ہجرت اسلام کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور فیصلہ کن واقعہ ہے، جو نہ صرف دینِ اسلام کی بقا بلکہ اس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بھی بنا۔ مکہ میں آپؐ نے جب توحید کا پیغام پیش کیا تو قریش کے سرداروں نے شدید مخالفت شروع کر دی۔ ابتدا میں انہوں نے تمسخر، طعن و تشنیع اور سوشل بائیکاٹ کا راستہ اختیار کیا، لیکن جب اسلام پھیلنے لگا اور کمزور و مظلوم لوگ بھی اس دین کو قبول کرنے لگے تو کفار نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ مسلمانوں کو مارا گیا، بھوکا رکھا گیا، قید کیا گیا اور بعض کو شہید بھی کر دیا گیا۔ خود رسول اللہؐ کو بھی طرح طرح کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ آپؐ کے قتل کی سازش تک تیار کی گئی۔
جب حالات انتہائی سنگین ہو گئے اور مکہ میں دین کی تبلیغ اور مسلمانوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسول اکرمؐ نے ہجرت کا فیصلہ فرمایا۔ اس سے پہلے آپؐ نے اپنے اصحاب کو مدینہ جانے کی اجازت دی تاکہ وہاں ایک محفوظ اسلامی معاشرہ قائم ہو سکے۔ مدینہ کے لوگوں نے آپؐ کو دعوت دی تھی اور بیعتِ عقبہ کے ذریعے آپؐ کی نصرت کا وعدہ بھی کیا تھا۔ اس طرح ہجرت صرف ایک نقل مکانی نہیں تھی بلکہ ایک الٰہی منصوبہ تھا جس کے ذریعے اسلام کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی گئی۔
کفارِ مکہ نے جب دیکھا کہ مسلمان آہستہ آہستہ مکہ چھوڑ کر جا رہے ہیں اور رسول اللہؐ بھی ہجرت کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے ایک خفیہ مشورہ کیا جس میں یہ طے پایا کہ ہر قبیلے سے ایک ایک نوجوان لیا جائے اور سب مل کر ایک ہی وقت میں رسول اللہؐ پر حملہ کریں تاکہ خون کا بدلہ کسی ایک قبیلے سے نہ لیا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کو اس سازش کی خبر دی اور ہجرت کا حکم فرمایا۔
اسی موقع پر رسول اللہؐ نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا تاکہ دشمنوں کو یہ گمان رہے کہ آپؐ ابھی اپنے گھر میں موجود ہیں۔ حضرت علیؑ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس عظیم خطرے کو قبول کیا، حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ کفار رات کے وقت حملہ کر سکتے ہیں اور جان کا شدید خطرہ ہے۔ یہ ایثار اور فداکاری تاریخ میں بے مثال ہے کہ ایک جوان اپنی جان کو رسولِ خداؐ کے لیے خطرے میں ڈال دے۔
رسول اللہؐ رات کے وقت اپنے گھر سے نکلے جبکہ دشمن گھر کو گھیرے ہوئے تھے، لیکن اللہ کے حکم سے ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا اور وہ آپؐ کو دیکھ نہ سکے۔ آپؐ اپنے رفیق کے ساتھ مکہ سے نکلے اور غارِ ثور کی طرف روانہ ہوئے جہاں کچھ دن قیام فرمایا تاکہ دشمنوں کی تلاش سے محفوظ رہ سکیں۔ کفار آپؐ کی تلاش میں ہر طرف نکلے، یہاں تک کہ غار کے دہانے تک پہنچ گئے، مگر اللہ کی مدد شامل حال رہی اور وہ اندر جھانکنے کے باوجود بھی کچھ نہ دیکھ سکے۔
ہجرت کا سفر آسان نہ تھا۔ شدید گرمی، لمبا راستہ، دشمنوں کا خوف اور وسائل کی کمی، یہ سب مشکلات اس سفر کا حصہ تھیں۔ راستے میں مختلف مقامات سے گزرتے ہوئے آپؐ نے نہایت حکمت اور صبر کا مظاہرہ کیا۔ بعض مقامات پر دشمنوں نے تلاش کیا، بعض جگہ خطرات قریب آئے، لیکن ہر بار اللہ کی نصرت شامل حال رہی۔
دوسری طرف حضرت علی علیہ السلام مکہ میں ٹھہرے رہے تاکہ لوگوں کی امانتیں جو رسول اللہؐ کے پاس رکھی گئی تھیں، انہیں ان کے مالکان تک واپس کر سکیں۔ اس دوران آپؑ مسلسل خطرے میں رہے کیونکہ کفار کو جب معلوم ہوا کہ رسول اللہؐ جا چکے ہیں تو ان کا غصہ بڑھ گیا۔ اس کے باوجود حضرت علیؑ نے نہایت شجاعت اور امانت داری کے ساتھ اپنا فرض ادا کیا اور پھر بعد میں مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔
آخرکار رسول اللہؐ مدینہ پہنچے جہاں اہلِ مدینہ نے آپؐ کا شاندار استقبال کیا۔ یہ ہجرت اسلام کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز تھی، جہاں ایک اسلامی ریاست قائم ہوئی، دین کو آزادی سے پھیلانے کا موقع ملا اور مسلمانوں کو امن و سکون نصیب ہوا۔ ہجرت نے یہ واضح کر دیا کہ دین کی حفاظت کے لیے قربانی دینا اور مشکل حالات میں صبر و استقامت اختیار کرنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
![]()

