Daily Roshni News

ہزاروں سال پہلے قومِ عاد دنیا کی ایک طاقتور قوم تھی۔

ہزاروں سال پہلے قومِ عاد دنیا کی ایک طاقتور قوم تھی۔
وہ اپنی مضبوط عمارتوں، شاندار محلوں اور غیر معمولی طاقت کی وجہ سے مشہور تھی۔
پہاڑ تراش کر ایسی تعمیرات کرتی تھی کہ لوگ حیران رہ جاتے تھے۔ ہر طرف خوشحالی تھی، باغات تھے اور سرسبز بستیاں تھیں۔

مگر طاقت کے نشے میں وہ سرکش ہو گئی۔
اللہ کے نبی کی باتوں کا مذاق اڑانے لگی، نافرمانی بڑھتی گئی اور تکبر اُن کے دلوں میں بھر گیا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اُن پر عذاب کا فیصلہ فرمایا۔

سب سے پہلے بارشیں رک گئیں۔
زمین سوکھنے لگی، قحط پھیل گیا، مگر وہ پھر بھی نہ سمجھے۔

ایک دن انہوں نے آسمان پر ایک بڑا بادل دیکھا جو اُن کی طرف بڑھ رہا تھا۔
وہ خوش ہوئے اور کہنے لگے:

“یہ بادل بارش لائے گا اور ہماری زمین پھر سرسبز ہو جائے گی۔”

مگر وہ بادل رحمت نہیں، عذاب لے کر آیا تھا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“بلکہ یہ وہی عذاب تھا جس کی تم جلدی مچا رہے تھے، ایک ایسی آندھی جس میں دردناک عذاب تھا۔ وہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر رہی تھی، یہاں تک کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔”
(سورۂ احقاف 24-25)

قرآن نے اسے “ریحِ عقیم” کہا، یعنی ایسی تباہ کن ہوا جو جس چیز پر گزرتی اُسے بوسیدہ ہڈیوں کی طرح کر دیتی۔

بعض اہلِ علم نے اس کیفیت کو جدید دور کی تباہ کن شعاعوں سے تشبیہ دی ہے، مگر یہ صرف ایک اندازہ ہے۔
قرآن و حدیث میں کہیں بھی ایٹمی عذاب کا لفظ موجود نہیں۔

اصل سبق یہ ہے کہ
جب قومیں تکبر، ظلم اور نافرمانی میں حد سے بڑھ جاتی ہیں تو اللہ کا عذاب اچانک آتا ہے۔

انسان چاہے کتنی ہی ترقی کر لے،
اصل طاقت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔

اللہ ہمیں قرآن سے نصیحت لینے اور تکبر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲
Follow for more stories Esha Nadeem
#trendingnow #fb #fbpost #viralpost #moralstory

Loading