ہم جنسیت، اللہ نے ایسا ہی پیدا کیا تو؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )2006 کی بات ہے، میرے جونئیر نے فون کیا کہ ایک ضروری بات کرنی ہے۔ ہم دونوں اس وقت انگلینڈ میں تھے، اس نے کہا کہ اسکو اندازہ ہوا ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہے۔ میں بہت حیران ہوا کہ یار یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ہم تو کالج میں ایک ساتھ لڑکیوں کو گھورا کرتے تھے، تجھ کو تو اپنی کلاس فیلو سے عشق بھی تھا اور رشتہ بھیجنے کو تیار تھا پھر کیا ہوا؟ وہ یہی کہتا رہا کہ بس اب اسکو یقین ہوگیا ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہی ہے۔ کوئی دو گھنٹے کی بحث کا اختتام اس بات پر ہوا جب میں نے اسکو کہا کہ بھائی میں اسکو تمہارے لیے جائز نہیں بنا سکتا۔ یہ اسکا میرے ساتھ آخری رابطہ تھا۔
کل ایک اور بھائی نے ایسا ہی سوال پوچھا تو یہ بھولی ہوئی کہانی یاد آگئی۔ یہ بھائی بھی اسی وجہ سے پریشان ہیں اور اسی جبلی تقاضے نے انکے دین پر شکوک و شبہات میں بھی اضافہ کردیا ہے۔
یہ فطرت ہے:
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فطرتی تقاضا ہے اور کچھ انسانوں میں یہ اپنی جنس کی طرف ہوتا ہے۔ یہ مکمل پیدائشی بھی نہیں ہے، بچپن کی حرکتوں یا کسی ہولناک تجربے کے بعد بھی ایسا ممکن ہے کہ انسان اس تجربے کو اپنی سچائی سمجھ لے۔
وجہ کوئی بھی ہو، ہم جنسیت انسان کے اختیار میں نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وجہ سے اسکو جائز یا پسندیدہ بھی ہونا چاہیے؟
مجھ کو جنس مخالف پسند ہے مگر کیا یہ پسند صرف ایک عورت تک محدود ہے؟ ہرگز نہیں، بلکہ ہر مرد کو شادی شدہ ہونے کے باوجود دوسری خواتین جنسی کشش محسوس ہوتی ہے۔ عورتوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ تو پھر اس پر عمل فطرت کی آواز کیوں نہیں؟
بچوں کے ساتھ جنسی عمل بھی جینیٹک ہوتا ہے، ہے بھی اُسی فطرت کی آواز ہے بلکہ مارچ2023 میں اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ جنسی تعلق کے لیے بلوغت کی عمر کی قید انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جن اشخاص میں یہ جبلی تقاضہ ہو انکو باہمی رضامندی کے ساتھ اسکو پورا کرنے کی قانونی اجازت دینی چاہیے۔
یہ سلسلہ کہاں تک جا کر رکے گا؟ کوئی حد لگائی بھی جائے تو کس بنیاد پر؟
ایک اور پہلو سے سوچیے، کوئی ذہنی یا جسمانی معذور پیدا ہو تو کیا ہم اسکو چھوڑ دیں؟ کیا اسکو پیدائشی فطرت کہہ کر اسکو ایک نارمل زندگی دینے کی کوشش کیا فطرت کی خلاف ورزی ہوگی؟ نہیں تو کیوں نہیں؟
کیا اللہ ناانصافی نہیں کررہا؟
نا انصافی جب ہوتی کہ انسان کو کوئی اور ذریعہ نہیں دیا جاتا۔
جیسے اگر میں یہ کہوں کہ یا اللہ! مجھ کو عورتوں کی اتنی خواہش دے کر اس زمانے میں پیدا کردیا جب لونڈیاں نہیں رکھ سکتا، جب تو جانتا تھا کہ میں ایسا ہوں گا تو کیوں پیدا کیا مجھ اس زمانے میں؟ یہ واقعی ناانصافی ہے؟
ہر انسان اپنے زمانے کے لحاظ سے اس دنیا کے امتحان میں ڈالا جاتا ہے۔ زمانے کے لحاظ سے ہی اسکو دین پر عمل کرنا ہوگا۔ حرام کے ذرائع ہر زمانے میں موجود ہوتے ہیں بدل بدل کر۔ ان سے بچنا اور حلال تک محدود رہنا ہی آزمائش ہے۔
اللہ ارحم الراحمین ہے، وہ جانتا ہے سب کچھ۔ وہ ہم سے کامیابی نہیں مانگتا بلکہ ہماری بہترین کوشش کا تفاضہ کرتا ہے، ناکام بھی ہوئے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ دوبارہ کوشش کریں، بار بار کریں۔
اسلام میں اسکا کوئی حل نہیں:
اصل سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ اسلام میں ہم جنسیت کو “جائز “ بنانے کا کوئی حل نہیں۔ اگر ہم سے کوئی کہے کہ میں مجبور ہوں رشوت لینے پر، ملاوٹ کرنے پر مگر اسلام میں کوئی حل نہیں تو آپ کیا کہیں گے؟
ہم کسی ملک میں رہتے ہیں، آفس میں کام کرتے ہیں، فوج میں جاتے ہیں، ہر جگہ ہماری آزادی کچھ قوانین اور ڈسپلن کے تابع ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جب آپ نے اسلام کو بحیثیت دین قبول کرلیا تو آپ کو کچھ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
علاج کیا ہے پھر:
یہ کوئی بیماری نہیں ہے بس دماغ کی نفسیاتی بناوٹ کو صحیح زاویے پر ڈالنا ہے۔ اکثر ہم جنس پرست کہتے ہیں کہ جنس مخالف سے کوئی تحریک نہیں ملتی۔
دیکھیے اصل مسئلہ ہے دماغ سے چند کیمیکلز کا اخراج جو آپکے جذبات کو پرسکون کردے، یہ اخراج جسمانی رطوبتوں کے نکلنے سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر آپ کوئی تجربہ بار بار کریں گے تو دماغ اسی کو پہچان کر تحریک دینا شروع کردے گا۔
جیسے آپ اگر پاکستانی ہیں تو نہاری پائے کا سوچ کر بھوک محسوس ہوگی، اسکا تعلق آپ کے معاشرے سے ہے کسی پیدائشی فطرت سے نہیں۔ یہ بالکل بدلا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ہم جنس پرست اگر اپنی خواہش جنس مخالف سے پورا کرنا شروع کردیں تو کچھ عرصے کے بعد دماغ اس جنس مخالف میں ہی جنسی جذبے کی تسکین ڈھونڈ لے گا۔
کئی طرح کے بے جا ڈر ،جیسے سوئیوں کا ڈر، اندھیرے یا مکڑی کا ڈر ، دماغ کی ٹریننگ کرکے دور کیے جاتے ہیں۔ اگر ان کا علاج کرنا غلط نہیں تو پھر ہم جنسیت کا علاج کرنا بھی درست ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم جنسیت کو اپنے جذباتی وجود سے جوڑ کر سمجھتے ہیں اور اسکا پورا نہ کرنا اپنی ذات کی نفی سمجھتے ہیں، جبکہ ہم ہر وقت اپنی کسی نہ کسی جبلت، خواہش اور مرضی کے خلاف کام کررہے ہوتے ہیں اور اسکا احساس بھی نہیں ہوتا۔ اسکی وجہ صرف جذباتیت ہے اور کچھ نہیں۔
آخری بات یہ کہ اپنے دماغ کو سمجھیں، آپ جو بھی مسلسل سوچیں گے، عمل کریں گے، دماغ اسی کو نیچرل بنا دے گا۔ اگر اپنے دماغ کو مسلسل ہم جنسیت کی تحریک دیتے رہیں گے تو وہ اسی پر اصرار کرے گا۔بالکل ویسے جیسے ہم ٹشو پیپر سے پاخانہ صاف کرنا گندگی سمجھتے ہیں اور انگریز کہتے ہیں کہ اس جگہ کو تم لوگ ہاتھ کیسے لگا سکتے ہو؟ چینی کیڑے مکوڑے کتے بلی کھاتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ تم مسلمان کیوں نہیں کھاتے؟
فطرت صرف کھانا پینا اور افزائش نسل کرنا ہے۔ “کیسے” اور “کس طرح” کرنا ہے، یہ سراسر سماجی رویے اور معاشرتی زمانے اور رسم و رواج پر منحصر ہے۔
جتنی جلدی ممکن ہو شادی کیجیے۔ کچھ عرصے میں آپ کو جنس مخالف سے کشش پیدا ہوجائے گی۔ ہم جنسیت کبھی مکمل ختم نہیں ہوگی مگر قابو میں رہے گی۔ بالکل ویسے جیسے شادی کے بعد بھی دوسری عورتیں اور مرد اپنی جنسی کشش نہیں کھوتے۔Copied
![]()

