Daily Roshni News

 گناہوں کی جڑ تین چیزیں ہیں۔۔۔ترتیب و تحریر: شوکت اللہ شاکر

 (گناہوں کی جڑ تین چیزیں ہیں)

ترتیب و تحریر: شوکت اللہ شاکر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تمہیدی کلمات:انسانی زندگی میں گناہوں کا صدور ایک تلخ حقیقت ہے، مگر ہر گناہ کی ایک جڑ اور بنیاد ہوتی ہے۔ اگر اس بنیاد کو پہچان لیا جائے اور اس کا علاج کر لیا جائے تو بہت سے گناہوں سے خود بخود نجات مل سکتی ہے۔ اکابرینِ امت نے نہایت حکیمانہ انداز میں فرمایا: “اصولُ الخطایا ثلاثۃ” یعنی گناہوں کی اصل تین چیزیں ہیں: تکبر، حرص اور حسد۔ یہی وہ مہلک بیماریاں ہیں جنہوں نے انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کیا اور تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیا۔

✿ 1- تکبر: ابلیس کی تباہی کا سبب

تکبر وہ باطنی مرض ہے جس میں انسان اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وہ پہلا گناہ ہے جو کائنات میں سرزد ہوا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ﴾

(سورۃ البقرہ: 34)

“اس نے انکار کیا اور تکبر کیا، اور وہ کافروں میں سے ہو گیا۔”

ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے محض اس لیے انکار کیا کہ وہ اپنے آپ کو بہتر سمجھتا تھا۔ اس تکبر نے اسے عرش کی بلندیوں سے گرا کر ذلت کی گہرائیوں میں پہنچا دیا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔” (مسلم)

✔ عصرِ حاضر میں تکبر:

آج انسان اپنے علم، مال، عہدہ اور نسب پر فخر کرتا ہے، دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، حالانکہ یہی رویہ انسان کو اللہ سے دور کر دیتا ہے۔

✿ 2- حرص: جنت سے محرومی کا سبب

حرص یعنی حد سے زیادہ لالچ اور دنیا کی بے جا خواہش۔ یہی وہ بیماری ہے جس نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکلوایا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا﴾

(سورۃ البقرہ: 36)

“پھر شیطان نے انہیں وہاں سے پھسلا دیا۔”

شیطان نے انہیں لالچ دلایا کہ یہ درخت کھانے سے تم ہمیشہ زندہ رہو گے، چنانچہ اسی حرص نے انہیں لغزش میں مبتلا کیا۔

✔ آج کا انسان اور حرص:

آج کا انسان مال، جائیداد اور دنیاوی آسائشوں کے پیچھے اس قدر دوڑ رہا ہے کہ حلال و حرام کی تمیز کھو بیٹھا ہے۔ یہی حرص رشوت، دھوکہ دہی اور ظلم کا سبب بنتی ہے۔

✿ 3- حسد: انسانیت کا پہلا قتل

حسد وہ زہریلا جذبہ ہے جس میں انسان دوسرے کی نعمت کو دیکھ کر جلتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ نعمت اس سے چھن جائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ﴾

(سورۃ المائدہ: 30)

“پھر اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر دیا، پس اس نے اسے قتل کر دیا۔”

یہی حسد تھا جس نے قابیل کو اپنے بھائی ہابیل کے قتل پر اکسایا، اور یوں زمین پر پہلا خون بہا۔

✔ معاشرتی اثرات:

حسد رشتوں کو توڑتا ہے، محبت کو ختم کرتا ہے اور معاشرے میں نفرت اور عداوت کو فروغ دیتا ہے۔

✿ ان تینوں بیماریوں کا علاج:

✔ تکبر کا علاج: عاجزی اختیار کرنا، اپنی حقیقت کو پہچاننا کہ ہم مٹی سے بنے ہیں۔

✔ حرص کا علاج: قناعت اپنانا اور اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا۔

✔ حسد کا علاج: دوسروں کی نعمتوں پر خوش ہونا اور ان کے لیے برکت کی دعا کرنا۔

✿ خلاصۂ کلام:

تکبر، حرص اور حسد—یہ تینوں ایسی مہلک بیماریاں ہیں جو انسان کو نہ صرف دنیا میں رسوا کرتی ہیں بلکہ آخرت میں بھی ہلاکت کا سبب بنتی ہیں۔ اگر ہم اپنی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں ان بیماریوں کو اپنے دل سے نکالنا ہوگا اور ان کی جگہ عاجزی، قناعت اور خیرخواہی کو اپنانا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان باطنی امراض سے محفوظ فرمائے اور ہمیں پاکیزہ دل عطا فرمائے۔ آمین۔

مقام: اختر غونڈئ، بٹ خیلہ

تاریخ: 2026-03-28

Loading