“ ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے جو وہاں نہیں تو یہاں سی ”
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )باقی سارے کام اللہ کریم خود ہی کر دے گا۔ آپ اگر اللہ کو چاہتے ہیں تو آپ ایک جگہ اللہ کی نیت کر کے بیٹھ جائیں کہ یا اللہ ہم کہاں کہاں تجھے تلاش کریں، تو آپ ہی کرم فرما اور آسانی فرما! تو اللہ کی طرف سے خود بخود کوئی انتظام ہو جائے گا ایک آدمی آئے گا اور کہے گا کہ یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟ اور پھر وہ ایسی کوئی بات کرے گا کہ آپ کو سمجھ آجائے گی۔
وہ آپ کو سمجھائے گا کہ بیٹے کی شکل میں آپ کی آزمائش آ رہی ہے، اگر اس پر آپ نے ظلم کیا تو ظالم کہلائیں گے،
بیٹی کی شکل میں آپ پر خرچے کا تقاضہ آ رہا ہے،
ماں کی شکل میں آپ کو ادب سکھانے والی Agency ملی ہے،
دوست کی شکل میں وقت ضائع کرنے والا مہربان آ رہا ہے،
پیر کی شکل میں آپ کو اللہ کا راستہ دکھانے والا آ رہا ہے اذان کی آواز کی شکل میں اللہ کی طرف سے بلاوا آ رہا ہے اسی طرح آپ جنازہ دیکھتے ہو تو پھر آپ کو ادھر کا خیال آجاتا ہے۔ گویا کہ آپ کی زندگی کے محدود دائرے کے اندر سارے واقعات ہو جاتے ہیں۔ نفع نقصان، غم خوشی بغاوت، اطاعت سب کچھ اسی محدود دائرے میں ہو جاتا ہے۔ اپنے دائرے میں مکمل طور پر مشاہدہ کرو۔
آپ نے کسی باہر کی چیز کو Study نہیں کرنا۔ مثلا” یہ کتاب ہندوستان میں لکھی گئی ہے، کسی بزرگ نے لکھی تھی اور اس میں بڑے رموز ہیں۔ اس طرح رموز وغیرہ کام نہیں آتے۔ جو آپ کے ساتھ زندگی وارد ہے اس پر غور کرو، بیوی میں، بچوں میں پڑوسی میں، راہ چلتے مسافر ہیں، دروازه Knock کرنے والے مہمان میں اور دوسرے چھوٹے چھوٹے واقعات پر آپ غور کرو۔ اس میں پورے کا پورا عرفان ہے اور اس سے آپ کو ساری نصیحت مل جاتی ہے۔
عرفان کیسے ملتا ہے؟ مثلا اپنے گھر میں آپ جاگ رہے ہیں گھر آپ کا زمین پر ہے اور آپ رات کو جاگ کر روتے ہیں تو وہ آنسو جو آپ اللہ کی یاد میں گرا رہے ہیں یہ آنسو آسمان پر جاتے ہیں اگر چہ ہوتے آپ گھر میں ہیں۔ دعا آپ یہاں مانگ رہے ہیں اور جاتی عرش پر ہے۔ یا تو ہم یہ کہیں کہ عرش زمین پر ہے یا پھر ہم یہ کہیں کہ یہ خطہ آسمان پر ہے، مگر نہ وہ آسمان ہے اور نہ یہ زمین ہے بلکہ تیرا تعلق ہی سب کچھ ہے۔
تو گویا کہ آپ جہاں پہ تعلق بنا لو وہیں اللہ Available ہے۔ اب یہ آپ کا کام ہے کہ آپ کہاں تعلق بناتے ہیں اور آپ کا کام ہے کہ آپ اس کو کہاں اور کیسے پکارتے ہیں۔
“ ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے جو وہاں نہیں تو یہاں سی ”
تو یہاں وہاں کچھ نہیں ہوتا بلکہ اپنی نیت ہوتی ہے۔ اگر نیت اچھی ہو تو سارے واقعات اچھے ہو جاتے ہیں۔
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
گفتگو 6 صفحہ نمبر 198,199
![]()

