کے چمن کھلاتے گئے. گنوار اور اجڈ تھے لیکن پاکیزہ تہذیب و تمدن کے بانی بن گئے. جہانگیری و جہانبانی کا ایک اچھوتا تصور دنیا کے سامنے پیش کیا جس میں کسی ایسے بادشاہ کی گنجائش نہیں جو مطلق العنان ہو. جو قانون کی گرفت سے بالاتر ہو جو سب کا محاسبہ کر سکے. لیکن اس سے باز پرس کرنے کی کسی کو اجازت نہ ہو بلکہ جو قوم و ملک کا سربراہ ہو گا اسے خلیفہ کہا جائے گا. جس کا معنی نائب ہے اور نائب وہ ہوتا ہے جسے کسی نے مقرر کیا ہو اور جس پر لازم ہو کہ وہ جو کچھ کرے گا اپنے مقرر کرنے والے کی منشا اور ہدایت کے مطابق کرے گا. ان رحمتوں سے وہ افراد اور قومیں سرشار ہوئیں جنہوں نے حضور کی رسالت کو تسلیم کیا اور حضور کے لائے ہوئے دین پر ایمان لانے کا شرف حاصل کیا.
لیکن جو لوگ اپنی کج فہمی کے باعث یا بے جا تعصب میں مبتلا ہو کر اس چشمہ سے براہ راست اور بلا واسطہ سیر کام نہ ہوئے وہ بھی اس فیضان سے دانستہ یا غیر دانستہ فیض یاب ہوتے رہے. آفتاب کی شعاعیں ہر وادی و کوہسار کو روشن کرتی رہیں حتی کہ وہ مذاہب جن کی بنیاد اصنام پرستی اور شرک پر تھی وہ بھی اپنے مشرکانہ عقائد میں ترمیم کرنے پر مجبور ہو گئے. چنانچہ ہندوستان میں آریہ سماج اور عیسائی دنیا میں پروٹسٹنٹ نظریات کا فروغ اس دعویٰ کی صداقت پر شاہد عادل ہیں. ملوکیت اور ڈکٹیٹر شپ کے نظام ہائے حکومت کی جگہ جمہوری اور شورائی طرزِ حکومت کی مقبولیت اسلام کے پیش کردہ نظریہ سیاست کی فتح نہیں تو اور کیا ہے. اور پھر یہ رحمت کیا کم ہے کہ اپنے فسق و فجور اور کفر و شرک کے باوجود پہلی قوموں کی طرح ان پر فوری عذاب نازل کر کے انہیں نیست و نابود نہیں کر دیا گیا.
یہ تو عالمِ ناسوت میں حضور کی گوناگوں رحمتوں کا ظہور ہے لیکن صرف یہاں ہی نہیں بلکہ عالمِ ملکوت میں بھی حضور کی رحمت کا پرچم لہرا رہا ہے. وہاں رحمتِ محمدی کے ظہور میں جو بانکپن ہے اور بحرِ کرم میں جو مٹھاس اور روانی ہے اس کا حال تو فقط وہ نفوسِ قدسیہ ہی جانتے ہیں جنہیں اس عالم کی سیاحت ارزانی ہوئی ہو.
غرضیکہ یہ وہ آفتاب ہے جس کی تابانیوں سے صرف عالم رنگ و بو ہی روشن نہیں بلکہ وہ جہانِ لطیف بھی درخشاں ہے جو رنگ و بو، کم و کیف، بالا و پست کے تعینات سے ماورا ہے. سچ تو یہ ہے کہ وہاں اس آفتاب کی نور فشانی کا رنگ ہی نرالا ہے جو نہ زبان پر لایا جا سکتا ہے اور نہ قلم سے لکھا جا سکتا ہے. اس رحمتِ عامہ کی برکتوں سے عقل بھی بہرہ ور ہے اور دل کی دنیا بھی شاد کام ہے.
ترجمانِ حقیقت، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب ترجمانی کی ہے،
لَوح بھی تُو، قلم بھی تُو، تیرا وجود الکتاب
گُنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
عالَمِ آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرّۂ ریگ کو دیا تُو نے طلوعِ آفتاب
شوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقرِ جُنیدؒ و بایزیدؒ تیرا جمالِ بے نقاب
شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب
تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غیاب و جستجو، عشق حضور و اضطراب
تِیرہ و تار ہے جہاں گردشِ آفتاب سے
طبعِ زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے
تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شب
مجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم نخیلِ بے رُطَب
تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کُہَن ہُوا
عشق تمام مصطفیٰؐ، عقل تمام بُولَہب
حضور کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تمام کائنات کے لیے رحمت ہونا اس اعتبار سے ہے کہ عالمِ امکان کی ہر چیز کو حسبِ استعداد جو فیضِ الہیٰ ملتا ہے وہ حضور کے واسطے سے ہی ملتا ہے، اسی لیے حضور کا نور تمام مخلوقات سے پہلے پیدا فرمایا گیا. حدیث شریف ہے کہ اے جابر سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تیرے نبی کے نور کو پیدا فرمایا. اور دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ دینے والا ہے اور میں بانٹنے والا ہوں.
وہ دانائے سُبل، ختم الرُّسل، مولائے کُلؐ جس نے
غُبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر
وہی قُرآں، وہی فُرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ
ہماری دائمی کامیابی حضور کی محبت اور اطاعت میں مضمر ہے، جتنا ہم پر اُن کی محبت کا رنگ گہرا ہو گا اتنے ہی ہم کامیاب ہوں گے. یہ صرف میرا ہی خیال نہیں ہے بلکہ جواب شکوہ کے آخر میں علامہ اقبال نے یہی بات کہی ہے
چشمِ اقوام یہ نظّارہ ابد تک دیکھے
رفعتِ شانِ ’رَفَعْنَا لَکَ ذِکرَْک‘ دیکھے
مزید فرماتے ہیں
عقل ہے تیری سِپَر، عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش! خلافت ہے جہاںگیر تری
ماسِوَی اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
تُو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
کی محمّدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو اپنے محبوب کی رحمت سے مزید نوازے اور اُن کی اطاعت میں زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین یا رب العالمین
![]()

