ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )36 سال پہلے، 24 اپریل 1990 کو، انسان نے ایک ایسی “آنکھ” خلا میں بھیجی جو وقت کے پار دیکھ سکتی تھی…
یہ تھا ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ۔
یہ مشن ناسا اور یورپین اسپیس ایجنسی کا مشترکہ کارنامہ تھا، اور اسے خلائی شٹل اسپیس شٹل ڈسکوریکے ذریعے زمین کے مدار میں پہنچایا گیا۔
اس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ مشین صرف خلا کی تصاویر نہیں لے گی… بلکہ انسان کی سوچ بدل دے گی۔
شروع میں سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا…
لیکن پھر اچانک ایک حقیقت سامنے آئی—ایک ایسی حقیقت جس نے پوری دنیا کو چونکا دیا۔
ہبل کی سب سے اہم چیز، اس کا مرکزی آئینہ، معمولی سا خراب تھا۔
خرابی صرف 2.2 مائیکرون تھی… یعنی انسانی بال سے بھی باریک۔
لیکن یہی معمولی سی غلطی اس کی تمام تصاویر کو دھندلا کر رہی تھی۔
دنیا بھر میں اس کا مذاق اڑایا گیا…
اخبارات نے اسے ناکامی کہا…
اور کچھ لوگوں نے تو اسےسنکنگ آف دی ٹائٹینک جیسی بڑی تباہیوں کے ساتھ جوڑ دیا۔
ایسا لگ رہا تھا کہ اربوں ڈالر کا یہ منصوبہ ختم ہو چکا ہے…
لیکن پھر… انسان نے ہار نہیں مانی۔
1993 میں ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا گیا۔
خلانوردوں کی ایک ٹیم کو خلا میں بھیجا گیا، خلائی شٹل سپیس شٹل اینڈیور کے ذریعے…
یہ کوئی عام مشن نہیں تھا—یہ خلا میں تاریخ کی سب سے مشکل مرمت تھی۔
وہ خلا میں تیرتے ہوئے ہبل تک پہنچے…
اور وہاں انہوں نے ایک خاص آلہ نصب کیا، جسے کوسٹار کہا جاتا ہے—گویا ہبل کو ایک “چشمہ” پہنا دیا گیا۔
اور پھر وہ لمحہ آیا…
ہبل نے پہلی بار صاف دیکھا۔
جو تصاویر واپس آئیں… وہ انسان نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔
خلا اب سیاہ اور خالی نہیں رہا تھا…
بلکہ رنگوں، روشنیوں اور حرکت سے بھری ایک زندہ کائنات بن گیا تھا۔
ہبل نے ہمیں ستاروں کی پیدائش دکھائی…
مرتے ہوئے ستاروں کے دھماکے دکھائے…
کہکشاؤں کو ایک دوسرے سے ٹکراتے دیکھا…
اور بلیک ہولز کے گرد گھومتی گیس کو بھی قید کیا۔
پھر 1995 میں، ہبل نے آسمان کے ایک ایسے حصے کی طرف دیکھا جہاں بظاہر کچھ بھی نہیں تھا…
یہ تھا ہبل ڈیپ فیلڈ۔
کئی دنوں تک وہ اسی جگہ کو دیکھتا رہا…
اور جب تصویر سامنے آئی…
تو پوری دنیا دنگ رہ گئی۔
اس “خالی” جگہ میں ہزاروں کہکشائیں موجود تھیں…
ہر کہکشاں میں اربوں ستارے…
یعنی کائنات ہماری سوچ سے کہیں زیادہ وسیع تھی۔
وقت گزرتا گیا…
اور ہبل ہمیں ماضی دکھاتا گیا…
تحریر Reouter Click
![]()

