ہمیشہ اپنے بزرگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور ان کی نصیحت پر عمل کرنا چاہیے۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک گورو اپنے چیلے کے ساتھ شہر بیداد نگری پہنچے۔ اس شہر میں تمام اشیائے خوردنی کا بھاؤ ٹکے سیر تھا۔ گورو نے چیلے سے کہا کہ اس شہر سے بھاگ چلو، کیونکہ یہاں حفظِ مراتب کا کچھ لحاظ نہیں، لیکن چیلا اس بات سے بڑا خوش تھا کہ یہاں کھانے کی چیزیں ارزاں ہیں۔ بڑے مزے اور سکون سے زندگی بسر ہوگی۔
گورو نے کہا: تمہاری مرضی، ہمارا کام تو تمہیں سمجھانا تھا۔ چیلے کو ٹکے سیر حلوہ اور پوری ملی تو چند دن میں کھا کھا کر خوب صحت مند اور موٹا تازہ ہو گیا۔
خدا کی کرنی ایک دن ایک چور زیور چرانے کے الزام میں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ چور نے کہا: جنابِ والا! میں قصور وار نہیں، اگر صاحبِ زور ایسی عمدہ چیز کو گھر پر نہ رکھتا تو میں اسے کیسے چوری کرتا؟ چور بری ہو گیا اور زیور والا مجرموں کی طرح عدالت میں لایا گیا۔
اس نے عدالت کا یہ نرالا انداز اور چور کے بیانات کا عجیب ڈھنگ دیکھ کر عرض کیا کہ حضور! اگر سنار ایسا اچھا زیور نہ بناتا تو میں نہ خریدتا۔ اس کا قصور یہ ہے کہ اس نے ایسا اچھا زیور بنایا۔ چنانچہ زیور والا بری ہو گیا اور سنار کو پانی کی سزا کا حکم سنایا گیا۔
سنار نے بھی اسی طرح کا استدلال پیش کر کے براءت حاصل کر لی۔ اس طرح متعدد ملزموں کی پیشی کے بعد قرعۂ فال ایک ایسے شخص کے نام نکلا جو کوئی دلیل نہ دے سکتا تھا۔ اسے پھانسی کے تختے تک لایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ اتنا لاغر اور کمزور ہے کہ پھانسی کا پھندا اس کی گردن کو پکڑ نہیں سکتا۔
اس کی جگہ ایک موٹا تازہ بندہ پکڑ لیا گیا۔ یہ وہی چیلا تھا۔ چیلے نے دہائی دی کہ صاحب! میرا کیا قصور ہے؟ راجہ نے کہا: قصور تو کچھ نہیں، لیکن تو خوب موٹا تازہ ہے۔
اسی وقت اس کا گورو وہاں پہنچا اور کہا: اور کھا سکے سیر حلوہ پوری! تجھے کہا نہ تھا کہ یہ شہر بیداد نگری ہے، یہاں سے بھاگ چل، لیکن تو نہ مانا، اب اپنے کیے کی سزا بھگت۔
چیلے نے عجز و انکسار سے کہا: اب میری توبہ ہے کہ کبھی آپ کی مرضی کے خلاف نہیں کروں گا، مجھے کسی طرح بچا لیں۔
گورو نے فرمایا: خیر، اب جس طرح میں کہوں وہی کرو۔ میں کہوں گا کہ پہلے مجھے پھانسی دے دو، اور تم کہنا کہ نہیں، پہلے مجھے پھانسی دو۔
غرض! دونوں نے راجہ کے سامنے پھانسی کے لیے اپنا اشتیاق ظاہر کیا۔ راجہ بڑا حیران ہوا کہ لوگ تو پھانسی کے نام سے بھی ڈرتے ہیں اور یہ دونوں اس کے لیے بیتاب نظر آتے ہیں۔ اس نے تعجب سے پوچھا کہ تم دونوں ایک دوسرے سے زیادہ پھانسی کی خواہش کیوں کرتے ہو؟
گورو جی نے کہا کہ پھانسی کے لیے جو ساعت اور گھڑی مقرر کی گئی ہے، وہ بڑی خوش قسمت ہے۔ اس میں جو پھانسی چڑھے گا، سیدھا جنت میں جائے گا۔
یہ سن کر راجہ فوراً بولا: اگر یہ بات ہے تو پہلے ہمیں پھانسی دو۔ چنانچہ راجہ صاحب کو پھانسی لگ گئی اور یہ دونوں وہاں سے بھاگ گئے۔
پس ہمیشہ اپنے بزرگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور ان کی نصیحت پر عمل کرنا چاہیے۔
![]()

